• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی نوجوان برطانیہ میں ’چائے اڈہ ‘ شروع کرنے والا پہلا شخص بن گیا

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) ایک نوجوان پاکستانی کاروباری شخص برطانیہ میں ایک ’’چائے اڈا‘‘ کیفے شروع کرنے والا پہلا شخص بن گیا ہے جو ادائیگی کے لئے متعدد کرپٹو کرنسیاں قبول کرتا ہے۔ 26 سالہ طیب شفیق نے شیفرڈز بش، ویسٹ لندن میں ویسٹ فیلڈ کے باہر چائے اڈہ کافی شاپ قائم کی ہے، جہاں مختلف قسم کی پاکستانی اور ایشیائی چائے، پراٹھے، بریانی، کباب اور رول فروخت کئے جاتے ہیں۔ لاہوری ٹرک آرٹ سے مزین اور وائٹ سٹی بس سٹیشن کے بالکل ساتھ واقع چائے اڈہ فوری طور پر مقبول ہو گیا ہے، کیونکہ باہر پاکستانی ٹرک آرٹ میں سجی ہوئی رنگ برنگی کرسیاں رکھی گئی ہیں جوکہ عوام کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ شفیق وہی شخص ہے جو برطانیہ میں اس وقت اخبارات کی سرخیوں میں آیا جب اس نے مشہور سرخ فون باکس کا استعمال کرتے ہوئے لندن میں بریانی کیفے کھولا۔ اسے مقامی کونسل اور انگلش ہیریٹیج کی جانب سےریگولیٹری مسائل کی وجہ سے ٹیک ا وے سروس جاری رکھنے کی اجازت نہ ملنے کے باعث فون باکس کا کاروبار بیچنا پڑا۔ شفیق نے اب ایک اور منفرد اقدام کیا ہے جوکہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر شروع کیا ہے۔ شفیق کے چائے اڈہ پر صارفین کلاسک بٹ کوائن کے ساتھ ساتھ لائٹ کوائن، ورج، ایکس پی آر، بٹ کوائن کیش، ایتھریم اور ہوریزن کی شکل میں ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال کرتے ہوئے چائے اور پکوان کے لئے ادائیگی کر سکتے ہیں۔ شفیق نے اس مقصد کے لئے ایک ایپ بنائی ہے جو اس کے چائے اڈہ سے منسلک ہے اور برطانوی پاؤنڈز کے مقابلے میں فوری طور پر کرپٹو والیٹ اکاؤنٹس سے ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے شفیق نے کہا کہ وہ اپنے کیفے کے کھلنے کے ایک ہفتے کے اندر کسٹمرز کی جانب سےملنے والے ردعمل سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک تقریباً 20 فیصد ادائیگیاں بٹ کوائنز اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں میں ہوئی ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ کرپٹو کرنسیز خطرات سے بھری پڑی ہیں اور کئی باقاعدہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے ڈیجیٹل کرنسیوں کے استعمال کے خلاف خبردار کیا ہے لیکن ان کرنسیوں کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ شفیق نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ اس میں خطرات شامل ہیں لیکن ان کی نظر میں یہ مستقبل ہے۔ ہمیں مستقبل کو دیکھنا ہے۔ مجھے ایمانداری سے یقین ہے کہ کرپٹو مستقبل ہے۔ یہ یہاں رہنے کے لئے ہے اور یہ پہلے ہی اچھی طرح سے کام کر رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت بن چکا ہے۔ چائے اڈہ قائم کرتے وقت مجھے یقین تھا کہ کرپٹو، میٹاورس، این ایف ٹی (ڈیجیٹل دنیا) مستقبل ہیں اور میں صرف کرپٹو کرنسی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لئے اپنا چھوٹا سا کردار ادا کرنا چاہتا تھا۔ نوجوان کاروباری نے اپنے کیفے کو پاکستانی ٹرک آرٹ سے متعلق ہر چیز سے سجایا ہے۔ دکان کی چھت کو پاکستانی ٹرک آرٹ چھتریوں سے سجایا گیا ہے جبکہ کرسیاں اور میزیں لاہور سے لائی گئی ہیں اور ہر میز پر صارفین کے لئے لوڈو گیمز ہیں۔ شفیق اپنے کیفے کے لئے کاریگروں کے ساتھ خاص طور پر لاہور آیا۔ اس نے کہا کہ اگر وہ کیفے سے این ایف ٹی (نان فنگ ایبل ٹوکن) خریدتے ہیں تو وہ ان کے آرڈرز پر تاحیات 10 فیصدچھوٹ دے رہے ہیں۔ ریسٹورنٹ میں پیش کی جانے والی چائے اور کھانے کی اقسام کے بارے میں، شفیق نے کہا کہ ہمارے پاس مسالہ چائے، الائچی چائے، دار چینی کی چائے ہے جبکہ گلابی کشمیری چائے ہماری سب سے زیادہ فروخت ہونے والی چیز ہے۔ مختلف اقسام کی چائے کے ساتھ ہم چکن تکہ، چکن بریانی، سیخ کباب بھی پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سموسے اور چائے ریستوران کا سب سے پسندیدہ مینو ہے۔ ہم کیک بھی بناتے ہیں، جن میں سرخ مخمل، لوٹس بسکاف اور پستے کے دودھ کا کیک بھی شامل ہے جو بہت مشہور ہیں۔ اس نے وضاحت کی کہ اس کا بزنس ماڈل کس طرح کام کر رہا ہے اور کہا کہ یہ کیفے بزنس ماڈل اپنی نوعیت کا واحد بزنس ہے۔ اس کے پاس این ایف ٹی پر مبنی فرنچائزنگ ماڈل ہے، جو دنیا کا پہلا ماڈل ہے جہاں کوئی پریمیم این ایف ٹیز حاصل کر کے ہماری فرنچائز خرید سکتا ہے تاکہ یہ کسی کو ایک خصوصی ٹوکن ہولڈر بنا سکے۔ اس کے علاوہ ہم میٹاورس میں اکائونٹ کھول رہے ہیں، جو پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا۔ یہ پہلا میٹاورس کیفے ہوگا جو زائرین کو پیشہ ورانہ یا ذاتی/تفریحی مقاصد کے لئے ورچوئل میٹنگز کرنے کی اجازت دے گا۔

یورپ سے سے مزید