• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’عقیدہ ختم نبوت‘‘ پر 100 جلدوں کا عظیم الشان انسائیکلوپیڈیا


مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ

( امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ،کراچی)

تکوینی طور پر بعض حالات اور واقعات ایسے پیش آجاتے ہیں جو بظاہر بڑے مشکل، کٹھن اور صبر آزما ہوتے ہیں ، لیکن وہ مستقبل کے اعتبار سے پوری امّتِ مسلمہ بلکہ پوری انسانیت کی ہدایت اور راہنمائی کی نوید اور پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔

حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد مسیلمہ کذّاب کا جھوٹا دعویٰ نبوت لے کر کھڑا ہونا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اس کے خلاف جہاد کرنا اور اس میں بارہ سو صحابہؓ اور تابعینؒ کا جامِ شہادت پینا، جن میں سات سو قرآن کریم کے حفاظ تھے، ان حالات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قرآن کریم کی حفاظت کی غرض سے پریشان ہونا اور پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ سے کہنا کہ قبل اس کے کہ تمام حفاظ صحابہؓ یکے بعد دیگرے غزوات میں شہید ہو جائیں اور قرآن کریم اس طرح امّت کے قلوب سے اٹھ جائے، آپ اسے کتابی شکل میں محفوظ کرائیں۔ حضرت زید بن ثابتؓ کی سربراہی میں صحابہ کرامؓ کے قرآن کریم کو جمع کرنے اور کتابی شکل میں لانے سے آج امّت مسلمہ اور پوری انسانیت کو کتنا بڑی علمی نعمت ملی ہوئی ہے۔

اسی طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں جب اسلام عرب سے نکل کر عجم کے کئی ممالک میں پھیل گیا، ہر ایک علاقہ، قبیلہ اور ملک کی زبان، لہجہ اور طرزِ ادا الگ الگ تھی تو حضرت عثمانؓ نے قرآن کریم کو ایک لغت قریش پر رکھنے اور بقیہ لغات کو موقوف کر کے کتنا بڑا امّت پر احسان کیا۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر دور میں تکوینی طور پر ایسی شخصیات اور افراد کو کھڑا کیا اور ان کا انتخاب کیا کہ جنھوں نے علمی اعتبار سے پوری امّت مسلمہ کے لیے فرض کفایہ کا کام کیا۔

کہیں فقہاء کو کھڑا کیا گیا کہ جن سے قرآن و سنّت سے مسائل کے استنباط کا کا م لیا گیا، کبھی قرآن کریم کی سبعہ عشرہ قرأت کی حفاظت کا کام لیا گیا، کبھی احادیث کی تدوین و جمع کا کام لیا گیا ، کبھی احادیث کو پرکھنے، جانچنے اور صحیح کو موضوع سے الگ الگ کرنے کا کام لیا گیا، کبھی اولیاء اللہ کو کھڑا کر کے دین اسلام کی حفاظت اور اشاعت کا کام لیا گیا، کبھی مجاہدین کو کھڑا کر کے دین اسلام کے سامنے موجود رکاوٹوں کو دور کیا گیا۔

غرضیکہ اللہ تعالیٰ کے دین کو غالب کرنے کی غرض سے دین کی حفاظت، اشاعت، پھیلاؤ یا دین میں در آنے والے فتنوں سےدفاع یا بچاؤ کا معاملہ ہو، امّت مسلمہ اور انسانیت کی ہدایت و راہنمائی کا معاملہ ہو، ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے تکوینی طور پر اپنے بندوں سے کام لیا اور انھوں نے دین کو تر و تازہ کرکے امت کو پیش کیا۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ اس امت کے نفع کے واسطے ہر سو برس پر ایک شخص کو بھیجتا ہے جو اس کے دین کو تازہ کرتا ہے۔‘‘ (ابوداؤد :4291)

ترجمہ : ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر (قائم رہتے ہوئے) غالب رہے گا، جو شخص بھی ان کی حمایت سے دست کش ہو گا وہ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا، حتیٰ کہ اللہ کا حکم آ جائے گا اور وہ اسی طرح ہوں گے۔“ (مسلم: 1920) ترجمہ: ’’ اس امت کے آخر میں کچھ لوگ ہوں گے جنہیں اجر امت کے پہلوں کا سا دیا جائے گا۔ یہ لوگ ’’معروف‘‘ کا حکم کریں گے، بُرائیوں سے روکیں گے اور اہلِ فتنہ سے لڑیں گے۔ ‘‘ (مشکاۃ المصابیح، ص:۵۸۴، ط:قدیمی)

انھی منتخب بندوں میں سے ہمارے ممدوح حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم ہیں ، جنھوں نے امّتِ مسلمہ کے لیے درج ذیل تحفظ ختم نبوت کے کاز پر ’’احتسابِ قادیانیت و محاسبۂ قادیانیت‘‘ 100جلدوں پر مشتمل ایک انسائیکلوپیڈیا ‘‘ کے نام سے یہ عظیم علمی سوغات پیش کی ہے، اس کے علاوہ 6 جلدوں میں ’’ قادیانی مسئلہ پر قومی اسمبلی کی مصدَّقہ رپورٹ ‘‘ ، اسی طرح 17 جلدوں میں انبیائے کرام علیھم الصلاۃ والسلام کی حیات پر ایک علیحدہ انسائیکلو پیڈیا بنام : ’’حیات الانبیاء ‘‘ ، جو 10000 صفحات پر پھیلا ہوا، 100 سے زائد مصنفین ومؤلفین کے، 122 کتب و رسائل کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ احتسابِ قادیانیت و محاسبۂ قادیانیت کی تفصیل سے پہلے یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ انسائیکلو پیڈیا کیا ہوتا ہے ؟

انسائیکلوپیڈیا (Encyclopedia) علم و معلومات کا ایک ایسا مجموعہ کہلاتا ہے جس میں مختلف علوم، فنون، شخصیات، مقامات اور موضوعات کو جامع اور منظم انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ اسے عربی میں ’’دائرۃ المعارف‘‘ اور انگریزی میں انسائیکلو پیڈیا کہا جاتا ہے اور اردو میں بھی یہی دونوں الفاظ مستعمل اور مروّج ہیں۔

انسائیکلوپیڈیا ایک ایسی جامع کتاب یا ذخیرۂ معلومات ہوتا ہے ، جس میں دنیا بھر کے موضوعات کو حروفِ تہجی یا موضوعاتی ترتیب سے بیان کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قاری کو کسی بھی موضوع پر مختصر یا مطوّل، مگر مستند معلومات یکجا مل جائیں۔ انسائیکلوپیڈیا کی تاریخ بہت پرانی ہے،قدیم یونان میں ارسطو نے مختلف علوم کو جمع کرنے کی بنیاد رکھی ، پھر رومی دور میں اور اٹھارویں صدی میں اس فن کو ترقی ملی۔

انسائیکلوپیڈیا کی اہم خصوصیات میں سے سمجھا جاتا ہے کہ یہ معلومات کا جامع ذخیرہ، مستند اور تحقیق شدہ موادہوتا ہے جوالف بائی یا موضوعاتی ترتیب مثلاً مختلف شعبہ جات: مذہب ، سائنس، تاریخ، ادب، جغرافیہ وغیرہ پر مختصر مگر جامع وضاحت کے ساتھ مدون کیا جاتا ہے ۔ انسائیکلوپیڈیا کی مختلف اقسام ہیں:

1: عمومی ، جس میں ہر موضوع پر معلومات مہیا کی جاتی ہیں۔2: مخصوص ، جو کسی ایک شعبہ مثلاً: اسلام، سائنس وغیرہ پرمعلومات فراہم کرتی ہے۔ 3: آن لائن، جسے جدید دنیا میں ڈیجیٹل انسائیکلو پیڈیا کہا جاتا ہے۔ آن لائن انسائیکلو پیڈیا تک رسائی آسان اور فوری ہوتی ہے، جب کہ کتابی انسائیکلو پیڈیا زیادہ معتبرسمجھا جاتا ہے۔

مگر دونوں کا مقصد ایک ہی ہے: علم کو محفوظ کرنا اور عام کرنا۔ اس کی اہمیت اور فائدہ یہ ہے کہ اس سے تحقیق کرنے میں مددملتی ہے، طلبہ اور اساتذہ کے لیے بنیادی ذریعہ علم ہے ، مستند معلومات تک فوری رسائی حاصل ہوتی ہے، جب کہ عمومی علم ( جنرل نالج)میں بھی اضافہ ہو تا ہے۔

انسائیکلوپیڈیا ایک ایسا علمی خزانہ ہے جو دنیا بھر کے موضوعات کو ایک منظم اور قابلِ اعتماد انداز میں پیش کرتا ہے۔ قدیم مخطوطات سے آج کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک اس کی شکل جدید سے جدید تر ہوئی ہے۔ اردو کا مشہور انسائیکلوپیڈیا اردو دائرہ معارف اسلامیہ ہےاور سب سے بڑا اور مستند اردو انسائیکلوپیڈیا کئی جلدوں پر مشتمل ہے، جس میں اسلامی تاریخ، شخصیات، فقہ، تفسیر سب شامل ہیں، یہ اردو زبان میں اسلامی موضوعات کا سب سے مستند خزانہ سمجھا جاتا ہے۔

عالمی سطح پر سب سے مستندانسائیکلوپیڈیا انگریزی زبان میںہے ، مگر تحقیقی کام کے لیے بہترین دائرۃ المعارف الاسلامیہ ہے۔ اسی طرح اسلامی موضوعات کا جامع مجموعہ عربی و انگریزی سے اردو میں ترجمہ شدہ ہے۔ موسوعۃ الفقہ الاسلامی، فقہ اسلامی پر سب سے جامع کام ہے اور اس میں مختلف مکاتب فکر کی آراء شامل ہیں۔ غرض یہ کہ اردو زبان اور اسلامی دنیا میں انسائیکلوپیڈیا کی ایک بھرپور روایت موجود ہے۔

دنیا کی مختلف زبانوں میں انسائیکلوپیڈیا (دائرۃ المعارف) کی ایک بہت وسیع روایت ہے۔ ہر بڑی زبان میں ایسے علمی خزانے موجود ہیں جو اپنے اپنے معاشرے، تاریخ اور علوم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہر زبان کا انسائیکلوپیڈیا صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس قوم کی علمی روایت، سوچ اور تہذیب کا بھی آئینہ دار ہوتا ہے۔

برِ صغیر میں جب مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت شیخ الہندؒ کے ایک شاگرد حضرت مولانا انور شاہ کشمیری قدس سرہ کو اس فتنے کے استیصال کے لیے متوجہ کیا تو آپ نے اپنے تمام شاگردوں کو اس کی سرکوبی کے لیے آمادہ اور علمی طور پر تیار کیا ، جنھوں نے اس فتنے کی تردید اور تکذیب کے لیے تحریر و تقریر، تدریس و تصنیف اور جرائد و رسائل کا سہارا لیتے ہوئے امّت مسلمہ کی رہبری و راہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کے دین و ایمان کی حفاظت کی، اسی کے تسلسل میں پھر تحریکات کا بھی مرحلہ آیا، اس میں بھی ہمارے اکابرین نے امّت مسلمہ کی قیادت و سیادت کی، یہ قافلہ علّامہ انور شاہ کشمیری ؒ کے معتمد اور ان کے شارح سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے لے کر علومِ انوری کے وارث علّامہ سیّد محمد یوسف بنوری قدس سرہ اور حضرت شیخ الہند ؒ کی سیاسی تحریک کے وارث حضرت مولانا مفتی محمودؒ تک، جنھوں نے امّت مسلمہ کی نمائندگی کرتے ہوئے 1974 ء میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا، ان تمام حضرات کی پوری زندگی کی دینی اور علمی جدو جہد کو امّت مسلمہ کے سامنے لانے کی اشد ضرورت تھی ، جسے حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے ’’تحریک ِ ختم نبوت ‘‘ 10 جلدوں میں لکھ کر اس فرض کو ادا کیا اور گویا ’’ تحریکِ تحفظ ختم نبوت ‘‘ پر انسائیکلوپیڈیا پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

خلاصہ یہ کہ مسلمان علماء نے ہر میدان میں کام کیا ہے، مثلاً : اسلامی فقہ، تاریخ، سیرت اور دیگر علوم پر مبنی ضخیم مجموعوں پر بڑا کام کیا ہے۔ اب بھی اس جدید دور میں کئی ادارے کئی موضوعات پر کام کر رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک ادارہ ہے : مولانا اللہ وسایا۔ جو اگرچہ ایک انسان کا نام ہے، لیکن کام کرنے میں مستقل ادارے جیسا عزم و حوصلہ رکھتے ہیں۔ آپ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے 100 جلدوں پر مشتمل علوم ِ ختم نبوت کا جامع ذخیرۂ علم تیار کر دیا ہے۔

شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا دامت برکاتہم محنت و مشقت کے دھنی ہیں ، جس کام کی ٹھان لیں تو اسے انجام تک پہنچائے بغیر دم نہیں لیتے، 80 سال کی پیرانہ سالی میں بھی جواں ہمتی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ آپ نے 36 سال قبل ’’قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت‘‘ نامی کتاب سے اس کام کا آغاز کیا، جس میں اس عنوان پر 1000 کتابوں کی فہرست اورتعارف پیش کیا گیا ہے۔

ردِّ قادیانیت پر اپنے دور کی سب سے بڑی اتھارٹی حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے اپنی کتاب ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ میں 99 کتابوں کی فہرست شائع کی ہے، حکیم الامّت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی تصنیف ’’قائد ِ قادیان‘‘ میں 112 کتب کا تذکرہ فرمایا ہے۔

جب کہ اس عنوان پر سب سے پہلے حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ نے ’’حفاظت ِ ایمان کی کتابیں‘‘ کے نام سے 80 کتابوں کا تعارف کروایا تھا، آپؒ ہی کا مشہور مقولہ ہے کہ: ’’تحفظ ختم نبوت اور ردِقادیانیت پر اس قدر لکھو اور طبع کراؤ کہ ہر مسلمان جب سو کر اٹھے تو اس کے سرہانے اس عنوان پر کتاب رکھی ہو۔‘‘ مولانا اللہ وسایا صاحب کی یہ کاوش ان بزرگوں کی سعی پیہم کے لیے ’’ختامہ مسک‘‘ کا درجہ رکھتی ہے۔

اس 36 سالہ محیط تھکا دینے والے کام کو سر انجام دینے کے لیے آپ نے اندرونِ ملک قائم لائبریریوں کا چپہ چپہ چھان مارا، بیرونِ ملک سے بھی جہاں کسی کتاب کی موجودگی کی اطلاع پائی تو اس کے حصول کے لیے تب تک جتن کیے، جب تک اسے حاصل نہ کر لیا۔ پھر اس عنوان پر بڑی کتب کو چھوڑ کر رسائل کی شکل میں جس نے بھی جو لکھا آپ نے اسے شامل کیا، مسلک و فرقہ، زبان و قوم ، ملّا و مسٹر کی تفریق نہ کی۔

نادر و نایاب اور کم یاب اردو رسائل کے ساتھ ساتھ عربی و فارسی کے بھی قیمتی رسائل ترجمہ کروا کے شامل کیے، ضخیم کتابوں کے علاوہ ورقی دو ورقی مضمون ملا تو اسے بھی قرطاس کی دنیا میں زندہ وجاوید کر دیا۔ آپ کی کوشش یہ رہی کہ ردِّقادیانیت پر جس نے بھی لکھا ہو، وہ تمام مواد اکٹھا ہو جائے، تاکہ آئندہ تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے آسانی ہو ۔ اس جوش و جنون نے آپ سے وہ کام کروادیا کہ گویا آپ موصوف تاریخ ختم نبوت کا ایک مستقل باب بن گئے ہیں۔

ردِ قادیانیت پر یہ تمام تر علمی کام دراصل تحفظ ختم نبوت اور دفاعِ ناموس رسالت کے حسین سلسلے کی سنہری کڑیاں ہیں ۔ کیونکہ قادیانیت ، خاتم النبیین آنحضرت ﷺ سے بغاوت کا نام ہے اور اس بغاوت کو کچلنے کے لیے کی جانے والی ہر کوشش ذات رسالت مآبﷺ کی خدمت کے مترادف ہے۔

جس طرح خلیفہ اوّل سیّدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے متحد ہو کر مسیلمہ کذّاب کے فتنے کا مقابلہ کیا تھا، اسی طرح ایک بار پھر آج امّت مسلمہ کے تمام مکاتب ِفکر نے بیک زبان و قلم ہو کر مسیلمہ مرزا قادیانی کو شکست فاش سے دوچار کیا ہے ۔

مرزا غلام قادیانی نے ’’براہین احمدیہ‘‘ کے نام سے 50 جلدوں پر کتاب لکھنے کا اعلان کیا تھا اور عوام سے اس کی پیشگی رقم وصول کی ، لیکن صرف 5 جلدیں بمشکل پوری کر سکا اور بقیہ کے پیسے بھی واپس نہ کیے، یہ قادیانی جھوٹی نبوت کی دیانت داری کی ایک جھلک ہے۔

دوسری جانب مولانا اللہ وسایا صاحب نے قادیانیت کے رد میں 100 کتابیں پوری فرما دیں اور اس سے حاصل ہونے والا ایک پیسہ بھی اپنی جیب میں نہ ڈالا، بلکہ قوم کی امانت مجلس تحفظ ختم نبوت کے بیت المال کے لیے اسے وقف کر دیا، یہ صادق و امین پیغمبر ﷺ کے ایک امتی کے معاملات کی صفائی ہے۔

مولانا اللہ وسایا صاحب نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت ’’ احتساب قادیانیت ‘‘ کی پہلی جلد دسمبر 1989 ء میں شائع کی اور 60 ویں جلد دسمبر 2014 ء میں شائع ہوئی ، اس کے بعد ’’محاسبۂ قادیانیت‘‘ کی پہلی جلد کی اشاعت اگست 2015 ء میں ہوئی اور 40 ویں جلد فروری 2026 ء میں تیار ہو کر یہ سلسلہ 100 کا ہندسہ پار کر گیا ۔ 36 سال 3 ماہ کے عرصہ میں 100 جلدوں پر مشتمل ردِّ قادیانیت کا انسائیکلوپیڈیا (احتسابِ قادیانیت : 60 جلدیں، محاسبۂ قادیانیت : 40 جلدیں-کُل : 100 جلدیں) تیار ہوا۔

اگر ان دونوں مجموعوں کا الگ الگ جائزہ لیا جائے تو’’ احتسابِ قادیانیت‘‘ کی 60 جلدوں میں 369 مصنفین و مؤلفین کے 776 رسائل و کتب ہیں ، جن کے صفحات کی تعداد 34500 بنتی ہے ۔ نیز ’’ محاسبۂ قادیانیت‘‘ کی 40 جلدوں میں 242 مصنفین و مؤلفین کے 827 رسائل و کتب شامل ہیں ، جن کے صفحات کی تعداد 21120 ہے۔ اس طرح’’ احتساب ِ قادیانیت‘‘ اور’’ محاسبۂ قادیانیت‘‘ کی 100 جلدوں میں 611 مصنفین و مؤلفین کے 1603 کتب ورسائل ومقالہ جات ہیں ، جن کے صفحات کی تعداد 55620 ہے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت نے اسے کتابی صورت کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر بھی محفوظ کرنا شروع کر دیا ہے ۔ ڈیجیٹل انسائیکلوپیڈیا کی اہمیت اپنی جگہ پر ہے، لیکن یہ مجموعہ ہر لائبریری کی زینت بننا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو پوری امّت مسلمہ کی جانب سے اس فرض کفایہ کو ادا کرنے پر اجر جزیل عطا فرمائے ، امّت مسلمہ کے لیے اس عظیم سرمایہ کو ہدایت و رہنمائی کا ذریعہ بنائے اور آخرت میں ہم سب کے لیے حضور اکرم ﷺ کی شفاعت کا ذریعہ بنائے۔ (آمین بحرمۃ خاتم النبیین)

اقراء سے مزید