• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یورپ میں خشک سالی کا 500 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

برسلز (نیوز ڈیسک) یورپی کمیشن کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کے بیشتر علاقوں میں خشک سالی سولہویں صدی کے بعد سے بدترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔یورپی کمیشن کی جوائنٹ ریسرچ کونسل کے ایک سینئر محقق آندریا ٹوریٹی نے کہا کہ خشک سالی کا 500 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ رواں سال خشک اور گرم موسم نے وسطی اور شمالی یورپ کو بری طرح متاثر کیا جس میں بڑی فصلوں کی پیداوار میں 50فیصد تک کمی واقع ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سال اس کے برعکس یورپ کا بیشتر حصہ گرمی کی لہروں اور خشک موسم کا شکار ہے۔ خشک سالی سے خوراک کی پیداوار، توانائی، پینے کے پانی اور جنگلی حیاتیات متاثر ہو رہی ہیں۔ یورپین ڈروٹ آبزرویٹری (ای ڈی او)کے تازہ ترین اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 20 جولائی تک کے 10 دنوں کے دوران، یورپی بلاک کی تقریباً 45فیصد ہنگامی حالت تھی، جو کہ خشک سالی کے 3درجوں میں دوسرا درجہ ہے اقوام متحدہ کے جنیوا میں قائم ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق ماہ جولائی میں ریکارڈ گرمی ہوئی اور یہ دْنیا کا گرم ترین مہینہ تھا۔ڈبلیو ایچ او کی ترجمان کلیئر نولس نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ دنیا میں جولائی سال کے 3گرم ترین مہینوں میں سے ایک ریکارڈ مہینہ تھا گزشتہ ماہ 2019ء کے جولائی کے مقابلے میں قدرے ٹھنڈا تھا ، لیکن جولائی 2016 ء سے زیادہ گرم تھا۔