• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کم عمر لڑکی سے نکاح سے متعلق درخواست، لڑکی کو لڑکے کیساتھ جانے کی اجازت

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے مبینہ اغوا کے بعد کم عمر لڑکی سے زبردستی نکاح سے متعلق درخواست پر لڑکی کا بیان لینے کے بعد لڑکے کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ ہائی کورٹ میں مبینہ اغوا کے بعد کم عمر لڑکی سے زبردستی نکاح سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ پولیس نے لڑکی اور لڑکے کو عدالت میں پیش کیا۔ لڑکی نے بیان دیا کہ مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا آفتاب سے شادی کی ہے۔ اس موقع پر لڑکی کے والد نے بیان دیا کہ میری بیٹی امہ ہانی کو 21 مئی کو حیدر آباد سے اغوا کیا گیا۔ لڑکی کی عمر 11 سال ہے، اغوا کے بعد شادی کی گئی۔ بیٹی چھٹی کلاس میں پڑھتی ہے، یہ لوگ مافیا ہیں بیٹی کو بیچ دیں گے۔ جسٹس جنید غفار نے ریمارکس دیئے کہ گمشدگی کا کیس تھا، لڑکی عدالت میں پیش ہوچکی، مزید کچھ نہیں کرسکتے۔ جس کو بھی تحفظات ہیں، ٹرائل کورٹ سے رجوع کرے۔ اس موقع پر والد نے عدالت میں آہ و بکا کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدالت سے انصاف نہیں مانگیں تو پھر کہاں جائیں۔ جس پر جسٹس جنید غفار نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے دعا زہرہ جیسے ہائی پروفائل کیس میں ایسا نہیں کیا تو جو آپ چاہ رہے ہیں اس میں کیسے کردیں گے؟ جو طریقہ کار ہے وہی اختیار کیا جائے۔ عدالت نے پولیس کو لڑکی کا بیان لینے کے بعد لڑکے کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ والد کی جانب سے عدالت میں لڑکی کے اسکول اور امتحانی سرٹیفکیٹس بھی پیش کئے گئے۔ جن کے مطابق امہ ہانی کی پیدائش 2010 کی ہے۔ جبکہ نکاح نامے پر لڑکی کی عمر 18 سال درج ہے۔