• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈپریشن کسی کے لیے بھی مشکل ہو سکتا ہے، لیکن اپنے بچے کو اس سے گزرتے دیکھنا خاص طور پر مشکل ہوتا ہے۔ اور جب کہ یہ دماغی صحت کا ایک سنگین مسئلہ ہے جو 13 سے 19 سال کی عمر کے کئی نوجوانوں کو متاثر کر رہا ہے، اگر اس کی تشخیص ہو جائے تو یہ قابل علاج عارضہ ہے۔

ڈپریشن کی علامات سے نوعمر کے عام چڑچڑےپن کو سمجھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ تاہم، اگر وہ خاندان یا دوستوں سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے، اسکول کی کارکردگی میں کمی کو ظاہر کرتا ہے یا ان چیزوں میں حصہ لینے سے غیر محرک لگتا ہے جن سے وہ پہلے لطف اندوز ہوتا تھا، تو یہ کاؤنسلر یا ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا وقت ہوسکتا ہے۔ تاہم، یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اگر بچہ انتباہی علامات دکھا رہا ہو تو والدین اس کی کیسے مدد کر سکتے ہیں ۔

بچے کے ساتھ وقت گزاریں

یوتھ سائیکالوجی پر کام کرنے والے اسکاٹ ایڈمز کہتے ہیں، ’’اگر آپ نوعمر میں رویے یا جذباتی تبدیلیوں کو محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں یا اگر وہ اس طرح کام نہیں کر رہے جس طرح وہ کرتے تھے، تو آپ اسے نظر انداز نہیں کر سکتے‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ جب بچہ ایسے مرحلے سے گزر رہا ہو تو بہت سارے والدین اس کو نظر انداز کردیتے ہیں جبکہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ 

’’اگر آپ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے تو اس پر توجہ دیں‘‘، وہ مزید کہتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کا ایک آسان طریقہ ہے کہ آپ ان کے ساتھ وقت گزاریں۔ ایڈمز کہتے ہیں، ’’ہر روز ان کے ساتھ گزارنے کے لیے کچھ وقت نکالنے کی کوشش کریں‘‘۔ تاہم، اس وقت میں انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا یا کوئی اور خلفشار شامل نہیں ہونا چاہیے۔ رضاکارانہ خدمات ایک بہترین سرگرمی ہے، جسے آپ مل کر کرسکتے ہیں۔

ان کی بات سنیں

اگر آپ کا بچہ انتباہی علامات دکھا رہا ہے، تو ان کو سننا اہم ہے۔ ایڈمز کا کہنا ہے، ’’آپ کو سوالات پوچھنے ہوں گے، خاص طور پر اگر آپ رویے میں تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں‘‘۔ کام کرنے پر انہیں سرزنش کرنے سے شاید کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ ان سے کیسے بات کی جائے، تو ایک غیر دھمکی آمیز اور غیر لیکچر والا لہجہ بہترین ہے۔ ایڈمز کا کہنا ہے کہ آپ کو ان کے احساسات تک رسائی حاصل کرنا اور ان کو تسلیم کرنا چاہیے تاکہ اس مرحلے کو سمجھ سکیں جس میں وہ ہیں۔

جسمانی صحت کو ترجیح

صحت کی خراب عادتیں نوجوانوں کی ذہنی صحت کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔ ایڈمز کا کہنا ہے کہ اپنے نوعمر بچے کو اپنی جسمانی صحت کو زیادہ ترجیح دینے کے لیے تیار کریں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ نیند کی کمی، ناقص حفظان صحت یا غذائیت جیسی چیزیں یقیناً ڈپریشن کی علامات کو بڑھا سکتی ہیں۔ 

ایڈمز کا کہنا ہے، ’’اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں کہ آپ انہیں غذائیت سے بھرپور کھانا اور کافی نیند لینے کا موقع فراہم کر رہے ہیں‘‘۔ انھیں جِم جانے، دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے گھر سے باہر نکلنے، یا جاگنگ کرنے کی ترغیب دیں۔ یہ یقینی بنائیں کہ ان کی اسکرین کا وقت روزانہ دو گھنٹے سے زیادہ نہ ہو کیونکہ جب وہ آن لائن ہوتے ہیں تو وہ فعال نہیں ہوتے۔

اپنا بھی خیال رکھیں

ایڈمز کا کہنا ہے کہ والدین کے لیے اپنی تمام تر توانائی اور توجہ ان نوعمروں پر مرکوز کرنا آسان ہے، جو ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن اس کے غیر ارادی نتائج ہو سکتے ہیں۔ ایڈمز کا کہنا ہے، ’’آپ کو واقعی اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ آپ ڈپریشن کا شکار اپنے بچے پر اتنا وقت اور توانائی خرچ نہ کریں کہ آپ اپنی ضروریات اور اپنے خاندان کے باقی افراد کی ضروریات کو نظر انداز کردیں۔ 

آپ کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ آپ خاندان کے دیگر افراد کی بھی اس حوالے سے مدد حاصل کریں کیونکہ صرف بچہ ہی انفرادی طور پر اس سے نہیں گزر رہا ہوتا بلکہ اس کا اثر سب پر پڑتا ہے‘‘۔ والدین ذاتی طور پر یا آن لائن سپورٹ گروپس کے ذریعے بھی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔وہ آپ کے بچے کی حالت کے بارے میں مزید جاننے میں آپ کی مدد کریں گے اور اسی کیفیت سے گزرنے والے دوسرے والدین سے رابطہ قائم کرنے کے لیے مددگار کمیونٹیز کی پیشکش کریں گے۔

مدد کے لیے رابطہ کریں

اگر علاج نہ کیا جائے تو نوعمری کا ڈپریشن خود کو نقصان پہنچانے یا خودکشی کے خیالات تک بڑھ سکتا ہے۔ ایڈمز کا کہنا ہے کہ مدد حاصل کرنے میں جلدی کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ’’اس حوالے سے تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ 

ان کے سامنے ہر روز اس طرح کے مسائل آتے ہیں‘‘۔ جب آپ کا بچہ ڈپریش کا شکار ہوتاہے، تو والدین کے لیے اسے تسلیم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، پیشہ ورانہ مدد لینے سے نہ گھبرائیں، آپ اپنے بچے کے لیے سب سے بہتر کام یہ کر سکتے ہیں کہ ان کے لیے ضروری علاج کروائیں۔