• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز، سلیکٹرز نے سینئر کھلاڑیوں کو ہوم سیریز میں آرام نہیں دیا

ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان کے مقابلے میں کچھ کمزور حریف تصور کی جاتی ہے اس کے باوجود پاکستانی سلیکٹرز نے سینئر کھلاڑیوں کو ہوم سیریز میں آرام نہیں دیا۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سینئر کھلاڑی آرام کرنے کے موڈ میں نہیں، کپتان بابر اعظم بھی کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے۔ یہ سیریز آئی سی سی ورلڈ کپ سپر لیگ کا حصہ ہے۔ اس لیگ میں شامل 13ٹیموں میں سے پہلی سات پوزیشن کی ٹیمیں اور میزبان بھارت آئندہ سال ہونے والے عالمی کپ میں براہ راست حصہ لیں گے۔باقی پانچ ٹیموں کو پانچ ایسوسی ایٹ ٹیموں کے ساتھ کوالیفائنگ راؤنڈ میں حصہ لینا ہوگا اور اس راؤنڈ سے دو ٹیمیں ورلڈ کپ میں جگہ بنائیں گی۔

بھارت کےورلڈ کپ میں دس ٹیمیں حصہ لیں گی۔ اس وقت آئی سی سی ورلڈ کپ سپر لیگ میں پاکستان کی پوزیشن نویں ہے جبکہ ویسٹ انڈیز کا نمبر دسواں ہے۔ آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں پاکستانی ٹیم پانچویں اور ویسٹ انڈین ٹیم آٹھویں نمبر پر ہے۔ ہوم گراؤنڈ پر آخری سیریز میں پاکستان نے آسٹریلیا کو دو ایک سے شکست دی تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ہونے والی یہ ون ڈے سیریز بائیو سکیور ببل کے بغیر کھیلی جائے گی۔ 

ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو پاکستان آمد پر کووڈ ٹیسٹ کے مرحلے سے ضرور گزرنا ہوگا لیکن پہلے جس طرح کھلاڑیوں کے ایک سے زائد بار کووڈ ٹیسٹ ہوا کرتے تھے وہ نہیں ہوں گے البتہ اگر کسی کھلاڑی کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آیا تو اسے پانچ روز کے لیے آئسولیشن میں رہنا ہو گا۔ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ ،ون ڈے اور ٹی ٹوئینٹی میچ کے بعد دوماہ زیادہ تر پاکستانی کرکٹرز نے آرام کیا اب پاکستانی ٹیم کو ملتان کے سخت گرم موسم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ون ڈے انٹر نیشنل میچ کھیلنا ہیں۔

ملتان میں جون میں میچ کھیلنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا کیوں کہ ملتان ملک کے ان شہروں میں سے ایک ہے جہاں دن کی طرح رات میں بھی موسم گرم ہوتا ہے لیکن ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کی وجہ سے میچوں کو پنڈی سے ملتان اسٹیڈیم منتقل کردیا گیا ہے۔ پنڈی میں ممکنہ کشیدگی کی وجہ سے حکومت نے میچ شفٹ کرنے کی اجازت دی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے دونوں ٹیموں کو غیر ملکی سربراہوں کے مساوی سیکیورٹی دی جائے گی۔

پنڈی ، اسلام آباد میں سیاسی حالات اور امن و امان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ان میچوں کوملتان میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ملتان14سال بعد کسی ون ڈے انٹرنیشنل کی میزبانی کرے گا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف ہونے والی یہ سیریز دراصل ملتوی شدہ سیریز ہے جو گذشتہ سال دسمبر میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد ہونا تھی لیکن ویسٹ انڈین ٹیم کے تین کھلاڑی پاکستان آتے ہی کووڈ میں مبتلا ہوگئے تھے جبکہ تین دیگر کھلاڑیوں کے کووڈ ٹیسٹ آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سے قبل مثبت آئے تھے جس کی وجہ سے اس کےا سکواڈ میں صرف 14 کھلاڑی کھیلنے کی پوزیشن میں باقی رہ گئے تھے۔

اس لیے ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے درخواست کی تھی کہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد یہ دورہ ختم کردیا جائے اور ویسٹ انڈیز کی ٹیم جون میں دوبارہ پاکستان آکر ون ڈے سیریز کھیلے گی۔ محمد وسیم کی سربراہی میں سلیکشن کمیٹی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز کی ٹیم میں پانچ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ سعود شکیل، آصف آفریدی، حیدر علی، آصف علی اور عثمان قادر ڈراپ کر دیے گئے ہیں۔

سعود شکیل جنھوں نے گذشتہ سال انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا آسٹریلیا کے خلاف ایک اننگز میں بیٹنگ کرتے ہوئے صرف تین رنز بنا پائے تھے۔کاونٹی کرکٹ میں رنز کے ڈھیر لگانے والے شان مسعود ایک بار پھر سلیکٹرز کو متاثر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ شان مسعود کی پاکستان کپ میں اچھی کارکردگی کے باوجود سلیکٹر نے انہیں ویسٹ انڈیز کی ہوم سیریز میں منتخب کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس سے قبل آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں بھی ان کا نام شامل نہیں تھا۔ شان مسعود نے اس سال کاونٹی چیمپن شپ میں دو ڈبل سنچریوں اور ایک سنچری کی مدد سے دھواں دار کارکردگی دکھائی ہے۔

شان مسعود نے اس سیزن میں9 اننگز میں844 رنز بنائے ہیں۔ اوپنر شان مسعود کی کوئی جگہ نہیں ہے مسلسل اچھی کارکردگی کے باوجود وہ سلیکٹرز، ہیڈ کوچ اور کپتان بابر اعظم کو متاثر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ڈاربی شائر کاونٹی نے شان مسعود کو ٹی ٹوینٹی ٹیم کا کپتان مقرر کردیا ہے۔ شان مسعود ٹی ٹوینٹی بلاسٹ میں ڈاربی شائر کی قیادت کریں گے شان مسعود انگلینڈ ٹی ٹوینٹی میں کسی کاؤنٹی کی کپتانی کرنے والے دوسرے پاکستانی ہوں گے اس سے قبل وسیم اکرم ہمپشائر کی ایک میچ میں قیادت کرچکے ہیں۔

وہ پاکستان انڈر19، یوبی ایل، پی ایس ایل میں ملتان سلطانز کی قیادت بھی کرچکے ہیں پاکستانی بیٹر ڈومیسٹک میں سدرن پنجاب اور کے پی ایل میں باغ اسٹالینز کی کپتانی بھی کرچکے ہیں۔ ایک زمانے میں انہیں پاکستان ٹیم کا مستقبل کا کپتان کہا جارہا تھا۔ اب یہ محض اتفاق کہیں یا یہ فیصلہ دانستہ کیا گیا ہے کہ شان مسعود ایک بار پھر پاکستانی سلیکٹرز کے پلان میں نہیں ہیں۔آسٹریلیا کی ٹیسٹ سیریز میں ان پر امام الحق کو ترجیح دی گئی۔ون ڈے ٹیم میںوہ عبداللہ شفیق کی جگہ لے سکتے تھے۔

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے شان بنیادی طور پر اوپنر ہیں لیکن انہیں مڈل آرڈر میں بھی موقع دیا جاسکتا تھا۔ سلیکٹرز اور ٹیم انتظامیہ نے حیرت انگیز طور پر افتخار احمد پر اعتماد برقرار رکھا ہے جو آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں بُری طرح ناکام رہے تھے اور دو اننگز میں صرف دس رنز بنانے میں کامیاب ہو سکے تھے جبکہ واحد ٹی ٹوئنٹی میں بھی وہ محض 13رنزا سکور کر پائے تھے۔ اسی طرح لیگ اسپنر زاہد محمود جنہیں ان فٹ محمد نواز کی جگہ آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں کھیلنے کا موقع ملا تھا تین میچوں میں 45 کی اوسط سے صرف چار وکٹیں حاصل کر پائے تھے۔

آل راؤنڈر شاداب خان فٹ ہونے کے بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف آئندہ ماہ ہونے والی ون ڈے سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ وہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں ٹیم میں شامل کیے گئے تھے لیکن فٹ نہ ہونے کی وجہ سے ایک بھی میچ نہیں کھیل پائے تھے۔ شاداب کے علاوہ محمد نواز کی بھی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ وکٹ کیپر بیٹسمین اس سال پاکستان سپر لیگ میں اپنی جارحانہ بیٹنگ کی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے۔ 

انھوں نے پی ایس ایل کے اپنے پہلے ہی میچ میں پشاور زلمی کی طرف سے کراچی کنگز کے خلاف صرف 27 گیندوں پر 49 رنز کی میچ وننگ اننگز کھیلی تھی جس کے بعد وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف بھی صرف 32 گیندوں پر 70 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے تھے۔ محمد حارث نے پاکستان کپ ایکروز کرکٹ ٹورنامنٹ میں بھی ایک نصف سنچری کی مدد سے 239 رنز بنائے تھے۔ وہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کے لیے اعلان کردہ اسکواڈ میں بھی شامل تھے تاہم محمد رضوان کی موجودگی میں انھیں کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔

اس بار بھی رضوان ٹیم کا حصہ ہیں اس لئے حارث اسی صورت میں ٹیم میں شامل ہوسکتے ہیں اگر وہ اسپیشلسٹ بیٹر کی حیثیت سے کھیلیں۔ اس سے قبل وہ پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی کی جانب سے کامران اکمل کی موجودگی میں کھیل چکے ہیں۔ طویل انجری کے بعد شاداب خان فٹ قرار دیئے گئے ہیں۔ شاداب اس وقت انگلینڈ میں یارک شائر کی نمائندگی کرنے گئے ہوئے ہیں۔ شاداب خان کو آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں نائب کپتان کے طور پر شامل کیا گیا تھا لیکن گروئن کی تکلیف کے سبب وہ ایک بھی میچ نہیں کھیل پائے تھے۔ سلیکٹرز کو اس بات پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ ان فٹ ہونے کے باوجود وہ ٹیم کے ساتھ کیوں رہے تھے۔

شاداب خان نے اس سال پاکستان سپر لیگ میں 19 وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن پاکستان کپ ایک روزہ ٹورنامنٹ میں وہ صرف دو میچ کھیل پائے تھے جن میں انھوں نے دو وکٹیں حاصل کی تھیں۔ شاداب خان نے اس سال انگلش کاؤنٹی یارکشائر سے ٹی ٹوئنٹی میچوں میں کھیلنے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ وہ پہلے پانچ اور آخری کے چھ میچوںکےلیےکاؤنٹی کودستیاب ہوں گے۔ فاسٹ بولر شاہنواز دھانی آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کے لیے ون ڈےٹیم میں شامل کیے گئے تھے لیکن کسی میچ میں نہیں کھیلے تھے۔ شاہنواز دھانی نے اس سال پاکستان سپر لیگ میں سترہ اور پاکستان کپ میں پندرہ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید