• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

کھیلوں کے اداروں کو اپنے ضابطہ اخلاق میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے

پاکستان اولمپک کے سینئر نائب صد، خیبر پختونخواہ اولمپک کے صدر اور پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کے چیئرمین صدر عاقل شاہ کا کہنا ہے کہ مملکت خداداد پاکستان ٹیلنٹ کے حوالے سے بڑا زرخیز ہے، ماضی میں ہمارے کھلاڑیوں نے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کیا اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے لیکن نوجوان کھلاڑیوں کو سپورٹ کرنے والا کوئی نہیں جس سے ان کی حوصلہ شکنی ہورہی ہے۔ عالمی سطح پر نام پیدا کرنے والےکھلاڑیوں کو انعامی رقم بھی نہیں دی جاتی جس سے ان میں مایوسی پیدا ہورہی ہے۔

کھیلوں کے اداروں کے درمیان مخاصمت ختم ہونی چاہئے، ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے تاکہ اس ملک کے غریب اور باصلاحیت کھلاڑیوں کے آگے بڑھنے اور روزگار کے مسائل حل ہوسکیں، سب کو مل کر ساری توجہ ملک کے نوجوانوں بچوں اور بچیوں کو آگے بڑھانے پر صرف کرنی چاہئے۔ ہمارے ملک میں کھیلوں کی ایسوسی ایشنوں کو حکومت کی جانب سے کیا گرانٹ ملتی ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ پڑوسی ملک بھارت میں جتنا ایک کھلاڑی کی تیاری پر خرچ کیا جاتا ہے اتنا ہمارے ملک کی ایک فیڈریشن کو بھی نہیں ملتا۔ 

عمران خان جو خود بھی بڑے اسپورٹس مین رہے ہیں، ان کا دور کھیلوں کے حوالے سے بدترین دورقرار دیا جاسکتا ہے، وہ کھلاڑی کی حیثیت سے کھلاڑیوں کی تکالیف اور مشکلات سے بخوبی آگاہ رہے لیکن انہوں نے کھیلوں اور کھلاڑیوں کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی۔ آنے والا وقت ای اسپورٹس کا ہے میں پاکستان اولمپک کے سربراہ عارف حسن کو تجویز دوں گا کہ وہ ای اسپورٹس کو اپنی الحاق ایسو سی ایشنوں میں شامل کریں کیونکہ یہ کھیل آنے والے کل (فیوچر) کا گیمز ہے۔ 

نمائندہ جنگ نے عاقل شاہ سے خیبر پختونخواہ سمیت پورے ملک کے کھیلوں اور خاص طور پر پاکستان اولمپک ایسو سی ایشن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کے حوالے سے مختلف سوالات کئے۔

سوال۔ آپ سیاستدان تو ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخواہ میں کھیلوں کےحوالے سے آپ کی ایک طویل وابستگی رہی ہے۔ آپ پاکستان اولمپک کے سینئر نائب صدر بھی ہیں۔ پی او اے اور پاکستان اسپورٹس میں مخاصمت کی کیا وجہ ہے؟ جواب۔ ہماری پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ساتھ کوئی مخاصمت یا لڑائی نہیں ہے، ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہر ادارہ اپنے ضابطہ اخلاق میں رہتے ہیں ہوئے کام کرے۔ 

پی او اے کا جو کام ہے اسے کرنے دیا جائے جبکہ پاکستان اسپورٹس بورڈ اپنا کام کرے۔ اگر ہم ایک پیچ پر نہ ہوئے تو مستقبل میں کھیلوں کا جتنا بڑا نقصان ہوگا اس کا ازالہ کئی سالوں میں نہ ہوسکے گا۔ پی او اے کا الحاق انٹرنیشنل اولمپک سے ہے جس کے دو سو سے زائد ممالک رکن ہیں۔ این او سی نیشنل اولمپک کمیٹی پاکستان ایک خود مختار ادارہ ہے۔ اس میں آئی او سی قوانین کے مطابق پاکستانی حکومت کسی قسم کی مداخلت نہیں کرسکتی۔ ہم پاکستان حکومت یا کسی سے ایک پیسہ نہیں لیتے، اسپورٹس کی ڈویلپمنٹ کی ساری ذمہ داری اسپورٹس بورڈ کی ہے۔

اربوں روپے حکومت کی جانب سے گرانٹ کئے جاتے ہیں لیکن وہ کھلاڑیوں اور کھیلوں پر خرچ نہیں کئے جاتے۔ پچھلے سال کے بجٹ کے 40 کروڑ روپے جو ملک میں کھیلوں کی سرگرمیاں نہ کرانے پر بچ گئے تھے پی ایس بی نے واپس کردیئے ہیں ۔ یہاں صورتحال یہ ہے کہ نیشنل ایونٹس کے دوران بچوں کے پاس کھیلنے کے لئے جوتے ، ریکٹس اور دیگر سامان نہیں ہوتا۔ اسپورٹس بورڈ اپنا کام صحیح طریقے سے کرے تو ہمیں ہر ہر کھیل سے بے شمار باصلاحیت کھلاڑی میسر آسکتے ہیں۔ سوال۔ 1992ء سے پاکستان نے اولمپکس میں کوئی میڈل حاصل نہیں کیا۔ سارا الزام پی او اے کے سر جاتا ہے ۔ اس کی کیا وجہ ہے۔

 جواب۔ پاکستان میں کھیلوں کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے ایسا ہورہا ہے۔ دنیا بھر میں خاص طور پر ہمارے پڑوسی ملک بھار ت میں جتنا ایک کھلاڑی پر پیسہ خرچ کیا جاتا ہے اتنا ہمارے ملک کی کسی ایک فیڈریشن یا ایسوسی ایشن کو نہیں دیا جاتا۔ حکومت کا کام ہے کہ کھلاڑیوں اور کھیلوں کی ترقی کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈنگ کرے تاکہ وہ کسی بھی عالمی ایونٹس میں جانے سے قبل بھرپور تیاری کریں۔ پیسہ جاری کیا جائے تو کھلاڑی ٹریننگ اور کوچنگ لیں گے۔ گزشتہ عالمی مقابلوں میں پاکستان جیولن تھرو اور ریسلنگ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنے گائوں میں ٹریننگ لیکر جو کارنامہ سرانجام دیا ہےاس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ 

اسپورٹس تو سائنس ہے ، اس کے مختلف سیکشن ہیں جتنی زیادہ محنت کی جائے گی اس کا اتنا ہی اچھا نتیجہ اور میڈلز ملیں گے۔ ہمارے ملک میں کھیلوں کی تنزلی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نچلی سطح پر ہمارے کھلاڑیوں کی تربیت کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ماضی میں ہمیں اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز سے جو کھلاڑی ملتے تھے انہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ ان کھلاڑیوں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن اب ایک بلڈنگ میں دو دو اسکول بنا دیئے گئے ہیں۔ نہ تو وہاں گراؤنڈز ہوتے ہیں اور نہ ہی وہاں مقابلوں کا باقاعدہ انعقاد ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ تمام تعلیمی اداروں کا جائزہ لیا جائے جہاں کھیلوں کی سہولتیں نہیں ہیں نہ صرف ان کے خلاف کارروائی کی جائے بلکہ یہ ادارے بند کردیئے جائیں۔ 

ایک اہم بات میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ای گیمز مستقبل کے کھیل ہیں یہ چھاجائیں گے۔ اس کیلئے ہمیں کام کرنا ہوگا، میں پی او اے کے صدر سے خصوصی درخواست کروں گا کہ ان کھیلوں کا اپنے ادارے سے الحق کیا جائے۔ ان کھیلوں کیلئےنہ ہال چاہئے نہ گراؤنڈ گھر میں بچے کمپیوٹر پر مقابلوں میں شرکت کرسکتے ہیں۔ اس کو عالمی پذیرائی اور مقبولیت مل رہی ہے۔ 

جنگ کی وساطت سے میں حکومت کو ایک تجویز پیش کرنا چاہوں گا کہ ملک بھر میں جہاں جہاں سی پیک پر کام ہورہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے اسٹیڈیم بنانے چاہئیں۔ چینی انجینئرز نے دنیا بھر میں بڑے بڑے جدید قسم کے اسٹیڈیم بنائے ہیں اور وہ اس میں مہارت رکھتے ہیں۔ سی پیک کے ساتھ ساتھ اس منصوبے پر عمل کرنے سے اسٹیڈیم اور گرائونڈز کی کمی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید