• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ناشتہ دن کا سب سے اہم کھانا ہوتا ہے۔ ناشتے سے جسم کو کیلشیم اور فائبر جیسی ضروری غذائیں ملتی ہیں۔ اچھا ناشتہ کرنے سے جو تقویت ملتی ہے، اس کی وجہ سے آپ دن بھر غیر ضروری چیزیں کھانے سے دور رہ سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، ناشتہ کرنے کی عادت اور صحت مند جسم میں براہِ راست تعلق ہے۔

ماہرین کے مطابق، صبح کے کھانے کی اہمیت دیگر سب کھانوں سے زیادہ ہے۔ امریکن کالج آف کارڈیالوجی کی ایک تحقیق کے مطابق، ناشتہ زندگی لمبی بھی کر سکتا ہے جبکہ اسے چھوڑنے کی عادت کے باعث امراضِ قلب سے جان جانے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ یہ تحقیق کئی برسوں کی محنت کے نتائج کی روشنی میں تیار کی گئی ہے، جس پر امریکی یونیورسٹیوں کے محققین اور پروفیسروں نے کام کیا ہے۔ انھوں نے1988ء سے1994ء کے درمیان 40سے 75سال کی عمر کے 6ہزار550افراد کے ناشتے کی عادات کا جائزہ لیا۔

تحقیق میں شامل افراد سے سوال کیا گیا تھا کہ وہ ناشتے میں کیا کھاتے ہیں؟ اس جائزے میں شامل پانچ فیصد افراد نے کہا کہ وہ کبھی ناشتہ نہیں کرتے، تقریباً 11فیصد نے کہا کہ وہ شاذونادر کرتے ہیں اور 25فیصد نے کہا کہ وہ کبھی کبھی ناشتہ کرتے ہیں۔

1994ء تک ساڑھے چھ ہزار سے زائد افراد کے ناشتے کی عادات کا جائزہ لینے کے بعد محققین نے 2011ء تک کی اموات کے ریکارڈ کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ سروے میں شامل2ہزار318افراد اب دنیا میں نہیں تھے۔ محققین نے پھر ناشتہ کرنے کے رجحان اور اموات کے درمیان تعلق تلاش کرنے کی کوشش کی۔

طبی تحقیق کی روشنی میں پہلے ہی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ناشتہ چھوڑنے کا صحت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، تاہم سائنسدان اب بھی اس تعلق کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کا اس کے متعلق کہنا ہے کہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ناشتہ نہ کرنا براہ راست دل اور شریان کی بیماریوں سے جان جانے کا باعث بنتا ہے۔

این ایچ ایس نے اس تحقیقی رپورٹ پر ایک تفصیلی جائزہ شائع کیا، جس میں کہا گیا کہ اس تحقیق کا حصہ بننے والے وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ وہ ناشتہ نہیں کرتے، ان میں سے زیادہ تر ماضی میں تمباکونوشی کے عادی رہے تھے، وہ بہت زیادہ شراب نوشی کرتے رہے، ورزش سے بالکل دور اور غیر صحت بخش خوراک کھاتے رہے اور ناشتہ کرنے والوں کے مقابلے میں اقتصادی طور پر کمزور رہے۔ 

اس تحقیق میں صرف لوگوں کے ناشتے کی عادات پر غور کیا گیا جبکہ ان کی دیگر عادات کا تجزیہ اس میں شامل نہیں تھا۔ اس سے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ مختلف لوگوں کے لیے ناشتہ کیا اہمیت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر زیادہ تر لوگ روزانہ ناشتہ کرتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ آٹھ بجے صحت بخش ناشتہ کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ صرف ایک سینڈوچ یا سیریل بار پر گزارا کر لیتے ہیں۔

یونیورسٹی آف آئیووا میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وے باؤ اس تحقیق کے مرکزی مصنف ہیں۔ وہ این ایچ ایس کے ناقدانہ تجزیے کے جواب میں اپنی تحقیقی رپورٹ کے نتائج کا دفاع کرتے ہیں۔ ڈاکٹر وے باؤ کا کہنا ہے کہ بہت سے تجزیوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہائپرٹینشن، ذیابطیس اور ہائی کولیسٹرول کا تعلق ناشتہ چھوڑنے سے ہے۔ ایسے میں وہ کہتے ہیں کہ صحت مند دل کے لیے ناشتہ ایک آسان، مؤثر اور بہترین حل ہے۔

ڈاکٹر وے باؤ اور ان کے دیگر ساتھی محققین نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں ناشتے اور دل کے امراض کے مابین تعلق پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ناشتے اور امراضِ دل کے درمیان گہرا تعلق ہے جبکہ اس کا لوگوں کی سماجی اور اقتصادی حیثیت، جسامت، دل اور خون کے نظام کے خطرناک پہلوؤں سے تعلق نہیں ہے۔ مزید برآں، رپورٹ کے محققین یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ان کی معلومات کے مطابق ناشتہ چھوڑنے اور دل کی بیماری کے درمیان تعلق کے بارے میں یہ پہلا تجزیہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ صحت کے مطابق، دل اور شریانوں کی بیماریاں دنیا میں موت کی بڑی وجہ ہیں۔ 2016ء میں دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ52لاکھ افراد ان بیماریوں کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔