برمنگھم (نمائندہ جنگ) پیر طریقت رہبر شریعت سلسلہ نسبت رسولی شیر شاہ غازی غوث زماں قطب دوراں اعلیٰ حضرت پیر ہارون الرشید طویل علالت کے باعث 87برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔وفات پر پاکستان و آزاد کشمیر سمیت برطانیہ بھر اور دنیا بھر میں پھیلے ان کے مریدین اور عقیدت مندوں میں غم کی لہر دوڑ گئی،حضرت پیر ہارون الرشید کی تدفین بابا جی قاسم موہڑوی، بابا جی پیر نذیر احمد کے پہلو میں کردی گئی۔ برمنگھم میں واقع ان کے روحانی مرکز میں تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ یاد رہے گزشتہ ہفتے ان کی علالت اور ہسپتال میں داخلے کی خبر سن کر برطانیہ سے کثیر تعداد خلیفہ صوفی صفدر حسین ہارونی، صوفی محمد ایوب، خلیفہ حاجی عبدالخالق، خلیفہ مختار، خطیب مسجد مولانا محمد فرید ہارونی پاکستان روانہ ہوگئے تھے۔جامعہ مسجد ہارونیہ میں وائس چیئرمین الحاج راجہ جاوید اقبال انکروی، حاجی محمد یونس، صوفی محمد ایوب، حاجی محمد خالد، راجہ اسلم، حاجی اشرف، راجہ اسلم سمیت دیگر تعزیت کے لیے مسجد میں موجودہیں، جامع مسجد ہارونیہ آلم راک میں قل شریف کے موقع پر مرکزی دعا کرائی جائے گی اور لنگر تقسیم ہوگا۔ اس موقع پر صاحبزادہ محمد رفیق چشتی سیالوی، علامہ سید ظفر اللہ شاہ، پیر محمد طیب الرحمن قادری، قاری تنویر اقبال اور دیگر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ قبلہ پیر ہارون الرشید کی دینی و روحانی خدمات کا احاطہ کرنا مشکل ہے، ایک طویل مدت تک روحانی سلسلہ سے سکون قلبی کے حصول کے لیے مریدین مستفید ہوتے رہے، آستانہ عالیہ موہڑہ شریف سے بے شمار آستانے دنیا بھر میں روحانیت پھیلا رہے ہیں۔