• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
مقتول بیرسٹر فہد ملک—فائل فوٹو
مقتول بیرسٹر فہد ملک—فائل فوٹو

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بیرسٹر فہد ملک قتل کیس کے تینوں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنا دی۔

اسلام آباد کے سیشن جج عطاء ربانی نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے محفوظ کیے گئے فیصلے کو سناتے ہوئے ملزمان راجہ ارشد، نعمان کھوکھر اور ہاشم کو عمر قید کی سزا سنائی۔

اس سے قبل مرکزی ملزم راجہ ارشد کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت میں ملزمان کی حاضری لگوا کر انہیں بخشی خانے واپس بھیج دیا گیا۔

واضح رہے کہ 2016ء میں 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب بیرسٹر فہد ملک کو قتل کیا گیا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران 4 چشم دید گواہان نے تینوں ملزمان کے خلاف بیان دیا تھا۔

فرانزک رپورٹ کے مطابق قتل میں استعمال کی گئی کلاشنکوفس اور جائے وقوع سے ملے خول بھی میچ کر گئے تھے۔

مرکزی ملزم راجہ ارشد کو ملک سے فرار کی کوشش میں طورخم بارڈر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

بیرسٹر فہد ملک قتل کیس کا ٹرائل 6 سال چلا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بیرسٹر فہد ملک قتل کیس کا 11  اکتوبر کو محفوظ کیا تھا۔

بیرسٹر فہد ملک کو اگست 2016ء میں تھانہ شالیمار کے علاقے میں فائرنگ کر کےقتل کر دیا گیا تھا۔

مختصر تحریری فیصلہ جاری

عدالت نے بیرسٹر فہد ملک قتل کیس کا مختصر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عطاء ربانی نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔

تحریری فیصلے میں عدالت نے تینوں ملزمان کو فہد ملک کی فیملی کو پانچ پانچ لاکھ روپے ادائیگی کا حکم دیا ہے۔

عدالت کے مختصر تحریری فیصلے کے مطابق ملک طارق کے قتل کی کوشش پر بھی ملزمان کو دس دس سال قید کی الگ سے سزا سنائی گئی ہے۔

تحریری فیصلے کے مطابق ملزمان کو دفعہ 148 اور 149 کے تحت بھی تین تین سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

عدالت کے مختصر تحریری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تمام سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی۔

قومی خبریں سے مزید