• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بریڈفورڈ میں مقیم 1500 یورپی شہریوں کی برطانیہ میں قیام کیلئے درخواستیں مسترد، فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل

بریڈفورڈ (محمد رجاسب مغل ) بریڈفورڈ میں مقیم یورپی یونین کے 1500 شہریوں کی برطانیہ میں قیام کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں ہوم آفس کی طرف سے شائع کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 1 ہزار560 افراد جو اصل میں یورپی یونین کے ممالک سے ہیں کو بتایا گیا ہے کہ وہ مزید اس شہر میں نہیں رہ سکتے انہوں نے 30 ستمبر تک سیٹلڈ یا پری سیٹل اسٹیٹس کے ساتھ بریڈ فورڈ میں رہنے کے لیے درخواست دی تھی لیکن ان کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں یہ مسترد ہونے والی تمام درخواستوں کا 4.1 فیصد ہے، جو ویسٹ یارکشائر میں سب سے زیادہ تعداد ہے اور برطانیہ میں 16 واں سب سے زیادہ تناسب ہے بریڈ فورڈ میں رہنے کے لیے درخواست دینے والے 38 ہزار460افراد میں سے 20 ہزار630افراد کو قیام کی اجازت ملی جو حکومت کے معیار پر پورا اترتے ہیں اور پانچ یا اس سے زیادہ برسوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور اب وہ غیر معینہ مدت تک برطانیہ میں رہ سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر 14 ہزار50 افرادنے پہلے سے سیٹل اسٹیٹس حاصل کیا جو برطانیہ میں کم وقت کے لیے مقیم رہے اور اب وہ مزید پانچ سال تک رہ سکتے ہیں اور بعد میں مکمل سیٹل اسٹیٹس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں مزید 750 درخواستیں واپس لے لی گئیں یا کالعدم قرار دی گئیں اور 1 ہزار470کو غلط قرار دیا گیا قیام کے لیے سلواکیہ کے شہریوں نے سب سے زیادہ درخواستیں دیں، جن کی تعداد 10 ہزارسے زیادہ ہے، اس کے بعد پولینڈ (9 ہزار330) اور رومانیہ (3 ہزار80) کے شہریوں نے درخواستیں دیں جو اب ضلع میں رہتے ہیں درخواست دہندگان جو ناکام رہے وہ اپنی درخواست کے نتیجے کو چیلنج کرنے کے لیے اپیل کر سکتے ہیں برطانیہ میں قیام کی درخواستوں کے حوالے سے لندن بوروز فہرست میں سرفہرست ہیں مشرقی لندن میں نیوہم نے 137,080 کے ساتھ سب سے زیادہ درخواستیں دیں اور ان میں سے 96.9 فیصد کو منظور کیا گیا مڈ ڈیون اور مڈلزبرو نے درخواستوں کا سب سے زیادہ تناسب 6.1 فیصد مسترد کیا سیٹلمنٹ اسکیم مارچ 2019 میں شروع ہوئی تاکہ یورپی یونین کی رکنیت کے ریفرنڈم کے نتیجے کے بعد برطانیہ میں رہنے والےیورپی یونین کے شہریوں کی امیگریشن کی حیثیت کو منظم کرنے کی کوشش کی جا سکے ۔تھری ملین کمپئین گروپ جو یورپی یونین کے شہریوں کے حقوق کے لیے لڑتا ہے، نے کہا کہ وہ درخواست دہندگان جن کے کیس غیر یقینی صورت حال میں ہیں کے بارے میں فکر مند ہے کہ ان کی اپیلیں کب سنی جاتی ہیں۔ تھری ملین کمپئین میں پالیسی اور ریسرچ آفیسر مونیک ہاکنس نے کہا کہ بہت سے لوگ درخواست اور اپیل کے نتائج کے انتظار میں اپنی ملازمت یا کرائے کے مکانات سے محروم ہو گئے ہیں اور ان میں بہت سے لوگ ہیلپ لائنز تک پہنچنے کے قابل نہیں ہوتے کہ وہ اپنی درخواستوں پر پیشرفت کے حوالے سے جان سکیں ان لوگوں کے لئے جن کو انکار کر دیا گیا ہے، انتظامی نظرثانی اور اپیل کے عمل کو ان کی اپنی طویل تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہم لوگوں کو ان کی قانونی حیثیت کے ساتھ متحد کرنے میں لگنے والے وقت ، برطانیہ میں رہنے اور کام کرنے کے ان کے حقوق کے بارے میں بہت فکر مند ہیں اگرچہ یہ اسکیم باضابطہ طور پر 30 جون کو بند ہو گئی ہے، لیکن یورپی یونین کے شہری جن کی ڈیڈ لائن سے محروم ہونے کی محدود معقول بنیادیں ہیں وہ اب بھی اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ ہوم آفس نے کہا ہےکہ جن لوگوں کی درخواست زیر التوا ہے وہ محفوظ ہیں جبکہ ان کی درخواست کا نتیجہ معلوم نہیں ہے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سیٹلمنٹ سکیم ایک زبردست کامیاب رہی ہے جس میں 6.3 ملین درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور 5.5 ملین لوگوں کو اب تک رہنے کی اجازت دے دی گئی ہےتاہم بعض درخواستوں کو اہلیت یا مجرمانہ بنیادوں پر مسترد کیا جا سکتا ہےاور اگر انکار شدہ درخواست دہندہ ہمارے فیصلے سے متفق نہیں ہے تو وہ انتظامی نظرثانی یا اپیل کے لیے درخواست دے سکتے ہیں ۔
یورپ سے سے مزید