• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موبائل کمپنی کے 4 جی استعمال سے اربوں کا نقصان، پی ٹی اے کی وضاحت، نمائندہ جنگ خبر پر قائم

اسلام آباد( پ ر۔کامرس رپورٹر) پی ٹی اے نے روزنامہ جنگ میں19جنوری 2022کو شائع خبر’’ پی ٹی اےنےموبائل کمپنی کو 4جی استعمال کی اجازت دیکر اربوں کانقصان کیا‘‘کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خبر کے مندرجات حقائق پر مبنی نہیں ، یہ آڈٹ کی بعض رپورٹس سے اخذ کی گئی ہیں جن کے تفصیلی جوابات پی ٹی اے پہلے ہی آڈٹ اور اس سے متعلقہ دیگرفورموں کو دے چکا ہے۔ 18 جنوری 2022 کو منعقدہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں وارد موبائل کمپنی کو فور جی کی اجازت دینے سے متعلق پیرا پر تفصیلی تبادلہ خیال نہیں ہوسکاتھا۔ تاہم پی ٹی اے کی پوزیشن واضح ہے کہ نیکسٹ جنریشن موبائل نیٹ ورکس کے تمام لائسنس ٹیکنالوجی نیوٹرل ہوتے ہیں،وارد نےاپنی 4 جی خدمات اسی حکومتی پالیسی کے تحت شروع کی تھیں لہذا قومی خزانے کو نقصان سے متعلق آڈٹ کا اعتراض درست نہیں۔اسی طرح 18 ارب 42 کروڑ روپے کی ٹی بل میں سرمایہ کاری سے متعلق پی ٹی اے بتاچکاہے کہ یہ سرمایہ کاری نیشنل بینک کے ذریعے نومبر2011 سے لیکرجون2013 کے دوران منافع کی غرض سے کی گئی جس پر11.87 فیصدمنافع حاصل ہوا جبکہ اگر یہ رقم ندا اکاوٗنٹ میں جمع ہوتی تو 10فیصد منافع ملتا۔ اس عمل سے خزانے کو فائدہ پہنچایا گیا۔ اسی طرح یو ایس ایف کے2.3 ارب روپے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرائے گئے تھے جس پر چیئرمین پی اے سی سب کمیٹی نے ہدایت دی کہ وزارت آئی ٹی،فنانس منسٹری اور پی ٹی اے اجلاس کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرلیں، پی ٹی اے نے وضاحت کی کہ 521 ملین روپے میں سے 451 ملین روپے تنخواہوں اور ضروری دفتری اخراجات پر صرف ہوئے جبکہ کوئٹہ میں تعمیر سے متعلق پی ٹی اے نے بتایا یہ قواعد وضوابط اور پیپرا رولز کے مطابق مکمل کیاتھا۔ دیگر پیروں کے حوالے سے بھی پی ٹی اے اپنا وضاحت سے دے چکا ہے جبکہ خبر میں پی ٹی اے کے موقف کا کوئی ذکر نہیں جو صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔ دریں اثنا نمائندہ جنگ نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ کمیٹی کے اجلاس میں جو آڈٹ پیراز اٹھائے گئے اس کی خبر فائل کی گئی ہے، میں اپنی خبر کی درستگی پر قائم ہوں ، پی ٹی اےکا موقف بھی خبر میں دے دیا گیا تھا۔

ملک بھر سے سے مزید