• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قونصلیٹ جنرل پاکستان اور یوکے پی سی سی آئی کے اشتراک سے مینگو فیسٹیول

مانچسٹر(غلام مصطفیٰ مغل)پاکستان کے 75ویں یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پربرطانیہ میں قونصلیٹ جنرل پاکستان مانچسٹر اور یوکے پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اشتراک سے مانچسٹر سٹی سنٹر میں ’’پاکستان مینگو فیسٹیول‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ پاکستانی مینگو فیسٹیول کا افتتاح برطانوی وزیراعظم کے مشیر تجارت برائے پاکستان مارک ایسٹ ،قونصلر جنرل طارق وزیر خان،شیڈووزیر انصاف محمد افضل خان،ٹریڈ اتاشی محمد اختر،عامر خواجہ،محمد شاہجان مدنی،ڈپٹی لارڈ میئر مانچسٹر کونسلر یاسمین ڈار،کونسلر رب نواز اکبر،کونسلر حامد علی اور دیگر نے کیا۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ فیسٹیول میں پاکستانی آموں کی نمایاں اقسام سنہرا، فجری، انور رٹول، دیسی، چونسہ، سفید چونسہ، کالا چونسہ، لال بڈھسہ، سندھڑی اور پیلیٹ کی نمائش کی گئی۔ مہمانوں کو تازہ آم، سلاد، دودھ شیک، لسی، میٹھے اور آئس کریم کے ساتھ پیش کئے گئے۔ برطانوی وزیراعظم کے مشیر تجارت برائے پاکستان مارک ایسٹ نے نمائش میں موجود پاکستانی آموں کے ذائقے اور وسیع اقسام کو سراہا۔ قونصلر جنرل طارق وزیر نے کہا کہ پاکستانی آم اپنے ذائقے، خوشبو کی وجہ سے منفرد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ200 سے زائد اقسام کے ساتھ پاکستان آم پیدا کرنے والا چھٹا سب سے بڑا اور چوتھا بڑا برآمد کنندہ ملک ہے۔ رکن برطانوی پارلیمنٹ مارک ایسٹ ووڈ نے روز نامہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی آموں اور پاکستانی کھانوں کے شاندار ذائقے پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے برطانیہ کے تجارتی ایلچی کی حیثیت سے وہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں پاکستانی آموں کی برطانیہ کو برآمد بھی شامل ہے۔ عامر خواجہ نے کہا کہ مانچسٹر سٹی میں پاکستانی آموں کا فیسٹیول کرنے کا مقصد پاکستان کی مصنوعات کو برطانیہ کے ہر شہر میں متعارف کروانا ہے تاکہ برطانیہ میں پاکستانی پھلوں اور اشیا کو برآمد کرکے وطن عزیز کیلئے زرمبادلہ بڑھایا جائے اور اس سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہوگی۔ شیڈو وزیر انصاف محمد افضل خان نے کہا کہ مانچسٹر سٹی میں فیسٹیول کا انعقاد کرنے سے پاکستانی کمیونٹی کے دوسری کمیونٹیزسے رابطے مضبوط ہوں گے، یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران پاکستان کی برطانیہ کو آم کی برآمد نہیں ہوئی کیونکہ کورونا وائرس اور لاک ڈائون کے سبب پروازوں کی تھی۔

یورپ سے سے مزید