• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فضائی آلودگی میں کمی، حکومت سے گریٹر مانچسٹر میں غیر مقامی ٹیکسیوں پر پابندی کی اپیل

بولٹن ( ابرار حسین) حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ گریٹر مانچسٹر میں غیر مقامی لائسنس یافتہ ٹیکسیوں پر پابندی عائد کی جانی چاہئے تاکہ فضائی آلودگی کو صاف رکھنے میں مدد مل سکے جو ٹیکسی ڈرائیورز مقامی سطح پر رجسٹرڈ نہیں ہیں ان پر پابندی عائد کی جائے۔ سٹی ریجن اس پابندی کو نافذ کرنے والے نئے ضوابط متعارف کرانے اور اس سےانحراف کے بارے میں اپنی آئندہ بات چیت میں حکومت کی تمام توجہ حاصل کرے گی اور یہ معاہدہ کرے گی کہ فی الوقت جو ٹیکسیاں کہیں کی بھی جو باہر کی لائسنس یافتہ ہیں وہ گریٹر مانچسٹر میں قلیل مدت کیلئے کام کر سکتی ہیں خواہ وہ مقامی کونسلز کے معیار پر پورا نہ بھی اترتی ہوں تاہم گریٹر مانچسٹر کےمقامی حکام تمام ٹیکسیوں اور نجی کرایہ پر لینے والی گاڑیوں کے لئے مشترکہ طور پر لائسنسنگ معیارات متعارف کرانے کے خواہاں ہیں جس سے ڈرائیورز ، گاڑیوں اور آپریٹرز کے لئے تمام باروز میں ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھتی ہوں، اس میں ڈرائیورز کے بار بار مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرنا جس میں ان کی انگریزی زبان کی مہارت کی جانچ اور تمام مقامی ٹیکسیوں کے لئے مشترکہ رنگ پیدا کرنا شامل ہے۔ تاہم، صاف ائر زون جس سے ٹیکسیوں پر بھی اثر پڑے گا اس سے قبل کم سے کم لائسنسنگ معیارات میں سے رول کو روک دیا گیا تھا مگر اس بار اینڈی برنہم کا کہنا ہے کہ وہ یقین نہیں کر سکتے کہ حکومت ابھی بھی کلین ائر زون اسکیم میں ڈرائیورز سے چارج کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کے بعد حکومت اپنے خلاف عوامی رد عمل کا سامنا کر رہی ہے، اس رد عمل کے باعث حکومت اس آخری تاریخ کو پیچھے ہٹ گئی جس کے ذریعہ مقامی کونسلز کو فضائی آلودگی کو قانونی حدود سے نیچے لانے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ گریٹر مانچسٹر کی کونسلز ایک نظر ثانی شدہ اسکیم پیش کرنے والی ہیں جس کا مقصد 2026کی نئی آخری تاریخ کے بعد ہوا کے معیار کی تعمیل حاصل کرنا ہے۔ پچھلے منصوبے کے برعکس جس میں سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والی وین ، لاریوں ، بسوں اور ٹیکسیوں نے شہر کے علاقے کی سڑکوں کو استعمال کرنے پر روزانہ جرمانہ وصول کیا اس نئی تجویز میں کسی بھی طرح کی گاڑیوں سے چارج کرنا شامل نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے ، بسوں ، لاریوں اور ٹیکسیوں کو جو اخراج کے معیارات کی تعمیل نہیں کرتے ہیں انہیں حکومت کی مالی اعانت سے چلنے والی گرانٹ کا استعمال کرتے ہوئے گاڑیوں کی اَپ گریڈ کے لئے نقد رقم کی پیش کش کی جائے گی تاہم اس ماہ کے شروع میں مقامی رہنماؤں کو لکھے گئے خط میں، سیکرٹری ماحولیات جارج یوسٹیس نے تجویز پیش کی کہ ابھی بھی چارج کیا جائے، لیکن اس کا دائرہ اختیار صرف مانچسٹر سٹی سینٹر تک محدود ہو گریٹر مانچسٹر کا معاملہ جمعہ کو ایئر کوالٹی ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے اجلاس سے پہلے شائع ہونے والی ایک مسودہ تجویز میں طے کیا گیا ہے۔ دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح علاقے سے باہر نجی کرایہ کی بکنگ پر پابندی لگانے سے کونسلز کو مقامی طور پر آلودگی کی سطح کو کنٹرول کرنے اور ہوا کو صاف رکھنے کے علاوہ ایم و ی ٹی کی شکل میں بینیفٹ حاصل ہو گا اس کا استدلال ہے کہ اس طرح کے اقدام سے مقامی حکام کو شہر کے علاقے میں چلنے والی ٹیکسیوں کے اخراج کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک ’’مضبوط ریگولیٹری ٹولز‘‘ ملیں گے۔ مسودہ دستاویز میں مذید کہا گیا ہےکہ علاقے سے باہر آپریشن منصفانہ، محفوظ اور جمہوری طور پر طے شدہ مقامی لائسنسنگ معیارات کی چوری کے قابل بناتا ہے، جو عوامی تحفظ کے ساتھ ساتھ ڈرائیور اور گاڑی کے معیار کو آہستہ آہستہ بہتر کرنے کے لیے مقامی اقدامات کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ’’گریٹر مانچسٹر کلین ائر پلان‘‘ کے تحت، مقامی لائسنسنگ کے معیارات فراہم کرنے کی اہلیت گریٹر مانچسٹر میں چلنے والی ٹیکسیوں کے اخراج کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد کرے گی جب کہ غیر تعمیل گاڑیوں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے مراعات فراہم کرے گی۔ یہ تکمیلی اقدام گریٹر مانچسٹر میں مطلوبہ کی حد سے تجاوز کی سطح کو پورا کرنے کی صلاحیت کو مزید یقینی بنائے گا۔