• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ اپنے دوستوں کے لیے سینڈو چ بنانے کی تیاری کر رہا تھا ۔اچانک اس کے گھر کا دروازہ پھر بجایا گیا۔الو چونک کر بولا:’’ اس بار ضرور میرے دوست پہنچ گئے ہیں ۔۔۔‘‘

وہ چھری وہیں رکھ کر دروازہ کھولنے چلا گیا۔

دروازہ کھولا ۔ مگر باہر کوئی بھی نہیں تھا۔

اب تو الو کچھ پریشان ہو گیا۔صرف پریشان نہیں ہوا ،جھنجھلا گیا۔پاگلوں کی طرح اپنا سر بجانے لگا،چلا کر بولا:’’ ضرور کوئی مجھے پریشان کر رہا ہے ،لیکن میں چھوڑوں گا نہیں،جو بھی خبیث ہوا اس کو پکڑ لوں گا، کچا کھاجاؤں گا نوچ نو چ کر ۔۔۔‘‘

شاید جو جو گلہرا یہی چاہتا تھا ۔وہ اسے غصہ دلانا چاہ رہا تھا۔اپنی کوشش میں کام یاب ہو گیا تھا ۔جوں ہی الو باورچی خانے میں دوبارہ پہنچا ،اسی وقت جوجو گلہرا حرکت میں آیا۔اس نے دونوں ہاتھوں میں اخروٹ اٹھا کر تڑا تڑ، الو کے گھر کے دروازے پہ مارنا شروع کر دیے ۔الو پاگل ہو گیا۔جنونی انداز میں بھاگتے ہوئے دروازہ چوپٹ کھول کر باہر نکل گیااور چلاتے ہوئے بولا:’’ میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں اب،میں نے تمہیں دیکھ لیا ہے ۔۔۔ ‘‘

وہ دیوانہ وار درخت کی طرف بڑھا،مگر جوجو گلہرا پھدک کر درخت پہ اچھلتے ہوئے بہت اوپر چلا گیا تھا۔

الو بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے درخت تک پہنچا۔اور اس وقت ۔۔۔ہاں اس وقت وہ میرے بارے میں بالکل بھول گیا،اسے یاد ہی نہیں رہا کہ وہ گھر کا دروازہ چوپٹ کھلا چھوڑ آیا ہے ۔

اسی وقت مجھے جوجو گلہرا کی چیختی ہوئی آواز سنائی دی :

’’ بھاگو خالو بھالو،بھاگو ۔۔۔‘‘

میں ایک لمحہ ضایع کیے بغیر ، دروازے سے نکلا،اپنا سامان اٹھایا ،اپنی زنبیل ،یعنی اپنا جھولا سنبھالا اور جھاڑیوں کی طرف دوڑ لگادی ۔اس سے پہلے کہ الو پلٹ کر واپس آتا ،میں جھاڑویوں میں گھس گیااور بھاگتا چلا گیا۔اتنی دور نکل گیا کہ الو کا مجھ تک پہنچنا اور مجھے پکڑ نا ناممکن ہو گیا۔ویسے بھی وہ مجھے کھلے جنگل میں اتنی آسانی سے نہیں پکڑ سکتا تھا۔

الو ،جوجو گلہرا کو پکڑ نے کے لیے درخت پر چڑھ رہا تھا،جو اس کی پہنچ سے دور تھا۔اس پہ ہنس رہا تھا۔اس نے مجھے گھر سے نکل کر بھاگتے دیکھا تو بوکھلا کر واپس گھر کی طرف آیا ،مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔

میں اس کی پہنچ سے بہت دور نکل گیا تھا ۔اب ا س کے ہاتھ آنے والا نہیں تھا ۔

جوجوگلہرا نے چلا کر الو سے کہا:

’’ مسٹر الو ۔۔۔ تم معصوم جان وروں کو بے وقوف بنا کر گھر میں بند کرلیتے ہو ۔۔۔اور کھا جاتے ہو ۔۔۔ مگر ا س بار غلطی سے ہمارے خالو بھالو کو پکڑ لیا ۔۔۔اس لیے تمہیں سبق سکھایا ۔۔۔آئندہ ہماے خالو بھالو کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی تواچھا نہیں ہو گا ۔۔۔‘‘

الو پیچ و تاب کھاتا رہ گیا۔

کچھ ہی دیر میں جوجو گلہرا میرے قریب پہنچ گیا،ہانپتے ہوئے بولا :’’ خالو بھالو ۔۔۔شکر ہے آپ کی جان بچ گئی،چلو میں اب آپ کے ساتھ کچھ دور تک چلتا ہوں۔‘‘جو جو گلہرا میرے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ہم دونوں چلتے ہوئے اس گھر سے کافی دور نکل گئے،پھر وہ جگہ آگئی جہاں سے جوجو گلہرا کو اپنے گھر کی طرف جانا تھا۔اس نے رکتے ہوئے کہا:’’ خالو بھالو۔اب میں یہاں سے اپنے گھر کی طرف جا رہا ہوں ۔‘‘

’’ ٹھیک ہے جوجو ۔۔۔تمہار ابہت شکریہ تم نے میری جان بچائی ۔۔۔‘‘

جو جو گلہرا بولا :’’ یہ تومیرا فرض تھا خالو بھالو۔۔۔میں آپ کے دوستوں اور گھر والوں کو بتاؤں گا کہ خالو بھالو سے میری ملاقات ہو ئی تھی،انہیں آپ کی خیر خیریت سے آگاہ کروں گا۔۔۔‘‘

’’ ٹھیک ہے ۔۔۔انہیں بتا دینا کہ مجھے ابھی تک چمتکار نہیں ملا ہے ۔۔۔ خوش نصیبی نے میرا ساتھ نہیں دیا ہے ۔۔۔میرے گٹھیا کا مرض ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔۔۔‘‘

’’ آپ بے فکر رہیں، میں انہیں بتا دوں گا کہ خالو بھالو اچھے نصیب کی تلا ش میں مزید آگے کی طرف گئے ہیں ۔‘‘

’’ ہاں ۔۔۔اور یہ بھی بتانا کہ میں بہت خوش ہوں، میرا ایک ایک لمحہ ایڈونچر میں گزر رہا ہے ۔۔۔مجھے زندگی کا اصل مزہ اب آرہا ہے ۔۔۔‘‘جوجو گلہرا مجھ سے رخصت ہو گیا۔میں نے اپنا سفر مزید آگے کی جانب شروع کردیا۔

زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ چلتے چلتے تھک گیا۔دھوپ کی شدت بھی بڑھ گئی تھی۔میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔یہاں سبزہ تھا ۔ہریالی تھی ۔درخت کی چھاؤں تھی۔سکون تھا ۔

بھوک لگ رہی تھی ۔دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا تھا۔میں نے اپنے سامان میں سے کھانا نکال لیا ۔سینڈوچ تھے جس میں گاجر کا مکھن تھا ۔ کچلے ہوئے آلو کا بھرتا تھا۔

ابھی میں کھانا کھا کر فارغ ہوا تھا۔کچھ دیر آرام کرکے دوبارہ سفر کرنے کا سوچ ہی رہا تھاکہ مجھے سامنے کی جانب جھاڑیوں میں ہلچل ہوتی محسوس ہوئی ۔ساتھ ہی کسی کی آواز سنائی دی :’’ ارے واہ ۔۔۔‘‘

آواز اونچی تھی،کسی نے چیخ کر کہا تھا ۔میں چونک گیا۔اس طرف دیکھتے ہوئے میں نے کہا:’’ کیا بات ہے،کون ہو تم،سامنے آؤ۔۔۔‘‘

جھاڑیوں میں ایک بار پھر کچھ ہلچل ہوئی ۔ مجھے لگا کہ میں ایک بار پھر کسی سنسنی خیز ایڈونچر کا سامنا کرنے والا ہوں۔ایک بار پھر کسی کی چیختی ہوئی آواز سنائی دی ۔

’’ ارے واہ ۔۔۔‘‘

میں اچھل کر کھڑ اہو گیا۔سامان کو ہاتھ میں تھاما اور بھاگ کر دوسری طرف کی جھاڑیوں میں گھسنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک جھاڑیوں میں سے ایک چھوٹا سا کتا نکل کر سامنے آگیا۔وہ سفید اور خوب صورت تھا۔اس کے جسم پر گھنگھریالے بال تھے ۔دیکھنے میں مجھے ذرا بھی خوف ناک محسوس نہیں ہوا۔

میں نے ڈر کر بھاگنے اور چھپنے کا ارادہ تبدیل کردیا۔کتے کا قد مجھ سے زیادہ اونچا نہیں تھا۔ وہ خاصا نرم خو اور نرم دل محسوس ہو رہا تھا ۔

وہ دھیرے دھیرے چلتے ہوئے میرے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔میں نے ذرا نرم لہجے میں پوچھا:’’ کیا بات ہے ۔۔۔کیا چاہتے ہو تم ۔۔۔؟‘‘

کتے نے کوئی جواب نہیں دیا۔ہلکے سے ذرا بھونکا اور پھر ادھر ادھر گھومنے لگا،کبھی ایک دو قدم دائیں گھومتا ،اور ہوا میں اچھل کر الٹی قلابازی کھاتا،پھر بائیں طرف ٹہلنے لگتا۔کبھی پنجے سے دایاں کان کھجاتا ،کبھی بایاں،پھر ادھر ادھر ماہر کرتب بازوں کی طرح ہوا میں الٹی قلابازیاں کھانے لگا،پھر ٹانگیں پھیلا کر اپنے بدن کو کھینچا اور ایک لمبی سی جمائی لیتے ہوئے میرے پیر چاٹنے لگا، یہ ظاہر کرنے لگا کہ وہ کوئی مغرور کتا نہیں ہے ۔اس نے کرتب دکھا کر مجھے خوش کرنے کی کوشش کی تھی ۔پھراس نے میرے جھولے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:’’ بھائی بھالو ۔۔۔ یہ بتاؤ گے کہ تمہارے پاس کھانے کو کیا کچھ ہے۔اور کیا بغیر دام دیے کچھ کھانے کو مل سکتا ہے۔۔۔مطلب ۔میں نے تمہیں تماشا دکھایا ۔۔۔تو تممجھے کچھ کھلاؤ گے ناں۔۔۔؟‘‘

میں نے مسکرا کر کہا:’’ میر ے پاس کھانے کی بہت سی چیزیں ہیں، تمہیں بھوک لگی ہے تو جو چاہو کھانے کو دے سکتا ہوں۔اس کے لیے تمہیں میرا دل خوش کرنے اور یہ مداریوں کی طرح کرتب دکھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔‘‘

کتا کچھ شرمندہ سا ہو گیا۔جھینپ کر دوسری طرف دیکھنے لگا۔میں نے مسکرا کر کہا:’’ ویسے تمہارے کرتب بہت اچھے تھے ۔۔۔کہاں سے سیکھا یہ سب کچھ تم نے ۔۔۔؟‘‘

کتا ذرا خوش ہو کر بولا :’’ میں یہ کرتب دکھا کر ہی آج تک پیٹ بھر پایا ہوں ۔۔۔یہ سب میں نے ایک سرکس میں سیکھا تھا ۔۔۔میں اس سرکس میں کام کرتا تھا،جب تک یہ کرتب نہیں دکھاتا تھا مجھے کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا ۔۔۔‘‘

میں نے اس کو بہ غور دیکھتے ہوئے پوچھا:’’اچھا۔۔۔ ویسے تمہارا نام کیا ہے ۔۔۔؟‘‘

کتے نے ہانپتے ہوئے کہا

:’’ مجھے سب پھدکو کہتے ہیں ۔۔۔‘‘

’’ پھدکو ۔۔۔؟‘‘

’’ ہاں،پھدکو۔میں سرکس میں اسی طرح پھدک پھدک کر کرتب دکھاتا ہوں ۔۔۔اس لیے پھدکو، کتا مشہور ہوں۔۔۔سرکس میں بڑا سا بورڈ لگا تھا ،جس پہ میری تصویر تھی ۔۔۔اس میرا نام پھدکو کتا ہی لکھا گیا تھا۔۔۔میرا کرتب دیکھنے بہت لوگ آتے تھے ۔۔۔‘‘

بہت معصوم سا اور سیدھا سادا بے ضرر سا کتا تھا ۔بھوک سے نڈھال ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔بری طرح ہانپ رہا تھا۔جانے کب سے یہاں جھاڑیوں میں چھپا بیٹھا تھا۔میں نے اسے کچھ کھانے کو دیااور اس کے قریب بیٹھ کر باتیں کرنے لگا ۔

میں نے اسے بتایاکہ میں اپنے لیے کسی چمتکار کی تلا ش میں نکلا ہوں۔۔ایک موذی مرض کا شکار ہوں ۔قسمت والے ہی اس مرض سے نجات پاتے ہیں،یوں سمجھ میں قسمت کی تلاش میں سرف پہ روانہ ہوا ہوں۔

پھدکو کتے نے کھاتے ہوئے کہا:’’ میں بھی کچھ ایسی ہی تلا ش میں سرکس سے بھاگاہوں ۔۔۔ایک کام کرتے ہیں ۔۔۔ہم دونوں ساتھ مل کر سفر کرتے ہیں،ممکن ہے ہم دونوں ہی کی قسمت بن جائے ۔۔۔‘‘

وہ ٹھیک کہہ رہا تھا ۔ایک سے بھلے دو ہوتے ہیں ۔جنگل میں اکیلے سفر کرنے سے بہتر تھا کوئی ساتھی ساتھ ہو۔میں نے فورا کہا :’’ ٹھیک ہے، ہم اب ساتھ آگے چلیں گے ۔۔۔‘‘

ابھی ہم باتیں کر رہے تھے کہ اچانک جیسے ہم پر حملہ ہو گیا۔سب کچھ پلک جھپکتے میں ہوا تھا۔ہمارے پیچھے کی جھاڑیوں میں سے اچانک ہی دو بڑے بڑے موٹے تازے لومڑ اچھل کر باہر آئے اور اس سے پہلے کہ ہم سنبھلتے ،ایک نے مجھے اور ایک نے پھدکو کتے کو گھیر لیا۔

دونوں لومڑ اب ہمارے سامنے کھڑے خوں خوار نظروں سے گھور رہے تھے ۔اور ہماری آنکھیں خوف سے پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں ۔

(جی بچو۔۔۔۔۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ پھر کیا ہوا۔۔۔؟)

کیا میں یعنی خا لو بھالو ۔۔اور پھدکو کتا ان لومڑوں کی خوراک بن گئے ۔۔۔؟کون تھے وہ لومڑ ۔۔۔۔؟کیوں انہوں نے ہم پر دھاوا بول دیا۔۔۔؟

کیا ہم ان کے شکنجے سے بچ نکلنے میں کام یاب ہو گئے۔۔۔؟

یہ جاننے کے لیے آئندہ ہفتے تک انتظار کریں ۔