تفہیم المسائل
سوال: اجتماعی قربانی میں تمام جانور شرکاء کا نام لے کر شرعی طریقے پر ذبح کردیے گئے، پھر تمام جانوروں مثلاً آٹھ گائے تھیں تو اُن سب کا گوشت بناکر سارا ایک ساتھ ملادیا گیا، پھر وزن کرکے 56 حصے بنادیے گئے، کیا یہ شرعاً درست ہے ؟،(عثمان قادری ، کراچی)
جواب: اجتماعی قربانی کے منتظمین حصے داروں کی طرف سے امین ہیں اور اُن کا حصہ ان کے پاس امانت ہے، ہر حصے دار کو اُسی کی گائے میں سے اُس کا حصہ دینا ان منتظمین کی ذمے داری ہے۔ گائے کے گوشت اور وزن میں بھی فرق ہوتا ہے، اس تبادلے کی صورت میں ربا لازم ہے اور حصے داروں کی حق تلفی ہوتی ہے، لہٰذا ہر حصے دار کو اُسی کی گائے میں سے حصہ دینا ضروری ہے اور ایک جانور کا حصہ دوسرے کو دینا جائز نہیں ہے کیونکہ ہر گائے کے متعین حصہ دار اپنے اپنے حصے کے مالک ہوتے ہیں اور وہ اجازت دیدیں، تب بھی اُن کے حصے میں تصرُّف نہیں کیا جاسکتا۔
تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے: ترجمہ:’’ گوشت کو وزن کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے گا، اندازے سے تقسیم نہیں کیا جائے گا ‘‘۔ اس کی شرح میں علّامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ ماتن کا یہ قول:’’(قربانی کا گوشت) اندازے سے نہیں بانٹا جائے گا ‘‘، کیونکہ تقسیم میں مبادلہ کا معنی موجود ہے، اگرچہ بعض (شرکاء ) بعض کے لیے حلال کردیں ،’’بدائع الصنائع ‘‘ میں ہے: جہاں تک اندازے سے تقسیم کے جائز نہ ہونے کا تعلق ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں تملیک کا معنی پایا جاتا ہے اور گوشت سود کے اموال میں سے ہے ، پس اس کی تملیک اندازے سے جائز نہیں۔
جہاں تک (گوشت کی کمی بیشی کو) ایک دوسرے کے لیے حلال قرار دینے کے جائز نہ ہونے کا تعلق ہے، تو ربا حلال کرنے سے حلال ہونے کا احتمال نہیں رکھتا اور اس لیے کہ یہ ہبہ کے معنیٰ میں ہے اور ایسے غیر منقسم کا ہبہ، جو تقسیم کا احتمال رکھتا ہے، صحیح نہیں ، (جلد6،ص:318)‘‘۔
آپ نے سوال میں تقسیم کا جو طریقہ لکھا ہے، غلط ہے، ایک گائے میں سات افراد شریک ہیں، اُس ایک گائے کے ذبح ہونے اور تمام گوشت بننے کے عمل کو مکمل کیا جانا چاہیے اور صرف اُسی گائے کے سات حصے وزن کرکے شرکاء کو دیئے جانے چاہییں، حصوں کی تقسیم میں کمی یا زیادتی پر قربانی کے شرکاء بھی ایک دوسرے کو معاف کرنے کا حق نہیں رکھتے، صدرالشریعہ علّامہ امجد علی اعظمی ؒ لکھتے ہیں: ’’ شرکت میں گائے کی قربانی ہوئی تو ضروری ہے کہ گوشت وزن کرکے تقسیم کیا جائے، اندازے سے تقسیم نہ ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو زائد یا کم ملے اور یہ ناجائز ہے، یہاں یہ خیال نہ کیا جائے کہ کم وبیش ہوگا تو ہر ایک اس کو دوسرے کے لیے جائز کردے گا، کہہ دے گا کہ اگر کسی کو زائد پہنچ گیا ہے، تو معاف کیا کہ یہاں عدمِ جواز حق شرع ہے اور اُن کو اُس کے معاف کرنے کا حق نہیں ،(بہارِ شریعت ، جلدسوم،ص:336) ‘‘
قربانی عبادت ہے ، دیگر عبادات کی طرح اس فریضے کی ادائیگی کے لیے مسائل سے واقف ہونا ضروری ہے، جب آپ اجتماعی قربانی کا انتظام کرتے ہیں، تو کسی عالمِ دین سے رہنمائی حاصل کریں، مسائل کو سیکھیں اور سمجھیں تاکہ لوگوں کی عبادت ضائع نہ ہو، آپ کی کوتاہی کے سبب اگر لوگوں کی قربانی ضائع جاتی ہے تو آپ کے ذمے تاوان بھی لازم ہوگا، بہر کیف اگر جانور کے ذبح کے وقت تمام شرکاء کا نام لیا گیا ہے، تو واجب قربانی ادا ہوگئی، کیونکہ قربانی کی حقیقت ایامِ قربانی میں اللہ تعالیٰ کے حضور عبادت کی نیت سے جانور کاخون بہانا ہے، لیکن آپ نے تمام جانوروں کا گوشت ساتھ ملاکر بعض کے حق میں خیانت کی اور یہ حق شرع تھا، جو آپ کے ذمے باقی رہا، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ واستغفار کرتے رہیں، اُمید ہے اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com