• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد ناخن، بال کاٹنے کا حکم

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: ذوالحجہ کا چاند نظر آتے ہی بال اور ناخن کاٹنے سے جو منع کیا جاتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ نیز اس کی وجہ اور حکمت کیا ہے ؟

جواب: جو شخص قربانی کا ارداہ رکھے، اس کے لیے مستحب ہے کہ ذو الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے جب تک اس کی قربانی کا جانور ذبح نہ ہوجائے، ناخن، جسم کے کسی عضو سے بال یا کوئی بھی حصہ نہ کاٹے۔

اُمّ المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب ذوالحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے اور تم میں سے کسی کا قربانی دینے کا ارادہ ہو تو وہ بال، ناخن یا کھال کا کچھ حصہ نہ کاٹے، جب تک قربانی نہ دے دے، ایک روایت میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ ذو الحجہ کا چاند طلوع ہوتے ہی ان چیزوں سے رک جائے۔ (صحیح مسلم، باب: نهي من دخل عليه عشر ذي الحجة، وهو مريد التضحية، أن يأخذ من شهره أو أظفاره شيئا،ج: 3،ص:1565،ط: دارإحياء التراث العربي و سنن نسائی: كتاب الضحايا، ج:7،ص:211،المكتبة التجارية الكبرىٰ بالقاهرة)

تاہم یہ حکم واجب نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے، اور وہ بھی ان لوگوں کے لیے جو قربانی کر رہے ہوں، اگر کوئی شخص قربانی نہیں کررہا، اس کے لیے یہ استحباب بھی نہیں ہے، اور اگر قربانی کرنے والا کوئی شخص اس کا اہتمام نہیں کرتا تو اسے بھی ملامت نہیں کرنا چاہیے۔ اور اگر ناخن یا بال کاٹے ہوئے چالیس دن یا زیادہ ہورہے ہوں تو ان کی صفائی کرنا ضروری ہے۔

ملا علی قاری رحمہ اللہ نے محقق تورپشتی رحمہ اللہ کے حوالے سے اس حکم کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ قربانی کرنے والا دراصل اس تصور کے ساتھ قربانی کرتا ہے کہ اصل میں تو مجھے اللہ کے حضور اپنی جان پیش کرنی چاہیے تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے میری جگہ ایک جانور کو قبول فرما لیا، اب وہ جانور گویا میری طرف سے فدیہ بن گیا، اسی احساس کے تحت وہ چاہتا ہے کہ میرا پورا وجود (جسم کا ہر حصہ) اس عبادت میں شامل رہے اور یہ جانور میرے مکمل جسم کے بدلے قربان ہوجائے۔

اسی لیے شریعت نے اسے حکم دیا کہ وہ قربانی تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے، تاکہ اس کے جسم کا کوئی حصہ اس حکم کی رحمت وانوارات سے محروم نہ ہو اور وہ پورے جسم کے ساتھ اس رحمت کا مستحق بنے۔ (مرقاۃ المفاتیح: کتاب الصلاۃ، باب فی الاضحيۃ،ج:3، ص:1081،ط:دارالفکر)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید