• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئی جی سندھ پولیس غلام نبی میمن تین روزہ دورے پر کراچی سے سکھر پہنچے، سکھر میں قیام کے دوران آئی جی سندھ نے لاڑکانہ اور شکارپور اضلاع کا دورہ بھی کیا، دورے کے دوران حالیہ سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہی کے باعث متاثرین کو ریسکیو اور ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے کیے گئے انتظامات، ریلیف کیمپوں، راشن کی تقسیم، طبی سہولیات سمیت پولیس کی جانب سے سکھر رینج کے اضلاع میں مجموعی صورتِ حال کا جائزہ لیا اور امن و امان کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ڈی آئی جی سکھر جاوید سونھارو جسکانی، ایس ایس پی تنویر حسین تنیو ،ایس ایس پی سنگھار ملک، ایس ایس پی اسپیشل برانچ منصور مغل سمیت دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔ 

ڈی آئی جی سکھر نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن کو رینج کے تینوں اضلاع سکھر، گھوٹکی اور خیرپور میں پولیس کی جانب سے سیلابی صورت حال میں ریسکیو سے ریلیف تک کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پولیس نے بارشوں اور سیلاب میں کچے کے علاقوں میں ریسکیو آپریشن کرکے گھروں اور پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے باہر نکالا اور متاثرین کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔ 

ان کیمپوں میں متاثرین کو کھانا پینے کا صاف پانی اور طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے، پولیس کی جانب سے جہاں ایک جانب کچے کے زیر آب علاقوں سے متاثرین کو ریسکیو کرنا تھا، تو دوسری جانب پولیس نے ترجیح بنیادوں پر امن و امان کی فضاء کو مکمل طور پر بحال رکھنا بھی تھا۔

پولیس کے افسران اور جوانوں نے مشکل کی اس گھڑی میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا، جو لائق تحسین ہے۔ کچے میں بارشوں اور سیلابی پانی آنے کے بعد رینج کے تینوں اضلاع میں پولیس افسران کی جانب سے کچے میں ریسکیو آپریشن کے دوران متعدد مرتبہ یہ اعلانات کئے جاتے رہے کہ کچے میں پانی بہت زیادہ ہے، ڈاکو اور جرائم پیشہ عناصر باہر آجائیں اور اپنے آپ کو سرنڈر کردیں۔ ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی اور جو ان کے اہل خانہ بچے ہیں، انہیں باہر بھیجیں ، تاکہ انہیں ریسکیو کرکے محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔ ہم ان کا مکمل خیال رکھیں گے، کیوں کہ پولیس کی پہلی ترجیح لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے۔ اجلاس میں

آئی جی سندھ نے سیلابی صورت حال میں سکھر پولیس کی کارکردگی ، افسران اور جوانوں کے جذبے اور محنت لگن کے ساتھ انسانیت کی خدمت کو سراہا اور انہیں تعارفی اسناد دینے کا اعلان کیا۔ آئی جی سندھ نےسکھر رینج کے آفس میں سیلاب اور بارش متاثرین کے لیے قائم کردہ ریلیف آفس میں مخیر افراد کی جانب سے سیلاب اور بارشوں سے متاثرین کے لیے موجود امدادی سامان کا بھی معائنہ کیا، بعد ازاں آئی جی سندھ نے سکھر میں میمن ہال میں سیلاب اور بارشوں سے متاثرین کے لیے قائم پولیس ریلیف کیمپ اور زیرو پوائنٹ پر سکھر پولیس کے تعاون سے الخدمت کے کیمپ کا دورہ کیا اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ 

آئی جی سندھ کو پولیس کی جانب سے لگائے گئے کیمپ میں ایس ایس پی سنگھار ملک نے بتایا کہ سکھر ضلع میں سیلاب اور بارش متاثرین کے لیے کیمپ قائم کئے گئے ہیں، جہاں ناشتہ کھانا پینے کا صاف پانی بچوں کے لیے دودھ اور جوس کا انتظام ہے، جب کہ متاثرہ گھروں میں راشن بیگ بھی تقسیم کیے جارہے ہیں اور پولیس کے ریلیف کیمپ پر ایمولینس 24 گھنٹے موجود رہتی ہے ، جب کہ سکھر میں ایک پولیس موبائل میں ضروری آلات ادویات اور آکسیجن سیلنڈر کے ساتھ موبائل ایمبولینس بھی تیار کی گئی ہے، جس میں ڈاکٹر اور میڈیکل عملہ 24 گھنٹے موجود رہتا ہے۔ 

یہ پولیس موبائل ایمبولینس طبی سہولیات کے ساتھ ہمہ وقت تیار ہوتی ہے، تاکہ کسی بھی کیمپ میں ضرورت پڑنے پر فوری طبی امداد فراہم کی جاسکے۔ پولیس کا تاجر برادری کے ساتھ ایک مضبوط اور مستحکم رشتہ ہے، سکھر کی تاجر برادری اور تمام مکاتب فکر کے لوگوں کا پولیس کے ساتھ ہمیشہ تعاون رہتا ہے۔ امن امان کی بات ہو ٹریفک یا تجاوزات کا مسئلہ پولیس تاجر برادری کے مفید مشوروں سے استفادہ حاصل کرتی ہے، موجودہ سیلابی صورت حال میں بھی تاجر برادری اور مخیر حضرات پولیس کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تمام پولیس افسران اور جوانوں کے ساتھ خواتین پولیس اہل کار بھی احسن انداز سے خدمت کے جذبے کے ساتھ متاثرہ خواتین اور بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف عمل رہتی ہیں، جس پر آئی جی سندھ نے سیلاب اور بارش سے ہونے والی تباہی کی اس مشکل گھڑی میں سکھر پولیس کی جانے والی کوششوں اور اقدامات کو سراہتے ہوئے پولیس کے افسران اور جوانوں کے جذبے محنت لگن کے ساتھ انسانیت کی خدمت کو سراہا۔ آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے سکھر رینج میں پولیس کی جانب سے سیلاب اور بارش سے متاثرین کے لیے جاری ریسکیو و ریلیف آپریشن پر مکمل اعتماد اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مکمل تعاون اور مزید درکار وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے احکامات دیے۔

آئی جی سندھ نے اپنے دورے کے دوران سکھر میں تین دِن قیام کیا۔ سکھر رینج میں امدادی سرگرمیوں کے ساتھ امن و امان کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا اور اجلاس منعقد کیا اجلاس میں ڈی آئی جی سکھر رینج جاوید سونھارو جسکانی ایس ایس پی گھوٹکی گھوٹکی تنویر حسین تنیو ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک ایس ایس پی اسپیشل برانچ منصور مغل اے ایس پی سٹی سکھر سعد ارشد ڈی ایس پی یو ٹی میڈم پارس، ڈاکٹر ظہور سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ 

آئی جی سندھ نے امن وامان کی موجودہ صورت حال ڈاکوؤں جرائم پیشہ عناصر منشیات فروشوں کی سرکوبی، معاشرتی برائیوں ، گٹکا پان پراک چھالیہ اور مضر صحت مصنوعات کی تیاری خرید و فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاون اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لیے کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا اور سکھر رینج کے تینوں اضلاع میں پولیس افسران کو ڈاکوؤں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن تیز کرنے کے احکامات دیے۔ 

آئی جی سندھ کو ڈی آئی جی سکھر نے گھوٹکی خیرپور سکھر اضلاع میں ڈاکوؤں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری آپریشن پر بریفنگ دی، ڈاکوؤں، جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے ساتھ تمام علاقوں میں اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام منشیات پان پراگ گٹکا چھالیہ اور نشہ آور مصنوعات کی فروخت اور معاشرتی برائیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ 

روزانہ کی بنیاد پر رینج کے تینوں اضلاع میں تھانوں کی سطح پر پولیس کارروائی کررہی ہے۔ اس دوران جو پولیس میں موجود کالی بھیڑیں ہیں، ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔ اجلاس میں ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک نے بتایا کہ کچے کے علاقے شاہ بیلو اور باگڑجی کچے میں پولیس ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں مصروف عمل ہے۔ کچے میں پولیس کی مستقل چوکیاں قائم کی گئی ہیں، جہاں پولیس جدید ہتھیاروں دوربینوں اور دیگر ٹیکنکل آلات کے ساتھ 24 گھنٹے موجود رہتی ہے، جب کہ ایس ایس پی گھوٹکی تنویر حسین تنیو نے گھوٹکی میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کے حوالے بتایا کہ پولیس کی حکمت عملی ہے کہ موثر ٹارگیٹڈ آپریشن کیا جائے۔ 

ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں پولیس کو نقصان سے محفوظ رکھنے اور ڈاکوؤں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے اور انہیں قانون کی گرفت میں لانے کے لیے پولیس مصروف عمل ہے۔ آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہا کہ سندھ بھر میں پولیس کو جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے، خاص طور پر گھوٹکی میں موبائل فون پر اغواء برائے تاوان جیسی سنگین وارداتیں پولیس کے لیے چیلنج بنی ہوئی تھیں۔ 

پولیس کی مختلف علاقوں میں تعیناتی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان وارداتوں کی بڑی حد تک روک تھام کو یقینی بنایا جارہا ہے اور پولیس کا ٹارگیٹڈ آپریشن ایک بہتر حکمت عملی ہے میری کوشش ہے کہ پولیس میں آئی ٹی کے شعبے کی مزید بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں اور تمام اضلاع میں آئی ٹی ماہرین پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی جائیں، تاکہ جرائم کی وارداتوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ روپوش اوراشتہاری ملزمان کی بروقت گرفتاری کو یقینی بنایا جاسکے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید