پشاور(جنگ نیوز)انفرادی (انڈیویجول لینڈ) کے زیر اہتمام پشاور میں خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 سے متعلق ایک آگاہی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں لوکل گورنمنٹ کے منتخب نمائندہ گان،طلباء اور سماجی کارکنوں کے ساتھ ساتھ اقلیتی اور ٹرانسجنڈر کمیونٹی کے لوگوں نے بھی شرکت کی۔ آگاہی ورکشاپ میں خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کمیونیکیشن سید سعادت جہاں نے خیبر پختونخو آر ٹی آئی ایکٹ پر ایک جامع لیکچر دیا۔ انہوں نے کہا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ عوام کو ان کے وسائل سے متعلق معلومات کا حق دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ باقی تمام صوبوں سے پہلے خیبر پختونخوا میں یہ قانون نافذ ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قانون کا نفاذ عوام کو معلومات حاصل کرنے کا حق دیتا ہے جو اداروں کو شفاف اور جوابدہ بناتاہے اور ایک اچھی طرز حکمرانی میں مدد ملتی ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد عوام کو معلومات دینا ہے جس سے ادارں میں کرپشن کا خاتمہ اور احتساب کے عمل کو فروغ ملتا ہے۔اس ایکٹ کے نفاذ سے پہلے عام آدمی کو اداروں سے عوامی معلومات حاصل کرنا ممکن نہیں تھا، رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے نفاذ سے عوامی خدمات کی فراہمی کے نظام میں بہتری آئی ہے۔