• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پروفیسر مجید بیدار

ادب کا اطلاق ایسی تحریروں پر ہوتا ہے جو زبان و بیان اور اظہار کی خوبیوں اور تخلیقی خصوصیتوں سے وابستہ ہوں۔ کسی بھی ادبی تحریر میں تشبیہ، استعارہ ،محاورہ اور فن اور تکنیک کی خصوصیات کا شامل ہونا ضروری ہے۔ اگر ان ضرورتوں کی تکمیل کے بغیر صرف اخباری زبان کو بنیادی درجہ دے کر اطلاع بہم پہنچانے کی روش کو فروغ دیا جائے تو ایسی لکھی ہوئی تحریر کو ادب میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ 

سماجی حقیقتوں اور زندگی کی اونچ نیچ کے علاوہ احساسات اور تجربات کے بیان کے لئے ادب کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے ذریعہ شاعر، ادیب نہ صرف صنائع و بدائع کا استعمال کرتا ہے ،بلکہ تحریر کو ادبی وقار کی حیثیت سے نمایاں کرنے کے لئے فکر اور وجدان کو بھی کام میں لاتا ہے۔ تب ہی کوئی تحریر ادب کے دائرہ میں داخل ہوتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی ترسیلی زبان کو ادب کی نمائندہ صلاحیت میں شمار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ادب کا مقصد صرف ترسیل ہی نہیں،بلکہ ترسیل کےساتھ ساتھ اظہار میں تمام ادبی اور فنی محاسن کو شامل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ 

اور اگر کسی تحریر یا شعری فکر میں زبان و بیان اور اظہار کی خوبیوں کو شامل نہ کیا جائے تو ایسے فن پارے کو ادب کا حصہ قرار نہیں دیا جاتا بلکہ ادب کا اطلاق صرف ان تحریروں کیلئے مخصوص ہے، جن میں جدت پسندی ،نیرنگی، ایجادی صلاحیت اور زبان و بیان کی ہنرمندی شامل ہوں، اس اعتبار سے ادبی تحریروں میں نہ صرف تسلسل و تواتر برقرار رہتا ہے اور ابتداء سے آخر تک ہر ادبی تحریر اس طرح محسوس ہوتی ہے، جیسے ایک لڑی میں پھولوں کو پرو دیا گیا ہو، اس کا اطلاق نثر پرہی نہیں، بلکہ شاعری پر بھی ہوتا ہے،جب تک نثر کے جملوں اور فقروں اور شاعری کے اشعار اور اصناف کے دوران شامل ہونے والی لفظیات میں باہمی ربطہ قائم نہیں ہو گا یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ کہ ایسی نثر اور شاعری کو ادب کے دائرہ میں قبول کیا جائے۔ نثر کے مقابلے میں شاعری کے لئے زیادہ پابندیاں عائد ہیں۔ 

نثر کا اطلاق ایسی تمام تحریروں پر ہو گا جس میں علمی، ادبی، فنی اور تکنیکی خصوصیات کا استعمال قواعد کی رو سے کیا جائے۔ اس کے بجائے شاعری کے دوران نہ صرف شاعر کو وزن، بحر قافیہ ،ردیف اور زبان کے فطری وسیلوں کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شاعرانہ مزاج اور فکر کی نمائندگی بھی ضروری ہے، ورنہ شعر کسی بھی اعتبار سے شاعری کا وسیلہ نہیں۔ علم و عروض کی خصوصیت اور ہر لفظ کے آہنگ سے وابستہ ہوتے ہوئے شعری اوزان سے واقفیت ضروری ہے تب کسی شاعری کو ادب کے دائرہ میں شامل کیا جاتا ہے۔

ہر ادبی تحریر یا پھر شاعری میں ادبی خصوصیات کو محسوس کرنا اور ان کی خوبیوں کو بیان کرتے ہوئے اس کے متعلقات پر روشنی ڈالنا درحقیقت ادب کے اطلاق کی ایسی نشانی ہے کہ جس کی وجہ سے ادبی خصوصیات جلوہ گر ہوتی ہیں۔

تاریخ کی کتاب میں لکھی ہوئی تحریر، کیمیا اور طبیعات کے علاوہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر ،حساب ،جغرافیہ کے علاوہ طب اور قانون کی کتابوں میں لکھی ہوئی زبان کو کسی بھی اعتبار سے ادبی زبان کا درجہ نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس زبان کے ذریعہ کسی بھی عمل، رویہ یا پھر وجود کی تشریح کا کام انجام دیا جاتا ہے۔ 

ان مضامین میں تشریح اور وضاحت کا عمل ضرور کار فرما ہے۔ لیکن ادبی محاسن کاانداز شاید نہ ہونے کی وجہ سے ایسی تحریروں کو ادب کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ اس کے بجائے وہ تمام تحریریں جن میں تخلیق کا عنصر شامل ہوتا ہے اور شاعر یا نثر نگار زبان و بیان اور پیشکش کی خوبصورتی اور بے ساختگی کے علاوہ صنف اور فن کی خصوصیت کو شامل کرتا ہے تو پھر اس قسم کی تحریریں ہی ادب کا اطلاق ممکن ہے۔

ادب کے ذریعہ زندگی کی قربت ہی نہیں، بلکہ انسان کی زندگی کے ہر عمل کی نشاندہی مکمل طور پر تخلیقی انداز سے کی جاتی ہے۔بعض اوقات تخلیق کے بجائے تقلید کا رویہ بھی شامل ہو جاتا ہے۔ اس میں ادب کے تمام ضروری وسائل کوپیش نظر رکھنا اور زبان کی صحت کے ساتھ ساتھ اہل زبان کے اصولوں پر لب و لہجہ کی بھرپور نمائندگی کی طرف توجہ دینا ہی ادب کی خصوصیات میں شامل ہے۔ 

ادبی تحریر بلا شبہ ادبی معیارات کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ ادب کا معیار نہ صرف اظہار سے قائم رہتا ہے، بلکہ تحریر کے علاوہ تخلیق کی خصوصیت اور اس کی صنفی تکنیک سے مربوط ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ادب تحریر کرنے والا نہ صرف شعری و نثری اعتبار سے کسی نہ کسی صنف کی نمائندگی کی طرف توجہ دیتا ہے ۔تخلیقی سطح پر جدت طرازی، ندرت ،انوکھا پن، اور ایجادی صلاحیتوں کے کارفرما ہونے کی وجہ سے بھی ادب میں خوبی پیدا ہوتی ہے۔ اگر کوئی ادبی اصناف کی نمائندگی کرتے ہوئے مشرقی زبانوں کے اصناف جیسے مثنوی، مرثیہ،قصیدہ، رباعی ،غزل ،شہر آشوب اور ریختی کی طرف مائل ہے تو بلاشبہ تخلیق کار کے رجحان کو مشرقی انداز کا نمائندہ قرار دیا جائے گا۔ 

اس کے بجائے سانیٹ، ترائیلے ،ہائیکو ،گیت، دوہے اور نظم کے انداز کو اختیار کیا جائے تو اس قسم کی شعری اصناف کو مغربی شعری اصناف کا درجہ دیا جائے گا۔نثری اصناف میں داستاں کو مشرقی نثری صنف کا درجہ حاصل ہے جبکہ ناول، افسانہ ،ڈراما اور ناولٹ کو مغربی نثر اصناف کی حیثیت سے اہمیت حاصل ہے۔ غیر افسانوی نثر کی بیشتر اصناف مغربی انداز کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ تذکرہ، سوانح ،سفرنامہ اور آپ بیتی جیسی اصناف کا بلاشبہ مشرقی غیر افسانوی نثر سے وابستہ کیا جاتا ہے۔

اردو زبان کو عالمی سطح پر مقبولیت حاصل ہے،اس زبان نے عالمی سطح پر موجود مختلف زبانوں کے ادبیات کی اصناف سے استفادہ کیا ہے، اس لئے اردو زبان کو ایک عالمگیر زبان ہی نہیں، بلکہ عالمی سطح پر مشہور زبانوں کی اصناف سے استفادہ کرنے والی زبان اور اس کے ادب کی نمائندگی کرنے والی اہم ادبی خصوصیت کی حیثیت سے اہمیت حاصل ہے،اس لئے اردو ادب پر عالمی ادبی اصولوں کے علاوہ شعری و نثری معیارات کا اطلاق بھی جاری ہے، چنانچہ اردو ادب اچھے معیار کو بول اور ناپسند معیار کو ترک کر کے ادب کی موجودہ صورت گری کا حق ادا کر رہا ہے۔

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ تازہ ترین موضوعات پر مبنی ہو، ساتھ اُن میں آپ کی دل چسپی کے وہ تمام موضوعات اور جو کچھ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، شامل اشاعت ہوں، خواہ وہ عالمی منظر نامہ ہو یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رپورٹ ہو یا فیچر، قرطاس ادب ہو یا ماحولیات، فن و فن کار ہو یا بچوں کا جنگ، نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔ 

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے، آپ ہمارے صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی، تاکہ ان صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مطابق مرتب کرسکیں۔ ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ، بچوں کا جنگ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ، اخبار منزل،آئی آئی چندیگر روڈ، کراچی