• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حرف بہ حرف … رخسانہ رخشی ، لندن
پچھلے ہی دنوں برطانیہ میں جہاں کورونا اور اومی کرون کا خوب چرچا رہا کہ وہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے، روزانہ کی تعداد میں کیسز بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں تو وہیں شہزادہ اینڈریو اپنے اسکینڈل کے ہاتھوں مشکل میں نظر آئے حالانکہ بہت سے لوگ دنیا میں بڑے بڑے گناہ کرتے ہیں مگر وہ اتنی دھوم، غلفلہ اور پھر جہان بھر میں شہرت نہیں پاتے جتنی شہرت اینڈریو کے حصے میں آئی۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ اینڈریو نے کیا کیا، ہم تو یہ جانتے ہیں کہ یہاں کون کیا کیا نہیں کرتا مگر شہرت یافتہ گھرانوں کی یہ بدبختی ہوتی ہے کہ ان کے گھرانوں کی چھینکیں اور بخار بھی گنے جاتے ہیں ان کے چھوٹے سے لیکر بڑوں تک کی سرگرمیوں پر نظر ایسے رکھی جاتی ہے جیسے پاپا رازی رکھتے ہیں۔ ورنہ دنیا میں کھلے عام ور پس پردہ کیا نہیں ہوتا۔ ویسے تو برطانوی شاہی محل کسی بھی قسم کی محلاتی سازش سے عاری ہے جیسا کہ دوسری دنیا کی تاریخ کی محلاتی سازشوں سے تاریخ بھری پڑی ہے کہ مغلیہ خاندان کی آپسی چپکلش، خون خرابے، باپ بیٹوں کی حکمرانی کے جھگڑے، قیدوبند اور جانے کیا کیا کہ ایک ماں نے اپنے بیٹے کے اقتدار کیلئے بادشاہ کی دوسری بیویوں کی اولاد کو زہر دیدیا، پھر یا تو محلاتی سازش سے اسے عمر بھر قید خانے میں رکھا۔ مگر شکر ہے کہ برطانوی شاہی خاندان اس قسم کی خرافات سے بہت دور ہے، وہ عہدے اولاد اور ان کی اولاد کو دیکر بھی چھین لیتے ہیں، عوامی دبائو میں آکر نہیں بلکہ خاندانی اور شاہی اصولوں کی بنیاد پر فیصلے اور حکم صادر کئے جاتے ہیں۔ ہیری اور میگھن مارکل کی شادی کے بعد جس قسم کے حالات پیدا ہو گئے تھے اس میں شاہی فرمان جاری ہوا تھا کہ ’ہیری، میگھن اور آرچی ہمیشہ شاہی خاندان کے عزیز رکن رہیں گے‘۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہنا تھا کہ شہزادہ ہیری اور انکی اہلیہ میگھن آئندہ شاہی خطابات استعمال نہ کرسکیں گے۔ نیز یہ کہ شاہی فرائض کی انجام دہی دے ملنے والے عوامی فنڈز بھی انہیں نہ ملیں گے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ ہیری اور میگھن کے پاس ڈیوک اینڈ ڈچز آف سیکس کے خطابات تھے جو انہیں واپس کرنا پڑے۔ ویسے تو ہم نے ذکر کیا کہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ محلاتی سازش کے تحت ملکائیں اپنے بچوں سے علاوہ کسی کو بھی تخت شاہی کے قابل نہیں سمجھتی تھیں پھر یہ کہ انکی تمام زندگی ایسی سازشوں اور کشمکش کی نظر ہو جاتی تھی۔ مگر ملکہ برطانیہ نے ہمیشہ شاہی اصولوں کے تحت زندگی گزاری ماضی کی ملکائوں کیطرح صرف آرام و آرائش سہل پسندی اور تخت و تاج کے لالچ میں نہ رہیں بلکہ اپنے حصے کے کام نمٹاتی رہیں اور ابھی بھی کرتی ہیں۔ دو تین سال پہلے ملکہ کی طبعیت ناساز ہوئی تو آپ نے سستی کو مات دیکر تھوڑے آرام کے بعد آفس کا کام سنبھال لیا۔ ملکہ ایلزبتھ کیلئے کورنش بجا لانے کو اسی لئے جی چاہتا ہے۔ وہ ایک ماں ہیں جنہوں نے اپنی گود میں بہت سی قوموں کے بچے بٹھا رکھے ہیں اپنے بچوں اور انکے بچوں سے علاوہ بھی۔ ملکہ ایلزبتھ کو سب سے طویل عرصے شاہی حکمرانی کا اعزاز بھی حاصل ہے وہ صرف 11 سال کی تھیں جب انکے والد کی تاج پوشی ہوئی تھی اور اسکے 16 سال بعد 2 جون 1953ء کو ایلزبتھ دوم کے سر پر ملکہ برطانیہ کا تاج سجایا گیا تھا۔ ملکہ کے اصول و قواعد پر اسکی مامتا بھی قربانی مانگتی ہے وہ اپنے شاہی اصولوں پر اپنی مامتا کو ترجیح نہیں دیتیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ شہزادہ اینڈریو کے خلاف جنسی اسکینڈل کیس کی سماعت کی اجازت کیساتھ ہی ملکہ نے شہزادے سے ان کے اعزازی فوجی عہدے اور شاہی سرپرستی واپس لے لی ہے۔ شاہی محل سے یہ فرمان جاری ہوا ہے کہ ڈیوک آف یارک پرنس اینڈریو اب اپنے کیس کا دفع ایک نجی شہری کے طور پر کرینگے۔ یہ بھی کہ اب وہ ہزرائل ہائنس (HRH) کے خطاب سے بھی محروم کر دیئے گئے۔ حالانکہ شہزادہ اینڈریو نے محض 19 سال کی عمر میں بطور تربیت بحری جہاز اور بعد میں طیارہ برداری میں خدمات انجام دیں۔ پھر وہ فوج کیساتھ محاذ پر بھی گئے اور قابل ذکر ایک واقعہ ہے کہ جزائر فاک لینڈ کی جنگ میں حصہ بھی یا۔ پرنس اینڈریو ان دنوں جوان تھے 1982ء کی بات ہے کہ برطانیہ اور ارجنٹائن نے جزیرہ فاک لینڈ کیلئے لڑائی لڑی۔ اب سننے کی بات ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کے بچے جسقدر اپنی طاقت کا اور دولت ک ابے دریغ استعمال کرتے ہیں پھر اس پر طرہ یہ کہ کوئی محنتی کام نہیں کرتے، عیاشی میں زندگی گزارتے ہیں تو وہیں پر شاہی خاندان سے عالوہ یہاں کے امراء کے بچے بھی سبھی فوج کی ٹریننگ کیلئے ضرور جاتے ہیں کہ اصولوں پر اولاد کیلئے بھی سمجھوتا نہیں کرتے۔ تو شہزادہ اینڈریو 19 سال کی عمر میں فاک لینڈ کی لڑائی پر گئے تو شہزادہ ہونے کی خصوصیت کی بنا پر برطانوی حکومت نے کوشش کی کہ وہ شہزادے اینڈریو کو سویلین بننے دیں یا پھر فوج میں کسی آفس جاب میں رکھیں۔ اب یہ دیکھئے کہ ماں جو ملکہ بھی ہیں وہ کہہ سکتی ہیں کہ ٹھیک ہے میرے بیٹے کو آگے نہ کیا جائے۔ مگر ملکہ کا اصرار تھا کہ ان کا بیٹا آگے بڑھے اور اس لڑائی میں کامیاب رہے دوران جنگ وہ اینٹی سب میرین، اینٹی شپ اور میزائل تک استعمال کرتے رہے یعنی بڑے بڑے اسلحہ و مشینری تک چلائی۔ اس جنگ میں شہزادہ اینڈریو کی شمولیت نے برطانوی عوام کے دلوں میں انکی قدر کی لہر جگائی پھر جنگ سے واپسی پر دوسرے فوجیوں کے والدین کیطرح اپنے بیٹے کے استقبال کو ملکہ اور شہزادہ فلپ بھی آئے۔ ان دنوں برطانوی عوام نے شہزادہ اینڈریو کو ایک اہم نام سے پکارا کہ ’جنگی ہیرو‘۔ یہ ہیں ملکہ کے لاڈلے بیٹے مگر اصولوں کا بھی ایک مقام ہے شاہی محل میں! برطانوی شاہی محل ایک عظمت رکھتا ہے واقعی شان ہے اسکی۔
یورپ سے سے مزید