• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعودی حکومت کے تحت حجاج کی قربانی، رمی اور حلق وغیرہ کا مسئلہ

تفہیم المسائل

(گزشتہ سے پیوستہ)

البحرالرائق ومنحۃ الخالق میں ہے: ترجمہ:’’ واجباتِ حج عذرکی وجہ سے ساقط ہوجاتے ہیں اور امام قاضی خان نے اپنے فتاویٰ میں اس کی تصریح کرتے ہوئے فرمایا: طوافِ وَداع عذر کی وجہ سے ساقط ہوجاتا ہے، اور حیض ونفاس عذر ہے، (البحرالرائق مع منحۃ الخالق ، جلد2، ص:377)‘‘۔

تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے: ترجمہ:’’ فتح القدیر میں بدائع الصنائع کے حوالے سے مذکور ہے کہ حج کے باب میں واجب کو ترکے کرنے کا حکم یہ ہے کہ اگر کسی نے بغیر عذر کے اسے چھوڑدیا، تو اس پر دَم لازم ہوگا اور اگر عذر کی وجہ سے چھوڑا ہوتو بالکل کوئی چیز لازم نہیں ہوگی اور ایک قول یہ ہے کہ یہ حکم صرف اُنہی امور میں ہے، جن کی بابت نص وارد ہے (جیساکہ زیرِ بحث مسئلہ ہے)۔

واضح رہے کہ یہ حکم اس صورت کے برخلاف ہے کہ اگر کوئی شخص ممنوعاتِ احرام میں سے کسی جنایت کا ارتکاب کرے جیسے سلاہوالباس پہننا، خوشبو لگانا، پس ایسی صورت میں اس کے ذمے فدیہ لازم ہوگا ،چاہے اس نے عذر کی بناپر ہی اس کا ارتکاب کیا ہو، (ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد2،ص:553)‘‘۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ہمارے فقہائےکرام نے عذر کے سبب حاجی کے ذمے دَم ساقط فرمایا ہے، سعودی حکومت کی جانب سے عائد سخت پابندیوں کے سبب حجاج کے لیے قربانی کی درست معلومات حاصل ہونا ایک دشوار مرحلہ ہے، حج ایپ (نُسک) لاکھوں حجاج کے متواتر استعمال کے سبب سست پڑجاتی ہے، قابلِ استعمال نہیں رہتی، جسے فنّی اصطلاح میں’’ مُعلّق (Hange)‘‘ہونا کہتے ہیں۔

قربان گاہ میں ٹور آپریٹرز کے موجود نمائندہ کی اطلاع یا سعودی حکومت کی طرف سے دیئے گئے وقت پر حلق کروالیں، آپ کا سوال صرف ایک احتمال پر مبنی ہے کہ کسی حاجی کی قربانی اور حلق کے درمیان ترتیب ساقط ہوسکتی ہے، ترتیب ساقط ہونا یقینی نہیں ہے، پس یہاں فقہائے کرام کی دی ہوئی رخصت عذر کے سبب مقبول ہوگی اور دَم لازم نہیں آئے گا، حجاج کو اختیار ہے کہ احتیاط کے طور پر دَم دے دیں یا دَم کے بدلے چھ مسکینوں کو ایک ایک صدقہ (مساوی صدقۂ فطر) دےدیں یا مساکین کودونوں وقت پیٹ بھر کھانا کھلادیں یا تین روزے رکھ لیں، کیونکہ اس میں ان کی اپنی مرضی یا کوتاہی کا کوئی دخل نہیں ہے۔(واللہ اعلم بالصواب)

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید