• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
میرے دونوں اطراف میں کچھ تاریخی اور کچھ جدید عمارتیں موجود تھیں، میں اس وقت ترک ریستوران میں ایک عشائیے سے فارغ ہوکر فرینکفرٹ کی خوبصورت سڑکوںپر چہل قدمی میں مصروف تھا، ہلکی پھلکی برسات نے موسم کو خوشنما بنادیا تھا، رات ساڑھے گیارہ بجے کا وقت ہوگیا لیکن میں سامنے ہی موجود اپنے ہوٹل میں جانے کو تیار نہیں تھا میں ابھی مزید جرمنی کی خوبصورت برسات کو انجوائے کرنا چاہتا تھا ، درجہ حرارت جب دس سے بارہ ڈگری سینٹی گریڈ ہو ، بادل خاصے نیچے کی جانب ہوں ،کبھی ہلکی اور کبھی تیز بارش نے ماحول کو یخ بستہ کردیا ہو تو چاہے گوروں کو یہ موسم ناگوار ہی کیوں نہ گزرتا ہو لیکن پاکستانیوں کے لئے یہ منظر اور موسم دونوں ہی خوشنما احساس پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ، ویسے بھی اگلے روز میری جاپان واپسی تھی لہذا رات گئے باہر کانظارہ کرنے میں مجھے کوئی حر ج محسوس نہیں ہوا ، ایک بار پھر اچانک تیز ہوتی ہوئی برسات نے مجھے سامنے ہی موجود ایک اسٹور کے احاطے میں پناہ لینے پر مجبور کردیا ،میں اسٹور کے احاطے سے ایک بار پھر جرمنی کی خوبصورت رات کی خوبصورتی کو محسوس کرنے کی کوشش میں مگن تھا کہ مجھے احساس ہوا کہ میرے برابر میں موجود شخص سگریٹ ہاتھ میں پکڑے مجھے کافی دیر سے گھور رہا ہے ، دیکھتے ہی احساس ہو گیا کہ اس شخص کا تعلق بھی پاکستان سے ہی ہے ،میں جو کافی دیر سے اس اجنبی ہم وطن کا جائزہ لے رہا تھا اس بار جب اس کی نگاہ مجھ پر پڑی تو میں نے ہی بڑھ کر اسے سلام کیا ، اپنا تعارف کرایا ،اس نے بڑے اخلاق سے میرے سلام کاجواب دیا اور اپنا تعارف ملک فضل کے نام سے کرایا اس کا تعلق راولپنڈی سے تھا ، ملک فضل کے چہرے پر ایک اداسی سی تھی ،رنگت سیاہ مائل ہوچکی تھی ، جسم لاغر اور آنکھوں کے گرد گہرے حلقے بھی سب کچھ ٹھیک کی رپورٹ نہیں دے رہے تھے ، میں نے اس کے کپڑوں پر نگاہ ڈالی تو وہ بھی ملک فضل کی کسمپرسی کا پتا ہی دے رہے تھے، لیکن میں نے ازراہ مذاق اس سے پوچھ ہی لیا کہ اس سگریٹ میں صرف تمباکو ہی ہے نا ؟ جس پر ملک فضل مسکراکر رہ گیا ، اس مسکراہٹ نے مجھے اس سے مزید بات چیت کرنے کا موقع دیا ، میں نے اس کی عمر پوچھی اور وہ کب جرمنی آیا تو اس نے بتایاکہ اس کی عمر اٹھائیس برس ہے اور وہ چھ ماہ قبل جرمنی پہنچا ہے ، میں نے مزید دریافت کیا کہ اس کا کس پیشے سے تعلق ہے تو اس نے نگاہیں جھکاتے ہوئے بتایا کہ وہ سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہے ، اب میری سمجھ میں بہت سی باتیں آچکی تھیں ، میں نے دریافت کیا کہ آپ غیر قانونی جرمنی میں داخل ہوئے ہو ، اس نے اثبات میں سرہلایا جس پر میں نے ایک بار پھر دریافت کیا کہ سمندر کے راستے پہنچے ہو اس نے نظریں چراتے ہوئے ایک بار پھر اثبات میں سرہلایا ، اب میرے سامنے پوری کہانی کھل چکی تھی ، میں نے ملک فضل سے کہا کہ کیا میں جرمنی تک پہنچنے کی تفصیل جان سکتا ہوں کہ یہاں تک پہنچنے میں کتنی مشکلات ہوئیں ، ملک فضل بھی شاید اب مجھ سے مانوس ہوچکا تھا جبکہ انٹرنیٹ پر وہ میرے کالم بھی پڑھتا رہا تھا اور وہ چاہتا بھی تھا کہ پاکستان میں اپنے لوگوں کو بتا سکے کہ اس نے جرمنی تک پہنچنے کے لئے کتنی دفعہ موت کو انتہائی قریب سے دیکھا ، اس نے بتایاکہ وہ پنڈی میں فیکٹری میں ملازمت کرتا رہا ہے جبکہ شرو ع سے ہی اس کا خواب یورپ جاکر اہل خانہ کے حالات تبدیل کرنے کا تھا ،کسی دوست کے ذریعے ایک ایجنٹ سے رابطہ ہوا جس نے یورپ پہنچانے کے لئے دس لاکھ روپے طلب کیے جو اس کی پہنچ سے باہر تھے جس کے بعد اسی ایجنٹ نے اسے ساڑھے تین لاکھ روپے میں پہلے لیبیا اور پھر وہاں سے یورپ بھیجنے کا مشورہ دیا ، ساڑھے تین لاکھ روپے کے لئے بھی اس نے اور ا سکے گھر والوں نےلوگوں سے ادھار رقم لی اور بالآخر ایک روز ملک فضل ایجنٹ کے ساتھ ہی پہلے پنڈی سے کراچی اور کراچی سے لیبیا تک ویزے پر باآسانی پہنچ گیا ، لیبیامیں جاری جنگ کی بدولت وقت گزارنا بہت مشکل ثابت ہوا کیونکہ حکومتی اور باغیوں کی لڑائی کے دوران کئی دفعہ بم ملک فضل کے مکان کے ساتھ ہی گرے اور کئی دفعہ اس نے موت کو قریب سے دیکھا ، اب اگلا مرحلہ یورپ جانا تھا جس کے لئے رقم نہیں تھی لہٰذا ایجنٹ نے ملک فضل اور اس جیسے کئی افراد کے لئے مزدوری کا انتظام کردیا ،ملک فضل اور اس کے ساتھیوں نے ایک سال تک تین سو ڈالر مہینہ پر ایک تعمیراتی ادارے میں مزدوری کی جس کے بعد وہ تین ہزار ڈالر جمع کرنے کے قابل ہوا ، اب اسی ایجنٹ نے ملک فضل سمیت دو درجن سے زائد افراد جن میں پاکستانی ،بنگلہ دیشی اور سری لنکن شہری شامل تھے کو اٹلی بھجوانے کے لئے ایک کشتی کا انتظام کیا ،پھر ایک روزخاموشی سے ان چوبیس افراد کو رات کی تاریکی میں ساحل سمندرتک لایا گیا جہاں ایک لانچ موجود تھی لیکن اس لانچ میں پہلے سے ہی دو درجن افراد تھے یعنی پچیس لوگوں کی لانچ میں پچاس لوگ سوار تھے ، ملک فضل کے لئےاب واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا وہ خاموشی سے لانچ میں سوار ہوگیا، کچھ ہی دیر میں لانچ کے ناخدا نے کچھ بولنا شروع کیا تو اس کے ایجنٹ نے بتایا کہ ناخدا کہہ رہا ہے کہ لیبیا سے اٹلی تک کا سفر تین سے پانچ دنوں تک ہوسکتا ہے اور اس دوران اگرکوئی بیمار ہوا تو اس کے علاج کا کوئی بندوبست نہیں ہے اور موت ہونے کی صورت میں اسے سمندر برد کردیا جائیگا،ملک فضل کو محسوس ہورہا تھا کہ شاید وہ راستے میں دنیا سے رخصت ہوجائیگا لیکن اگلے پانچ دن جس قیامت سے اس نے اس لانچ پر گزارے وہ شاید زندگی بھر نہ بھلاسکے اس دوران کئی دفعہ موت کو یہاں بھی انتہائی قریب سے دیکھا، پانچ دن بعد اٹلی کی بحری افواج نے کشتی کو اپنے قبضے میں لے کر بچ جانے والے مسافروں کو جیل بھجوادیا ،جہاں ملک فضل نے سیاسی پناہ کی درخواست دائر کی ، چھ ماہ اٹلی میں وہاں کی پولیس کا ناروا سلوک اور تشدد سہنے کے بعد وہ کسی نہ کسی طرح ایک ٹیکسی میں چار پنا ہ گزینوں کے ہمراہ بھاگ کر جرمنی پہنچا اور ایک بار پھر سیاسی پناہ دائر کردی ، یہاں ملک فضل کو احمدی بن کر سیاسی امداد کا لالچ بھی دیا گیا لیکن ملک فضل نے اپنے ایمان کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے حق اور سچ ہی جرمن انتظامیہ کو بیان کیا آج بھی ملک فضل کو تین سو یورو اور ایک رہائشی کمرہ جرمن حکومت نے فراہم کیا ہواہے لیکن کام کرنے کی قانونی اجازت نہیں ہے ۔وہ کبھی کبھار کسی پاکستانی کے پاس جزوقتی ملازمت کرلیتا ہے اور ہرماہ اپنے والدین کو باقاعدگی سے رقم بھجواتا ہے اور اپنے مستقبل کے لئے پر امید بھی ہے ملک فضل کا کہنا ہے کہ وہ شاید خوش نصیب تھا کہ زندہ یورپ پہنچ گیا لیکن دوسرے یورپ آنے کے شوقین لوگ اپنی زندگی سے کھیلنے کا رسک نہ لیں اور صرف قانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کریں، کافی رات بیت چکی تھی سامنے آخری بس آچکی تھی ملک فضل نے مجھے سلام کیا اور بس میں چڑھ گیا جس کے بعد میں بھی ہوٹل آگیا اگلے روز جاپان واپس آنے کے لئے۔
تازہ ترین