پشاور(جنگ نیوز)پشاور ماڈل اسکول بوائز ٹو میں "روایتی تعلیم بمقابلہ ڈیجیٹل تعلیم" کے موضوع پر پری او لیول، او لیول 1، او لیول 2 ،جماعت ہشتم، نہم اور دہم کے طلبہ کے مابین انگریزی زبان میں ایک تقریری مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ مقابلے میں طلبہ نے دونوں تعلیمی طریقہ کار کے حق اور مخالفت میں اپنے خیالات اور دلائل نہایت پر اعتماد اور فصاحت کے ساتھ پیش کیے۔طلبہ نے ڈیجیٹل تعلیم کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جدید دور میں موبائل فون، کمپیوٹر اور آن لائن پلیٹ فارمز نے تعلیم کو تیز، آسان اور قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔ ڈیجیٹل امتحانات کے نتائج چند گھنٹوں یا چوبیس گھنٹوں کے اندر دستیاب ہو جاتے ہیں، جبکہ روایتی نظام میں نتائج کے لیے کئی ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔مقررین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ کورونا وبا کے دوران ڈیجیٹل تعلیم نے غیر معمولی فروغ حاصل کیا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں آن لائن تعلیم کا رجحان تیزی سے بڑھا اور تعلیمی اداروں نے جدید ٹیکنالوجی کو تدریسی عمل کا اہم حصہ بنا لیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے روایتی اور ڈیجیٹل تعلیم کے مثبت پہلوؤں کو یکجا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈیجیٹل تعلیم میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور انٹرنیٹ کا تعطل آڑے آتا ہے۔مقررین نے ڈیجیٹل تعلیم کے فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ وسیع علمی وسائل تک آسان رسائی فراہم کرتی ہے۔