• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں ہرانے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا، رمیز راجا


چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) رمیز راجا نے کہا ہے کہ آسٹریلیا سے مٹی اور پچز منگوا رہے ہیں، جب تک آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں نہیں ہرائیں گے چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) رمیز راجا نے کہا ہے کہ ہر انٹرنیشنل میچ کے لئے اتنا ہی زور لگائیں گے جتنا پاکستان سپر لیگ( پی ایس ایل) کے لئے لگایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں عہدہ سنبھالتے ہی کئی چیلنجز کا سامنا رہا، ٹی 20 ورلڈ کپ اور پھر غیر ملکی ٹیموں کا واپس جانا بڑے چیلنجز تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ واپس گئی اور انگلینڈ نے انکار کیا تو ایشین کونسل میں آواز اٹھائی، اجلاس میں یہ بات کی کہ کسی ایشین ملک کے ساتھ زیادتی ہو تو سب کو کھڑا ہونا چاہیے، نیت ٹھیک ہو تو تمام چیزیں ٹھیک ہوتی ہیں۔

رمیز راجا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے دنیا کے سامنے پاکستان کا مؤقف رکھا اور ہم کامیاب ہوئے، ہم نے تمام چیزوں کو ایک طرف رکھ کر کرکٹ پر بات کی، خدا کا شکر ہے تمام چیزیں ٹھیک ہوگئیں۔

انہوں نے کہا کہ کوچز کا کام ٹیم کا ماحول بنانا اور ٹریننگ کروانا ہے، ٹیم نے اوپر جانا ہے تو لیڈر کو نڈر ہونا ہوگا، کرکٹ میں لیڈر شپ بہت اہمیت رکھتی ہے، اوپر جانے کیلئے لیڈر بہت اہمیت رکھتا ہے، قومی ٹیم کی فیلڈنگ کو بہتر بنانا ہوگا۔

پی سی بی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ میرا مقصد ہے نوجوان لڑکوں کو کرکٹ میں لاؤں، اسکول کرکٹ بہت اچھی چل رہی ہے، جلد 100 اسکول کے بچوں کا پلان لارہے ہیں، ان بچوں کو ماہانہ 30000 روپے دیں گے۔

چیئرمین کرکٹ بورڈ رمیز راجا نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف میچز میں شائقین کی کمی محسوس ہوئی، شائقین کو اسٹیڈیم میں لانے کیلئے ایک شعبہ بنا رہے ہیں، شائقین کو سیکیورٹی کے تین چار مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے جو ذرا مشکل ہوجاتا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ کرکٹ بورڈ میں آئے تین ماہ ہوئے ہیں لیکن لگتا ہے 30 سال ہوگئے اور یہاں آکر چھٹی کی نعمت کا اندازہ ہوا، برا بھلا کہا جائے گا تو واپس چلا جاؤں گا، ابھی تک تو برا بھلا کم کہا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی سی بی بورڈ آف گورنر کا اجلاس بہت طویل تھا، زندگی میں پہلی بار نو دس گھنٹے کی میٹنگ کی ہے۔

رمیز راجا نے یہ بھی کہا کہ کوچز پر میری کوئی حتمی رائے نہیں ہے، کوچز کے ساتھ لمبے کنٹریکٹ کرتے تو پھنس جاتے ہیں، ہمیں کوچز نہیں اسپیشلسٹ کی ضرورت ہوگی، کوچز نچلی سطح پر لگائے جائیں تو زیادہ بہتری ہوگی، غیر ملکی کوچ یا ملکی کوچ لانے کا فیصلہ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی ٹیموں پر واضح کردیا ہے کہ فل اسٹرینتھ کے ساتھ ٹیمیں پاکستان بھیجیں، فینز کو معلوم ہے کون سے ٹاپ پلئیرز آرہے ہیں، نیشنل ہائی فارمنس سینٹر میں 70 کمرے بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ٹیموں کی آمدورفت پر سڑکیں بند ہو جانا زیادتی ہے۔

چیئرمین کا یہ بھی کہنا تھا کہ بائیو سیکور ببل کیلئے پی ایس ایل میں پورا ہوٹل بک کرایا ہے، پاکستانی گراؤنڈز میں معیاری سامان نہیں ہوتا، ہمارے گراؤنڈز ایک بارش برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید