• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ووکنگھم بار و کونسل میں پریشان کرنے والے ڈرائیورز کو جرمانے کا سامنا

لندن (پی اے) ووکنگھم بارو کونسل نے ایک پبلک سپیس پروٹیکشن آرڈز منظور کیا ہے جس کے نتیجے میں ٹائون کے کار پارکس میں پریشان کرنے والے ڈرائیورز پر 1000پونڈ تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ ووکنگھم بارو کونسل کے پاس کردہ اس پبلک سپیس پروٹیکشن آرڈر (پی ایس پی او) کا مقصد اینٹی سوشل بیہیویئر والی گاڑیوں کے استعمال کو کم کرنا ہے۔ ووکنگھم بارو کونسل کا کہنا ہے کہ جنوری 2021اور جنوری 2022کے درمیان اینٹی سوشل بیہیوئر کے 82واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس سال ایک احتجاج میں سرگرمی کے دوران شور کی وجہ سے بچے بستروں کے نیچے چھپ گئے تھے۔ اتھارٹی کے ایگزیکٹیو ممبر فار انوائرمنٹ سپورٹ اینڈ لیژر ایان شینٹن نے کہا کہ عام طور پر اس میں انجن کا شور، وہیل گھمانا، سکریچنگ، جارحانہ ڈرائیونگ، ہارن کا شور، بیک فائرنگ اور تیز آواز میں میوزک شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے زیادہ تر واقعات رات کو دیر تک ہوتے ہیں۔ لوکل ڈیموکریسی رپورٹنگ سروس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کے رہائشیوں کی جانب سے شکایات کے حجم کو دیکھتے ہوئے اس آرڈر کا اجرا ضروری ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس پی او کا اجرا ہائوس ہولڈز کی جانب سے ڈرائیورز کے اینٹی سوشل بیہیویئر کی شکایات کو کنٹرول کرنے کیلئے خاصی حد تک کارگر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدگی کے ساتھ شور کے واقعات کی خاصی تعداد نے گرد و نواح کے مکینوں کے معیار زندگی پر ضرر رساں اثرات مرتب کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آرڈر آفیسرز کو نئے اختیارات دیتا ہے، جس کے تحت وہ آرڈر کی شرائط کی تعمیل نہ کرنے والے ڈرائیورز پر 100 پونڈ کے فکسڈ ٹنالٹی نوٹسز (پی سی این ایس) یا 1000 پونڈ تک کے سمری جرمانہ عائد کر سکتا ہے۔ آرڈر کو قانونی طور پر نافذ کرنے کے سلسلے میں کل 2000پونڈ کے نشانات لگائے جائیں گے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ ووکنگھم کے کچھ حصوں میں سی سی ٹی وی کی تنصیب کے بعد کیسز میں کمی آئی ہے۔ پی ایس پی او پر کونسل کی جانب سے رواں سال جون اور جولائی کے درمیان عوامی مشاورت کی گئی تھی، جس میں یہ سامنے آیا تھا کہ 75 فیصد جواب دہندگان نے اس آرڈر کو نافذ کرنے کے حق میں رائے دی تھی 29ستمبر کو ایگزیکٹیو کے اجلاس میں کونسل کی طرف سے متفقہ طور پر اس پی ایس پی او کی منظوری دی گئی تھی۔