• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر نعمان نعیم

’’راز داری‘‘ کا مطلب ہے کسی پوشیدہ بات، خبر یا نجی معاملے کو چھپا کر رکھنا اور اسے دوسروں پر ظاہر نہ کرنا۔ یہ ایک عظیم اخلاقی ذمہ داری، امانت اور انسانی اعتماد کی علامت ہے، جس میں کسی کے عیبوں یا ذاتی باتوں پر پردہ ڈالنا شامل ہے۔ اسلام میں رازداری ایک اہم اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے، جس کا مقصد رشتوں کو مضبوط کرنا، فتنہ و فساد سے بچنا اور ذاتی عیبوں کی پردہ پوشی کرنا ہے۔

ایک مسلمان کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی دوسرے کا راز فاش نہ کرے، کسی کی پوشیدہ بات جاننے کی کوشش بھی نہ کرے اور ایک دوسروں کے عیوب کی پردہ پوشی کرے۔ کہا جاتا ہے کہ راز چھپانے سے زیادہ آسان ہے مال چھپانا۔ اس لئے یہ عظیم ذمہ داری ہے۔ افسوس کہ ہمارے اندراس ذمہ داری کی ادائیگی میں بڑی کوتاہی ہے۔ مسلمانوں کے زوال میں ایک بڑا سبب رازداری سے غفلت برتنا بھی ہے۔

جس کی بناء پر ہمارے انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کے کام متاثر ہوتے آئے ہیں۔رازداری کی اہمیت نہ سمجھنے اور اس کی حفاظت نہ کرنے کی بناء پر ہمارے زیادہ تر کام ابتدا ہی میں ناکام ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے دورِ زوال لگاتار بڑھتا ہی جارہا ہے۔

ویسے تو غور وفکر کا عمل دورِ عروج میں بھی جاری رہنا چاہیے، تاکہ زوال کو راہ نہ ملے، مگر زمانہ زوال میں اسبابِ زوال کی نشان دہی اور انہیں دور کرنے پر غور وفکر کرنا از حد ضروری ہے، تاکہ زوال کی تاریکی ختم ہو اور عروج کا سورج طلوع ہو۔

راز کی حفاظت کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ رسول کریم ﷺ ایک مثالی معاشرہ تشکیل دینے کے لیے تشریف لائے، اس لیے آپﷺ نے اس محاذ پر بھی امّت کی بہترین رہنمائی فرمائی۔ اسلام نے انسان کو جن اعلیٰ اخلاق سے مزین کیا ہے، ان میں سے ایک اہم صفت راز داری ہے، جس کی تاکید ہمیں احادیثِ نبویہ ﷺ میں بار بار ملتی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے نہ صرف اس کی اہمیت بیان فرمائی، بلکہ اس کے برعکس عمل کرنے والوں کے انجام سے بھی خبردار کیا۔ راز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپ ﷺارشاد فرماتے ہیں: جب تم میں سے کوئی آدمی بات بیان کرے پھر(اسے راز میں رکھنے کے لئے) دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے۔(سنن ترمذی)

نبی کریم ﷺنے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک مرتبے کے اعتبار سے بدترین شخص وہ ہوگا جو اپنی بیوی کے پاس خلوت میں جاتا ہے اور وہ اس کے پاس آتی ہے، پھر وہ اس کا راز افشاں کر دیتا ہے۔(صحیح مسلم) یہ حدیث اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ہونے والے معاملات انتہائی نجی اور راز کے دائرے میں آتے ہیں۔ یہ راز صرف ایک فریق تک محدود نہیں بلکہ دونوں پر لازم ہے کہ وہ ان معاملات کو دوسروں کے سامنے بیان نہ کریں۔

ازدواجی زندگی کی باتوں کو عام کرنا نہ صرف اخلاقی گراوٹ کی علامت ہے ،بلکہ یہ ایک سنگین گناہ بھی ہے، جس پر قیامت کے دن سخت وعید سنائی گئی ہے۔درحقیقت، ازدواجی تعلقات اعتماد، محبت اور راز داری کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ جب ان میں سے کسی ایک عنصر کو نقصان پہنچتا ہے تو پورا رشتہ متاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعتِ اسلامیہ نے اس معاملے میں انتہائی حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے راز داری کے اعلی ترین درجے میں شمار کیا ہے۔

نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے: جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ دنیا وآخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔(صحيح ابن ماجہ)حافظ ابن حجر ؒنے کہا کہ پردہ پوشی سے مراد ہے کسی نے کوئی برائی دیکھی تو اسے لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے۔

اس حدیث کی مزید وضاحت نبی اکرمﷺ کے دوسرے فرمان سے ہوتی ہے جس میں پردہ پوشی نہ کرنے والوں کے لئے سخت وعید بھی ہے۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا پردہ فاش کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا پردہ فاش کرے گا، حتیٰ کہ اسے اس کے گھر کے اندر رسوا کر دے گا۔

اللہ اور اس کے رسولﷺ نے تو انسانوں کے عیوب پر پردہ ڈالنے کی ترغیب دی ہے اور جو لوگ یوں ہی دوسرے مسلمانوں کو بدنام کرتے ہیں، سر عام ان کی عزت اچھالتے ہیں، بغیر کسی ثبوت کے طرح طرح کے الزامات عائد کرتے ہیں، ایسا کرنا بہتان کے زمرے میں ہے اور ایسے لوگ جہنم میں ہوں گے۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: جس نے کسی مومن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو ﷲ اسے جہنمیوں کی پیپ میں ڈالے گا ( وہ اسی کا مستحق رہے گا ) حتیٰ کہ اپنی بات سے باز آ جائے ۔ (سنن داؤد)

راز ایک امانت ہے اس کا بیان کرنے والا خائن ہے اور جو خائن کی سزا ہے وہ راز افشاء کرنے والے کو بھی ملے گی ۔حضرت حسن بصری ؒسے مروی ہے : خیانت میں سے یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا راز فاش کردو۔(الصمت وآداب اللسان لابن ابی الدنیا) نبی اکرم ﷺ کا فرمان بھی ہے : جب کوئی آدمی تم سے کوئی بات بیان کرے پھر (اسے راز میں رکھنے کے لیے) دائیں بائیں مڑکر دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے۔(جامع ترمذی)

رسول کریم ﷺ نے کام کرنے والوں کو حکم دیا کہ مقاصد کی کامیابی تک رازداری کا خصوصی اہتمام کریں، اس دوران دیگر افراد کی ضرورت پیش آئے تو ان پر ایک دم مقاصد ظاہر نہ کریں بلکہ پوشیدہ رکھیں، تاکہ کامیابی کی راہ میں مشکلات نہ آئیں۔

مخالف تو خارج از بحث ہے، اسے تو سرے سے کسی راز میں شامل ہی نہ کیا جائے ہاں جس سے حمایت کی امید ہے، اسے رسول کریم ﷺ نے امانت کا پابند بنایا ہے کہ جب وہ کسی راز میں شریک ہوجائے تو بہر صورت راز کی حفاظت کرے اگر ایسا نہ کیا تو وہ قیامت کے دن خیانت کرنے والوں میں شمار کیا جائے گا۔

رازداری کی اہمیت پر نبی اکرم ﷺ کی تربیت وحکمت کا اندازہ حضرت انسؓ کی اس روایت سے لگائیں: حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اس وقت میں کھیل رہا تھا۔

آپ نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تو میں اپنی والدہ کے پاس تاخیر سے پہنچا، جب میں گھر پہنچا تو والدہ نے پوچھا تمھیں دیر کیوں ہوئی؟ میں نے کہا مجھے رسول اللہﷺ نے کسی کام سے بھیجا تھا۔ انھوں نے پوچھا، وہ کام کیا تھا؟ میں نے کہا وہ ایک راز ہے۔ میری والدہ نے کہا تم رسول اللہﷺ کا راز کسی پر ظاہر نہ کرنا۔(صحيح مسلم)

اس روایت میں کئی چیزیں غور طلب ہیں جو مجموعی طور پر ہمارے لیے تربیت وحکمت کا بہترین خزانہ ہیں۔ کھیل میں مشغول بچوں سے حضور ﷺ خود سلام میں پہل فرماتے ہیں۔ حضرت انس ؓبچے ہونے کے باوجود اتنے معتمد تھے کہ حضور ﷺنے انہیں کام سے بھیجا۔

یہ اعتماد بلا وجہ نہیں ہوگا، یقینی طور پر حضرت انسؓحضوراکرمﷺ کی تربیت میں ہونے کے باعث درجۂ اعتماد کو پہنچے ہوں گے۔نو عمری کے باوجود حضرت انسؓ تربیت رسالت کے باعث اتنے پختہ ہوچکے تھے کہ والدہ کو بھی راز نہیں بتایا۔حضرت انس ؓ کی رازداری کا اندازہ اس سے بھی لگائیں کہ آپ نے حضرت ثابتؓ سے یہ روایت بیان کرتے ہوئے فرمایا: اے ثابت! اللہ کی قسم اگر میں وہ راز کسی کو بتاتا تو تمہیں ضرور بتاتا۔ یعنی حضرت انسؓ نے بچپن کے راز کی حفاظت اخیر عمر تک فرمائی، اس طرز عمل سے آپ اندازہ لگائیں کہ رسول پاک ﷺ نے صحابہؓ کی کیسی تربیت فرمائی اور رازداری کے تعلق سے صحابۂ کرامؓ کا مزاج ومنہج کیسا تھا۔

نبی اکرمﷺ اخلاق کے اعلیٰ ترین معیار کے حامل تھے ،آپﷺ کی زبان وعمل سے انسانیت کو سکون پہنچا، معاشرتی رویوں میں تبدیلی آئی، دوسروں کے ساتھ خیرخواہی کا جذبہ بڑھا، لیکن آج بدقسمتی سے ہم جس بھی مجلس یا محفل میں چلے جائیں خواہ تعلیم یافتہ افراد ہوں یا دوسرے لوگ، ہر جگہ ہمیں دوسروں کے عیب کی نشاندہی، دوسروں کے عیوب پر نظر اور پھر ان کوتاہیوں یا غلطیوں کو خاندان، معاشرے میں اچھالا جاتا ہے، سوشل میڈیا کا غلط استعمال بھی اسی سلسلہ کا ایک ہتھیار ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ تو اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگار چھوڑتا ہے اور یاد رکھو جو اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کرے گا اور جو کسی مسلمان کی پریشانی دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پریشانی دور کرے گا اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکی پردہ پوشی کرے گا ، ظلم گناہ عظیم ہے‘‘(بخاری ومسلم)

اللہ تعالیٰ اپنے مظلوم بندے کے قریب ہوتا ہے، مظلوم کی فریاد اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا، ہر دعا قبولیت کی طرف بڑھتی ہے لیکن مظلوم کی بددعا سے بچنا چاہئے بلکہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ ظالم کا ہاتھ پکڑو اور مظلوم کی مدد کرو، اسی طرح اگر کوئی مسلمان حاجت مند ہے تو خاموشی کے ساتھ اس کی مدد کی جائے۔

جب قیامت کے دن سب رشتے بھاگ جائیں گے، کوئی کسی کے کام نہ آئے گا مسلمان کی یہی حاجت روائی کام آئے گی۔ انہی بہترین اعمال میں سے پردہ پوشی ہے، بے عیب تو صرف ذات الٰہی ہے، اگر کوئی انسان بھی غلطی کر بیٹھے تو ایمانی اخوت کا تقاضا ہے کہ اس کی اصلاح کی جائے، اسے محبت سے سمجھایا اور بتایا جائے اس کے عیب پر حتی الوسع پردہ ڈالا جائے اسے لوگوں کے درمیان نظروں سے گرانے کے لیے اس کا عیب، اس کی کمزوریاں جگہ جگہ نہ بیان کی جائیں، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کے عیوب پر پردہ ڈال دیں گے جو دنیا میں دوسروں کے عیب پر پردہ دالتا ہوگا، لیکن اگر کوئی شخص احکام خداوندی کو توڑتا ہے، حدود اللہ کو کراس کرتا ہے جس کے اثرات سارے معاشرے پر پڑتے ہوں تو اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے اگر پھر بھی وہ نہ سدھرے تو اسے قانون کے تحت سزا دلوائی جائے تاکہ معاشرے سے برائی کا قلع قمع ہو۔امام یحییٰ ؒ فرماتے ہیں کہ میں کسی شخص کے عیب دیکھتا ہوں تو ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ علیحدگی میں اسے سمجھادوں اگر وہ نصیحت کو قبول کرنے والا ہوا تواسے وہ بات کہہ دیتا ہوں ورنہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہوں۔ (سیراعلام النبلاء)

دوسروں کی ٹوہ میں لگے رہنے اور جاسوسی سے سختی سے منع کیا گیا۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ’’ اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑوگے تو تم ان میں فساد پیدا کروگے یا قریب قریب فساد کے حالات پیدا کردو گے ‘‘(سنن ابوداؤد) دنیا وی مخالفت ہو، کاروباری مخاصمت ہو یا کوئی دوسرے مقاصد، ہر شخص دوسروں کی آبرو اچھالنے اوربے عزتی ورسوائی کرنے میں مصروف ہے۔

ہماری محافل مجالس ہوں یا ذاتی زندگی، معاشرے میں اصلاح کی غرض سے اپنا اصلاحی کردار ادا کرنا چاہئے اس سے دل ودماغ میں روشنی آتی ہے، برکات نازل ہوتی ہیں، بے مقصد اور فضول اعمال کے پیچھے وقت ضائع کرنے سے سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں ملتا۔

جدید ذرائع کو بھی نیکی کو پھیلانے اور معاشرے کی اصلاح کیلئے استعمال ہونا چاہئے، برائیوں سے تطہیر اصل مقصد ہو، مظلوم کی دادرسی اور ظالم کو ظلم سے روکنے کیلئے بھی اس کا استعمال کرنا چاہئے، لیکن اس کا غلط استعمال جو صرف دوسروں کی تضحیک اور رسوائی کیلئے ہو قابل مذمت ہے اس کی حوصلہ شکنی ہونا چاہئے، اور ہر شخص کو معاشرے کی اصلاح میں اپنا اخلاقی فریضہ بھرپور طریقہ سے انجام دینا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کے راز کی حفاظت، ان کے عیوب کی پردہ پوشی کرنےکی توفیق دے اور ہمارے اندر اپنا خوف پیدا کرکے اعمال صالحہ کی رغبت اور برائی سے تنفر پیدا کردے۔ (آمین)

اقراء سے مزید