• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئی جی سندھ نے گزشتہ دنوں کرائم رپورٹرز کے اعزاز میں افطار،ڈنر کا اہتما م آئی جی پولیس ہاؤس کے لان میں کیا۔ آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے صحافیوں سے شکوہ کیا کہ جس طرح جرائم کے واقعات رپورٹ کئے جاتے ہیں اس طرح پولیس کے اچھے کاموں کی رپورٹنگ نہیں ہوتی، پولیس کے اچھے کاموں کو اجاگر کرکے پولیس جوانوں کے مورال کو بلند کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نےکہا کہ شہر میں لوٹ مار کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے اگرکسی شہری کا قتل ہوتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری پولیس پر عائد کردینا نا انصافی ہے، آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کریمنل جسٹس سسٹم میں خرابی کو شہر میں جرائم کے بڑھتے واقعات کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ آئی جی سندھ کے مطابق، پولیس جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کرتی ہے لیکن وہ چند ماہ بعد ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں اور دوبارہ سے اپنی کارروائیوں کا آغاز کردیتے ہیں۔

اس وقت شہر میں ضمانت پر رہا ملزمان ہی بڑی تعداد میں واردات کررہے ہیں، انہوں نے گلف ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ، وہاں جرائم اس لئے نہیں ہوتے کیونکہ وہاں جرائم میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جاتیں ہیں۔ جرائم پرقابو پانے کے لئے کرمنل جسٹس سسٹم میں بہتری کی ضرورت ہے۔ ملزمان کو سزائیں دئے بغیر امن و امان پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ آئی سندھ نے مزید بتایا کہ اچھے تفتیشی آفیسر تعینات کردئے ہیں، جس سے جلد مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔ دنیامیں جرائم ہوتے ہیں، ان کوقابو پانے کے لئے تمام ادارے کام کرتے ہیں، لہذا پولیس کے ساتھ تمام اداروں کوفرائض انجام دینے چاہیے۔

تقریب میں موجود سندھ کے وزیر قانون و داخلہ ضیاالحسن لنجار نے کہا، ’’کہ کراچی میں بے شک اسٹریٹ کرائم کا مسئلہ ہے لیکن حالات وہ نہیں جو 2008سے2013تک تھے، اسے بڑھا چڑھا کر بیان کیا جارہا ہے، اسٹریٹ کرائم کے واقعات ختم کرنےکی جارہی ہے،جس علاقے میں واقعہ ہوگا وہاں کےایس ایچ او کے ساتھ بھی سزا جزا ہوگی، معاملہ ایس ایچ او تک ہی نہیں رہے گا بلکہ آئی جی کو بھی بتادیا ہے۔ ایسا مکینزم بنارہے ہیں کہ ایک تفتیشی آفیسر کے پاس 10سےزائد مقدمات نہ ہوں۔

کراچی میں ڈکیتی واردات کے دوران شہریوں کی جانیں لینے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔رواں سال کے ابتدائی تین ماہ کے دوران لوٹ مار کے دوران ڈاکوئوں نے فائرنگ کرکے 50 سے زائد معصوم انسانی زندگیوں کے چراغ گل کردئے، اور سیکڑوں شہری ڈاکوئوں کی فائرنگ سے زخمی ہوچکے ہیں، شہر میں روز کی بنیاد پر پولیس مبینہ مقابلوں کے باوجود اسٹریٹ کرائم کا جن کسی بھی صورت پولیس کے قابو میں آنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ 

شہری و دکاندار روز کی بنیاد پر ڈاکوؤں کے ہاتھوں اپنے قیمتی مال و اسباب اور جان سے محروم ہو رہے ہیں۔ انہیں صرف مال کا نہیں بلکہ اصل خطرہ جان کابھی ہے۔ عوام خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں کراچی شہر کا کوئی ایسا ضلع نہیں جہاں شہری محفوظ ہو۔ ڈاکو نہ صرف سڑکوں بلکہ گھر کی دہلیز پر بھی واردات سے گریز نہیں کررہے۔ بڑھتی ہوئی وارداتوں کے خلاف گذشتہ دنوں سپر ہائی وے پرتاجروں اور علاقہ مکینوں کی جانب سے احتجاج بھی ہوا۔پولیس جرائم کی روک تھام میں ناکام نظر آرہی ہے۔

11مارچ 2024 کوڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کرائم اینڈ انوسٹی گیشن برانچ عامر فاروقی اس وقت کے آئی جی سندھ رفعت مختار راجہ کو ایک رپورٹ پیش کی تھی، جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ پولیس اسٹیشن ریکارڈ منیجمنٹ سسٹم(پی ایس آر ایم ایس) کے تجزیہ کے بعد یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ کراچی میں 18ہزار 244 اشتہاری مجرمان نامزد ہیں جن میں 10 تازہ اور 66 پرانے سمیت 76 اشتہاری مجرمان کو ہی گرفتاری کیا جاسکا، جبکہ 18 ہزار1سو 68 اشتہاری مجرمان کو پولیس گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ 

آئی جی سندھ کو پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا کہ ایسٹ زون کے 5ہزار 6سو66 اشتہاری مجرمان میں سے26، ساؤتھ زون کے 7ہزار57 اشتہاری مجرمان میں سے 13 اور ویسٹ زون کے 5ہزاور5سو21 اشتہاری مجرمان میں سے 37 کو ہی پولیس نے گرفتاری کیا ہے جبکہ ایسٹ زون کے5 ہزار 6سو40، ساؤتھ زون کے 7 ہزار44 اور ویسٹ زون کے 5 ہزار 4سو84 اشتہاری مجرمان کو پولیس گرفتاری کرنے میں ناکام ہے،ڈی آئی جی کرائم اینڈ انوسٹی گیشن عامر فاروقی نے رپورٹ میں بتایا کہ "مذکورہ بالا معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضلعی پولیس اشتہاری مجرموں کو پکڑنے کے لیے کوششیں نہیں کر رہی ہے"۔

ڈی آئی جی کرائم و انوسٹی گیشن نے آئی جی سندھ کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں تجویز ظاہر کی ہے کہ تمام زونل ڈی آئی جیز کو ہدایات دیں جائیں کہ اشہاری مجرمان کی گرفتاری میں ذاتی طور پر اس معاملے میں دلچسپی لے کر اشتہاری مجرمان کی گرفتاری کے لئے باقائدہ مہم کا آغاز کریں جس سے کراچی میں جرائم کی شرح کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید