• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم شہباز کے خطاب کی جھلکیاں،عمران کے خلاف طبل جنگ بجادیا

اسلام آباد (محمد صالح ظافر ،خصوصی تجزیہ نگار) وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو نیوز کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف طبل جنگ بجادیا ہے اور ان کے بارے میں جارحانہ لب و لہجہ اختیارکرکے اپنا ارادہ ظاہر کردیا ہے کہ وہ اب مدافعت کی حکمت عملی اختیار نہیں کرینگے، انہوں نے خدا کی قسم دو مرتبہ کھائی اور کہا کہ عمران فراڈیا ہے اور فراڈیا ہے اور پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹا ہے ۔ ایوان وزیراعظم میں منعقدہ اس کانفرنس میں وفاقی وزیر پروفیسرا حسن اقبال، مشیراحد چیمہ، اطلاعات ونشریات کی وزیر محترمہ مریم اورنگزیب اور معاون خصوصی عطاء اللہ تارڑ وزیراعظم کے ہمرکاب تھے۔انہوں نے اس سازش کا بھانڈہ پھوڑنے کا قصد کیا تھا جس کی نشاندہی عمران نے جلسہ عام میں کی تھی کہ امریکا سے کوئی خط ان کی حکومت کے خلاف آگیا ہے شہباز شریف نے بتایا کہ اس سازش کا عرصہ درازتک ’’سراغ‘‘ نہ ملتا اگر وہ آڈیو لیک نہ ہوتی جس میں عمران اپنے ساتھیوں سے ساز باز کرکے اپنے ہی مراسلے کو سازش کے قالب میں ڈھالنے کی منصوبہ بندی کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا جاتا ہے جب عمران خان اپنے سیکریٹری کے ساتھ طے کرتے ہیں کہ اس میں امریکا کا نام نہیں لینا اور سیکریٹری کہتا ہے کہ وہ اس مراسلے کو مضمون کے قالب میں ڈھالے گا تو اس میں ہر مطلوبہ شے ڈال دے گاجس میں سازش بھی ہوگی تو پھر عمران کو اطمینان حاصل ہوجاتا ہے۔ اس سے پاکستان کے دنیا کی سپرپاور سے تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا بے بنیادالزامات عائدکئے گئے مخالفین کو غدار قرار دیا گیا۔ آڈیو لیک نے عمران کی اصل شکل کو عریاں کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ مجھے اس مراسلے سے کھیلنا ہےدراصل وہ ملک کی تقدیر کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ آڈیو لیک ہونے کے دو روز بعد ایک اہم ملک کے سفیر ان سے ملاقات کے لئے آئے تو وہ مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتے تھے لیکن ہچکچارہے تھے ان حالات میں وزیراعظم کے دفتر میں کون بات کرتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کرے گا اس کا نقصان ملک کو ہی نہیں قوم کو بھی عشروں تک برداشت کرنا پڑے گا۔ انہوں نے باور کرایا کہ کابینہ نے اس مراسلے کے حوالے سے تحقیقات کا حکم دیدیا ہے اس کے نتائج سےعوام کوآگاہ کیا جائے گا۔
ملک بھر سے سے مزید