• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امی، ماں ،اماں ،ممی ،ماما کس بھی نام سے پکارو ہر لفظ بے لوث محبت، خلوص، جاشنی اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ ہر لفظ میں وہی مٹھاس اور شیرینی جو دل تک اُتر جائے۔ ماں دنیا کا وہ پیارا لفظ ہے ،جس کو سوچتے ہی ایک محبت، ٹھنڈک ،پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے ۔ماں کی عظمت میں کچھ لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ اس کا سایہ ہمارے لیے ٹھنڈی چھائوں کی مانند ہوتا ہے۔ تپتی دھوپ میں اس کا دست ِشفقت شجر ِسایہ دار کی طر ح سائبان بن کر اولاد کو سکون کا احساس دلاتا ہے ۔ خود بے شک کانٹوں پر چلتی رہے ، مگر اولاد کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی ہے اور دُنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتی ہے اِس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دُنیا میں پیدا نہیں ہوئی، آندھی چلے یا طوفان آئے، اُس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی ۔

وہ نہ ہی کبھی احسان جتاتی اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتی ہے بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبت اولاد پر نچھاورکرتی رہتی ہے۔ ماں ایک ایسا رشتہ ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ پُر خلوص ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کا محور صرف اس کی اولاد ہوتی ہے۔ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلی جائے اُس کی دعائیں سائے کی طرح ہمیشہ بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ یہ دعائیں ہی تو ہوتی ہیں جو بچوں کو فرش سے عر ش پر پہنچا دیتی ہیں۔ ماں تپتی دھوپ میں باد نسیم کے جھونکوں کی مانند ہے۔ اس کی گرم گود سردی کااحساس نہیں ہونے دیتی۔ ہم نے چند نام ور شخصیات سے ان کی مائوں کی تربیت، بچپن میں کی گئی نصیحتیں ،روک ٹوک اور عادتوں کے بارے میں پوچھا، انہوں نے اس حوالے سے جو کچھ ہمیں بتایا ،آپ بھی جانیے۔

اماں کی ایک بات گرہ سے باندھ لی ،ہر کام حد میں رہ کر کرنا کبھی اسے پار نہ کرنا

نسرین جلیل

جس روز انہیں گورنر سندھ کے عہدے کے لیے نام زد کیا گیا۔ وہ مائوں کا عالمی دن تھا۔ یہ دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کی ماں ہیں۔ سابق سینیٹر، ڈپٹی کنوینر ، نسرین جلیل نے اپنی ماں کے اندازے تر بیت کے بارے میں بتایا کہ میرے امی کا اندازے تربیت بہت ہی دوستانہ تھا ،حالاں کہ ان پر بچوں کے علاوہ گھر کی بھی بہت زیادہ ذمہ داری تھی ،کیوںکہ آزادِ وطن کے وقت میرے والد ڈپٹی کمیشنر لاہور تھے ،تواس وجہ سے امی کو گھر کے ساتھ ساتھ دیگر ذمہ داریاں بھی نبھانی ہوتی تھیں۔ 

اس کے علاوہ وہ اور بھی دیگر فلاحی کام کررہی تھیں تو بچوں پر توجہ دینے کے لیے زیادہ وقت نہیں ہوتا تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہم چاروں بہن، بھائی کو یہ بتا یا دیا تھا کہ کس وقت ہمیں پڑھنے بیٹھنا ہے ،کس وقت کیا کام کرنا ہے، ہمارے ہر کام کا وقت مقرر تھا۔ بچپن میں کبھی بھی کسی بات پر نہ ڈانٹا، نہ روک ٹوک کی۔تمیز کے دائرے میں رہتےہوئے ہر کام کرنے کی اجازت تھی۔

میں یہاں اپنی امی کے بارے میں ایک بات ضرور بتانا چاہوں گی کہ امی کا تعلق بھارت کے ایک چھوٹے سے گائوں سے تھا 18 سال کی عمر میں آئی سی ایس آفسر سے ان کی شادی ہو گئی، شادی کے وقت وہ اتنی زیادہ سوشل نہیں تھیں۔ لیکن بعد میں انہوں نے لوگوں میں اُٹھنا بیٹھنا سیکھا ،میرے والد کا جو سوشل سرکل تھا اس میں کیسی ڈریسنگ کرنی ہے ،کہاں کیسے بات کرنی ہے ، کس طر ح چلنا، اُٹھنا بیٹھا سب کچھ بہت اچھی طر ح خود بھی سیکھا اور بچوں کو بھی سکھایا۔ 

وہ چاہتی تھیں کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے دنیا میں اپنا نام روشن کریں ،جب کہ ان کا خاندان بہت دقیانوسی خیالات کا حامل تھا۔ لیکن وہ خود بہت ماڑدن خیالات رکھنے والی اور زمانے کے لحاظ سے چلنے والی خاتون تھیں۔ وہ ہمیشہ ہم سب بہن ،بھائیوں کو نصیحت کرتی تھیں کہ جو کام بھی کرو پوری محنت اور لگن سے کرو اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو ،پھر دیکھنا کام یابی کیسے تمہارے قدم چومتی ہے۔

امی کی زیادہ تر عادتیں مجھے میں ہیں، میری بڑی بہن کہتی ہیں کہ ،تم بالکل امی کی طر ح ہو۔ وہ بہت سلیقہ مند ،کفایت شعار اور نفاست پسند خاتون تھیں۔ انہوں نے کبھی بھی کسی کام کو کرنے سے منع نہیں کیا نہ کہیں آنے جانے میں روک ٹوک کی۔ وہ ہر فیصلے میں ہمارا ساتھ دیتی، ہر قدم پر حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ اور نہ کبھی یہ کہا کہ تم لڑکی ہو تو تم یہ کام نہیں کرسکتی۔ اس شعبے میں نہیں جا سکتیں۔ ایک بات انہوں نے ہمیں اچھے سے سمجھا دی تھی کہ جو بھی کام کرنا حد میں رہ کرکرنا ،حد پار کرنے کی کوشش کبھی نہیں کرنا۔ اس سے صرف تمہارا ہی نقصان ہو گا۔ اور ان کی اس بات پر میں آج تک عمل کرتی ہوں۔

زندگی میں میانہ روی کا خاص درس دیا،

سمیحہ راحیل قاضی

سابق ممبر پارلیمنٹ ،اسلامی نظریاتی کونسل ،سمیحہ راحیل قاضی نے اپنی امی کے انداز تربیت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہت شفقت اور دوستانہ انداز میں ہماری تربیت کی اور آج تک میں ان سے کوئی بات نہیں چھپا سکی اور اگر کبھی کوئی بات چھپانے کی کوشش بھی کرتی تو وہ چہرہ دیکھ کر سمجھ جاتی ہیں کہ میں کچھ چھپا رہی ہو۔ تعلیم کے معاملے میں وہ بہت زیادہ سخت تھیں، دینی اور دنیاوی تعلیم میں انہوں نے کبھی بھی سمجھو تہ نہیں کیا۔

مجھے نہیں یا د کبھی انہوں نے ہمیں اسکول کی چھٹی کرائی ہو یا قرآن پڑھنے کا ناغہ کروایا ہو۔ نماز کی پابندی اور عبادت کرنے پر سب سے زیادہ زور دیتی تھیں۔ امی نے لوگوں کی خدمت کرنے کا جذبہ بچپن سے ہمارے اندر پیدا کیا۔ وہ انتہائی نفیس، سگھڑ، کفایت شعار اور سلیقہ مند خاتون ہیں اور ان کی یہی عادت میرےاندر بھی آئی ہے۔ وہ ہمیشہ ایک نصیحت کرتی ہیں کہ اپنی آمدنی کاصرف نصف حصہ خرچ کرو۔ سادہ طرز زندگی اپنائو۔ زندگی میں میانہ روی کاخاص درس دیا۔ دوستوں کے ساتھ کہیں آنے جانے یہ ان کے گھر جانے کی کبھی اجازت نہیں دی۔ ان کا ہم پر بچپن سے ایک کنٹرول ہے اور یہ کنٹرول آج تک بر قرار ہے۔

وقت کی پابندی امی سے سیکھی، سلیمہ ہاشمی

سابق ڈین، این سی اے،استاد ،پینٹرآرٹسٹ ،سلیمہ ہاشمی نے بتا یا کہ میری امی کا انداز تربیت سخت بھی تھا اور دوستانہ بھی تھا ،وہ وقت کی بہت زیادہ پابند تھیں۔ میں بچپن میں بہت زیادہ لاپروا تھیں تو اس بات پر مجھے ڈانٹتیں تھیں۔ لیکن مارا کبھی بھی نہیں ۔میری امی بہت زیادہ محنتی خاتون تھیں اور ہمیں بھی یہی نصیحت کرتی تھیں کہ ہر کام پوری محنت اور لگن سے کرو ،خود کفیل بنو۔

تعلیم پر بہت زیادہ سختی کرتیں۔ امی کی ایک عادت تھی کہ وہ دن بھر کے کاموں کی ایک فہرست بنا لیتی تھیں ،جیسے جیسےکام ہوتے جاتے وہ اُس میں سے کرا س کرتی رہتی تھیں ،ان کی یہ عادت میں نے بھی اپنا لی ہے ۔فضول خرچی کرنے کی اجازت کبھی نہیں ملی ،وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ اپنا پیسہ صحیح کاموں میں خرچ کرو۔

امی کا انداز تربیت سخت تھا نہ نرم، فاطمہ حسن

شاعرہ، فاطمہ حسن نے اپنی ماں کے بارے میں اظہارخیال کرتے ہوئے بتایا کہ امی کا انداز تربیت نہ سخت تھا اور نہ بہت نرم تھا، قدرے دوستانہ تھا جہاں سختی کی ضرورت پیش آتی تو وہ سختی بھی کرتیں اور جہاں دوست بنا پڑتا وہاں دوست بن جاتی تھیں۔ لیکن زیادہ تر وہ نرم رویہ رکھتی تھیں۔ میں ان کی سب سے بڑی بیٹی ہوں ، اسی لیے مجھے سے دوستی زیادہ تھی ۔ انہوں نے ہمیں گھر سے باہر رہنے کی اجازت کبھی نہیں دی۔

کسی دوست یا رشتے دار کے گھر روکنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں ، ہمیں کہیں بھی جانا ہوتا تو امی اپنے ساتھ لے کر جاتی تھیں۔ وہ جھوٹ بولنے اور کسی کی برائی کرنے کو ناپسند کرتی تھیں ،اگر بچپن میں کسی سے کوئی چیز لے کر کھا لیتے تھے تو وہ اس پر سخت ناراض ہوتی تھیں ۔ان کی ایک بہت اچھی عادت یہ تھی کہ وہ کبھی بھی کسی کی برائی یا غیبت نہیں کرتی تھیں۔ اور ان کی یہ عادت میں نے بھی اپنائی ہے۔

’’ایک چُپ سوسُکھ‘‘ امی کی

تربیت سے سیکھا، اسماء عباس

سنیئر اداکارہ اسماء عباس نے اپنی ماں کے حوالے سے بتایا کہ ان کا اپنی امی کےساتھ دوستانہ رشتہ ہے۔ بچپن سے امی نےکسی بات پر اتنا زیادہ سختی نہیں کی۔وہ بہت ٹھنڈے مزاج کی خاتون ہیں ،بس کبھی کبھی گھر کے کام نہ کرنے پر تھوڑا بہت ڈانٹتی تھیں۔ ہم چاروں بہنوں میں سب سے زیادہ میں اپنی امی کے قریب ہوں، میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہےجیسا کہ گھر داری، شوہر کی خدمت کرنا ،سلیقہ مندی،ادب ،تہذیب ،سگھڑ پن ۔امی کے ساتھ میری زیادہ دوستی ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شادی کے بعد بھی وہ میری ساتھ رہیں اور آج تک میرے ساتھ ہیں۔

امی پچپن سے ایک سبق سیکھاتی آئی ہے ’’ایک چپ سو سُکھ ‘‘اس کو میں نے اپنے پلو سے باندھ لیا ۔ چپ رہنا ،صبر کرنا ،خاموشی اختیار کرنا اور ہر حال میں شکر کرنا میں نے اپنی امی سے سیکھا ہے ،انہیں بچپن سے یہی کرتے دیکھا ہے ۔اور یہی سبق میں اپنی بیٹی کو بھی سکھاتی ہوں۔ امی کی کافی ساری عادتیں میں نے اپنائی ہیں۔

مجھے نہیں یاد امی نے کبھی کسی کام کے لیےمنع کیا ہو ،یا کسی بات پر روک ٹوک کی ہو ۔وہ ہر قدم پر ہمارا ساتھ دیتی تھیں۔ ماں ایک ایسا رشتہ ہے ،جس سے آپ اپنی ہر بات آسانی سے کرسکتے ہیں۔ ماں ہی ہوتی ہے جو اپنے بچوں کی ہر طر ح کی بات بر داشت کرتی ہے ،بچوں کی دکھ ،تکلیف کا در جتناماں کو ہوتا ہے،اتنا کسی کو بھی نہیں ہوتا۔ ماں ہی ہوتی ہے جو ہر مشکل وقت میں اپنے بچے کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ۔ہر قدم پر اس کا ساتھ دیتی ہے۔

امی کی نصیحت تھی ،’’آج کچھ چھپاؤ گے تو

کل بھی ایسا ہی کروگے‘‘، مظہر عباس

سنیئر صحافی ،معروف کالم نگار ،تجزیہ نگار،مظہر عباس نے بتا یا کہ جب میں 7 سال کا تھا تو میری ماں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں ، لیکن ان کی بنیا دی تر بیت مجھے آج بھی یا د ہے ،ان کا پیار ،محبت اور غلط باتوں پر ڈانٹنا آج بھی ذہن میں نقش ہے۔ غلط باتوں پر لازمی روک ٹوک کرتی تھیں ،ان کی پچپن کی روک ٹوک آج بھی زندگی کے ہر موڑ پر میری رہنمائی کرتی ہے ۔وہ ہماری تعلیم اور صفائی ستھرائی پر خاص توجہ دیتی تھیں ،ان چیزوں پر ان کی شفقت ،ڈانٹ اور کبھی کبھار مار بھی شامل ہوتی تھی۔

امی ہمیشہ ایک نصیحت کیا کرتی تھیں کہ کچھ بھی ہو جائے لیکن زندگی میں کبھی بھی جھوٹ نہیں بولنا ،چاہےغلطی پر ہو تب بھی جھوٹ نہیں بولنا ،اگر آج کچھ چھپاؤ گے توکل بھی چھپائوں گے اور پھر ہمیشہ چھپاتے رہو گے۔ ایک مرتبہ جھوٹ بولنے کا نقصان تمہیں ساری زندگی اُٹھانا پڑے گا۔ اگر وہ کسی بات پر ڈانٹتیں یا مارتیں تھیں۔ تو اس کے بعد سمجھاتی بھی تھیں کہ میں نےاس بات پر کیوں مارا یا ڈانٹا ہے۔ امی کو اچھی ڈریسنگ کا بہت شوق تھا ،ان کی یہ عادت مجھے میں آئی ہے ۔ ماں سے بڑی نعمت دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے ،جن کی مائیں زندہ ہیں وہ ان کا خیال رکھیں ،کیوں کہ جب وہ چلی جاتی ہیں تو بہت یاد آتی ہیں ۔

امی کہتی تھیں ،لوگوں سے پیار کرو،

انہیں خوش رکھو، جاوید شیخ

معروف سینئر اداکار، جاوید شیخ نے اپنی ماں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتا یا کہ میرے ماں کا انداز تربیت بہت ہی دوستانہ تھا، انہوں نے مجھے کسی بھی بات پر نہ ڈانٹا ،نہ مارنا، نہ کسی کام کو کرنے سے روکا ،میرے جو شوق تھے ان کو پورا کرنے میری مددکی ، جب تک زندہ رہیں زندگی کے ہر موڑ اور ہر فیصلے میں میرا بھرپور ساتھ دیا، جب میں اداکاری کی دنیا میں آیا تو سب سے زیادہ مجھے جس نے سپورٹ کیا وہ میری ماں تھی ۔حالاں کہ میرے والد مخالف تھے لیکن اس کے باوجود میرےماں نے مجھے اداکاری کرنے کی اجازت دی۔ 

میں ان کی پہلی اولاد تھا تو اسی لیے بھی مجھے تھوڑا زیادہ پیار ومحبت کرتی تھیں۔ وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ لوگوں سے پیار کرو ،خوش رکھو،آپس میں مل کر رہو ،ایک دوسرے کاخیال کرو ۔ امی گھومنے پھیرنے کی بہت شوقین تھیں، ان کی یہ عادت مجھے میں آئی ہے ،میں بھی ان کی طر ح گھومنے کا شوق رکھتا ہوں۔ ماں کے بغیر دنیا میں کچھ بھی نہیں ہے ۔جن کی مائیںزندہ ہیں وہ ان کی قدر کریں، ان کا خیال رکھیں، ان کو کوئی تکلیف نہ ہونے دیں۔