مولانا حافظ عبد الرحمٰن سلفی
قرآن کریم فوز و فلاح کا دائمی منشور اور رشد و ہدایت کا مثالی سرچشمہ ہے جس میں ایک طرف حقوق اللہ کی پاس داری ہے تو دوسری طرف حقوق العباد کی ادائیگی کا پیغام ہے۔ گویا یہ قرآن ہماری روحانی و جسمانی تسکین و شفا کا باعث ہے۔
اس میں پورا نظام حیات عطا کیا گیا ہے جس پر عمل پیراہو کر انسانیت اپنا کھویا ہوا وقار اور گمشدہ متاع عزیز یعنی جنت بھی حاصل کر سکتی ہے۔ قرآن راہِ نجات اور ہمارے تمام دکھوں کا مداوا ہے۔ چناںچہ قرآن کریم میں فرمایا گیا: اور ہم قرآن(کے ذریعے) وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا ءاوررحمت ہے۔(سورۂ بنی اسرائیل)
اللہ خالق و مالک نے قرآن کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا! وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے (محمدﷺ کو) پیغمبر (بنا کر) بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے اور انہیں پاک کرتے اور (اللہ کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور ا س سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے ۔(سورۃ الجمعہ)
دوسرے مقام پر یوں فرمایا!وہ اللہ تعالیٰ بہت برکت والا ہے جس نے قرآن مجید کو اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمایا، تاکہ وہ سب لوگوںکے لئے آگاہ کرنے والا ہو جائے۔ اسی اللہ (یکتا) کی حکومت و سلطنت ہے‘ آسمانوں اور زمین کی‘ اور اس نے کوئی اولاد نہیں بنائی اور نہ کوئی اس کی سلطنت میں شریک ہے۔ اس(اللہ) نے ہر چیز کو پیدا کیا اور مناسب اندازے پر رکھا۔(سورۃالفرقان)
اسی طرح ایک مقام پر قرآن کی عظمت کا یوں اظہار کیا گیا: ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم، اگر تم سمجھو تویہ بڑی قسم ہےکہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے۔ (جو) کتاب محفوظ میں (لکھا ہوا ہے)۔اسے وہی ہاتھ لگاتے ہیں جوپاک ہیں۔پروردگار عالم کی طرف سے اتاراگیا ہے۔کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو؟اور اپنا وظیفہ یہ بناتے ہو کہ (اسے)جھٹلاتے ہو۔(سورۃ الواقعہ)
مذکورہ بالا آیات قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا مقصد انسانیت کے عقائد و اعمال اور اخلاق کی تطہیر کر کے رب کے پسندیدہ بندے بنا کر اس کے اصلی مقام جنت اور رضائے الٰہی کی شاہراہ مستقیم پر گامزن کرانا ہے ۔ تاکہ انسانیت اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر لے ‘ جو اس کی شامتِ اعمال کی بناء اس کے ہاتھوں سے جاتا رہا ہے۔
یہ قرآن مجید اتنی عظمتوں اور رفعتوں کا حامل ہے کہ اگر ایمان کے جذبے کے ساتھ محض اس کی تلاوت کر لی جائے تو وہ بھی مومن کے لئے انتہائی اجر و ثواب کا باعث ہے۔ چنانچہ اللہ کے آخری محبوب پیغمبرﷺ کا ارشادگرامی ہے: جس نے قرآن مجید کا ایک حرف پڑھا، اسے نیکی ملے گی اور ایک نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر ہے۔ اَلٰمٓ ایک حرف نہیں ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے اورم ایک حرف ہے۔ (ترمذی‘ دارمی)
گویاان حرفوں کی تلاوت کے بدلے پڑھنے والے کو تیس نیکیاں ملیں گی۔ا ندازہ کیجئے کہ محض تلاوت کرنے پر اس قدر اجر و ثواب ہے تو پھر سمجھ کر سیکھنے اور اس کے علوم کے حصول اور عمل پر کیا اجر و ثواب ہو گا؟ اس کا احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ ہم اپنے ناقص حساب کتاب سے صرف اتناکہہ سکتے ہیں کہ قرآن سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل کرنے سے اللہ کاتقرب حاصل ہو سکتا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ا س کی برکت سے جنت کے حصول اور جہنم کی ہولناکیوں سے محفوظ رہنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ جو اگر حاصل ہوگئی تو یقیناً بڑی کامیابی ہے۔
یاد رکھیے! دنیا کی مختصر زندگی بہر صورت گزرہی جائے گی، لیکن اگریہ زندگی رب کی رضا کے مطابق گزری تو دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی ہے ‘وگرنہ من چاہی ‘ شتر بے مہار زندگی یا اللہ کی بغاوت و نافرمانی ‘قرآ ن کی تکفیر و تکذیب میں گزری تو ایسی زندگی دنیاوی لحاظ سے شاید کامیاب ہوجائے ،لیکن ابدی زندگی جہنم کی نذر ہو کر خسران کا باعث ثابت ہو گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ و مامون رکھے۔ آمین۔
قرآن مجید سے تعلق استوار اور مضبوط سے مضبوط تر رکھنا مؤمن کا شعار ہے۔ یہ نازل ہی اس لئے ہوا ہے کہ ہم اپنا تزکیہ کر لیں اور اپنے مربی و آقا ‘ پالنہار اللہ رب العالمین کے پسندیدہ بندے بن جائیں اوریہ قرآن معمولی چیز نہیں کہ ہم اسے محض ایک کتاب سمجھیں ،بلکہ اس میں ہمارے لئے دنیا و آخرت کی کامرانیوں کا مکمل لائحہ عمل موجود ہے ۔ اس کے علاوہ قرآن دلوں کا زنگ دور کرکے صاف شفا ف بناتا ہے۔
سرورِ کائناتﷺ کا ارشاد عالی ہے: دلوں کو زنگ لگ جاتا ہے جس طرح لوہے کو پانی لگ جانے سے زنگ لگ جاتا ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا، یارسول اللہﷺ، پھر انہیں کس طرح صاف کیاجائے؟آپﷺ نے فرمایا ، موت کو زیادہ یاد کیا کرو اور قرآن مجید کو کثرت سےپڑھا کرو۔(بیہقی)
اسی طرح دوسرے مقام پر فرمایا! جو اپنے رب سے کلام کرنا چاہے تواسے چاہیے کہ قرآن مجید پڑھے ۔(کنزالعمال)ایک حدیث میں یوں ارشاد فرمایا! قرآن پڑھا کرو ، کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے شفیع بن کر آئے گا۔(صحیح مسلم) ایک جگہ اس طرح قرآن کی عظمت بیان فرمائی گئی! میری امت کی بہترین عبادت قرآن مجید کی تلاوت ہے۔
رسول اکرم ﷺ کاارشاد ہے: روز قیامت قرآن مجید پڑھنے والے سے کہا جائے گاکہ قرآن پڑھتا جا اور(جنت کے ) اونچے اونچے درجات پر چڑھتا جا اورٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسا کہ دنیا میں پڑھتا تھا ،تمہارا جنت میں آخری درجہ وہ ہو گا، جہاں تم پڑھتے پڑھتے ٹھہر جائو گے۔(ترمذی)
قارئین کرام! قرآن مجید سراسر خیر و برکت ،فوز و فلاح او ررشد و ہدایت کا مثالی سرچشمہ ہے۔ اس پر ایمان لانا ،اس کی تلاوت کرنا اور اس کے احکام یعنی اوامر ونواہی پر کماحقہ عمل پیر اہونا اور صاحب قرآن ‘ پیغمبر آخرالزماں ﷺ کی لائی ہوئی شریعت یعنی قرآن و حدیث کی اتباع کرنا دنیا و آخرت کی بھلائیوں اور نجات کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح معنوں میں قرآن کا فہم عطا فرمائے، ہمارے عقائد و اعمال کی اصلاح فرما ئے اورہماری انفرادی و اجتماعی زندگی میں دین کو نافذ فرمائے۔ ہماری لغزشوں اور خطاؤں سے درگزر فرمائے ۔قرآن و صاحب قرآنﷺ کی سچی فرماں برداری کے ذریعے اپنی رضا کا حصول آسان فرما دے۔ (آمین یا ربّ العالمین)