• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رواں سال بھی رمضان المبار ک کی آمد موسم ِ گرما میں ہوئی ہے جبکہ پچھلے کچھ دنوں سے سورج نے آگ برسانا شروع کردی ہے جس کے باعث گرمی کی شدت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گذشتہ کچھ سالوں سے ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے لوگوں کی جانیں جانے کی وجہ سے سرکاری اور نجی سطح پر ہیٹ اسٹروک مراکز قائم کیے جاتے ہیں۔ 

دن بدن بڑھتی ہوئی تپش اور جھلسانے والی گرمی میں غیرضروری طور پر باہر نکلنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، اس سےنہ صرف ہیٹ اسٹروک ہوسکتا ہے بلکہ جان کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ گرمی کی شدت کو دیکھتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ رمضان کے بابرکت مہینے میں سحر و افطار کے دوران ایسی خوراک لی جائے جس سے دن بھر روزے کی حالت میں جسم میں پانی کی کمی زیادہ شدت سے محسوس نہ ہو۔ گرمی کی شدت سے بچنا آپ کے اختیار میں ہے، چند احتیاطی تدابیر اختیار کرکے نہ صرف ہم خود محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ اپنے پیاروں کو بھی بہت بڑی پریشانی سے بچا سکتے ہیں۔

ہیٹ اسٹروک کی وجوہات 

موسمِ گرما میں جب درجہ حرارت40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ جاتاہے تو شدید گرمی اور چلچلاتی دھوپ کی وجہ سے ہیٹ اسٹروک کا خدشہ بڑھ جاتاہے اور اگر حفاظتی اقدامات پر فوراً عمل نہ کیا جائےتو جان سے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں چاہیے کہ

٭ کار میں بہت زیادہ دیر تک نہ بیٹھے رہیں۔

٭ ڈھیلے ڈھالے اور ہلکے کپڑے پہنیں۔

٭ کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ سائے میں رہیں۔

٭ سحری سے پہلے اور افطار کے بعد بار بار پانی پیتے رہیں۔

٭ باہر نکلیں تو گیلے تولیے سے سر اور چہرے کو ڈھک کر رکھیں۔

٭ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔

٭ چائے ، کافی اور کولڈ ڈرنک کا استعمال کم سے کم کریں۔

٭ گھر سے باہر کے کام دن کے آغاز یا اختتام پر نمٹانے کی کوشش کریں،جب موسم قدرے معتدل ہوتا ہے۔

ہیٹ اسٹروک کی علامات

٭ شدید سردرد

٭ بہت زیادہ پسینہ آنا

٭ سانس کا تیز تیز چلنا اور دل کی دھڑکن بڑھ جانا

٭ غشی طاری ہونا یا متلی ہونا

٭ پٹھوں یا بدن میں کھنچاؤ پیدا ہونا

٭ جِلد خشک یا سُرخ ہو جانا

اگر ان علامات یا کیفیت میں سے کوئی ایک بھی نظرآئے تو متاثرہ فرد کو کسی سایہ دار جگہ یا ٹھنڈے کمرے میں لے جائیں۔ اسے لٹا کر ٹانگیں اونچی رکھیں۔ اسے ٹھنڈا پانی پلائیں اور جسم پر بھی ڈالیں۔ تیز پنکھا چلادیں ، لیکن ان تمام اقدمات کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہرگز مت بھولیں۔

کون لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں ؟

ویسے تو ہیٹ اسٹروک کا شکا ر کوئی بھی ہوسکتا ہے ، لیکن ماہرین کے مطابق 60 برس یا اس سے زائد عمر کے افراد، ہائی بلڈپریشر اور امراض قلب کے مریض سمیت ایسے افراد جو کمزور جسم کے مالک ہوتے ہیں اور گرمی سمیت کوئی بھی چیز انہیں بآسانی متاثر کرسکتی ہے، سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

لہٰذا ایسے تمام افراد کو رمضان میں خاص طور پر احتیاط برتنے کی ضرورت ہے، انھیں چاہئے کہ اپنے جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔ پانی کی کمی سے بچنے کیلئے سحری اورافطار میں ایسی غذائیں استعمال کرنی چاہئیں، جو نہ صرف جسم کی غذائی ضروریات کو پورا کریں بلکہ ا سے توانائی بھی پہنچائیں۔

احتیاط

ہمیں چاہیے کہ گرمی میں سحر و افطار کے وقت چٹ پٹے، مسالے والے کھانوں اور تلی ہوئی اشیا کے بجائے سادہ غذائیں استعمال کریں۔ دہی اور لسی سحری میں بہترین رہتی ہیں۔ کھیرے کا جوس، ناریل کا پانی اور لیمن جوس وغیرہ بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوڈا مشروبات سے مکمل اجتناب کریں۔ روزہ کھجور اور پانی سے کھولیں۔ افطارکے دوران ایک ساتھ چھ سات گلاس پانی پینے سے مکمل پرہیز کریں کیونکہ اس طرح فائدے کے بجائے نقصان ہوتاہے۔ افطار کے بعد وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں۔ 

نماز، تراویح یا شاپنگ کیلئےباہر جائیں تو اپنے ساتھ پانی کی بوتل ضرور رکھیں۔ رات کو سوتے وقت بھی اپنے نزدیک پانی کی بوتل ضرور رکھیں۔ روزہ کی حالت میں گرم اور دھوپ والی جگہوں پر کم سے کم جائیں اور سایہ دار مقامات پر وقت گزاریں۔ شدید گرمی میں اینٹی ڈپریشن دوائیں نہ کھائیں، اس سے فالج کا خطرہ ہوسکتا ہے۔