• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: سید علی جیلانی۔۔۔ سوئٹزر لینڈ
سنت ابراہیمی یعنی حلال جانورکی قربانی دین اسلام کے شعائر میں سے ہے، یہ ایک ایسا فریضہ ہے جو بارگاہِ رب العزت میں انتہائی مقبول ہے کیونکہ قربانی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حضور بندہ اپنی جان و مال کا نذرانہ پیش کر کے در حقیقت اپنے جذبہ عبودیت کا اظہار کرتا ہے۔ نماز اور روزہ انسانی ہمت اور طاقت کی قربانی ہے، زکوٰۃ انسان کے مال وزر کی قربانی ہے، حج بیت اللہ انسان کی ہمت، مال و زر کی قربانی ہے ،قربانی کی اصل روح یہ ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنی تمام نفسانی خواہشات کو قربان کر دے ،جانور ذبح کرکے قربانی دینے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں تمام خواہشات نفسانیہ کو ایک ایک کر کے ذبح کر دیا جائے، اللہ تعالی نے ہر امت کیلئے قربانی مقرر فرمائی لیکن اُس کا خاص طریقہ مقرر فرمایا ، ہر قربانی پر اللہ کا نام لینا ضروری قرار فرما دیا قران مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ’’ تم اپنے رب کیلئے نماز اور قربانی کرو ‘‘ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا کہ’’ اللہ تعالی کو ہر گز اُن کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ خون ہاں تمھاری پرہیز گاری اس کی بارگاہ میں پہنچتی ہے‘‘ یعنی تقویٰ اور پرہیز گاری اللہ کے نزدیک پسند یدہ ترین ہے، اگر انسان نیت صحیح رکھ کر کسی جانور کو قربان کرتا ہے تو وہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ اور قبولیت کا شرف حاصل کرتا ہے، قربانی کا تصور ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، قربانی دین اسلام میں انتہائی اہمیت کے فرائض میں سے ہے، درحقیقت بندہ اپنی جان ومال کی قربانی دے کر اپنی بندگی کا اظہار اللہ تعالی سے کرتا ہے، اللہ تعالی کو اپنے بندے کی یہ ادا اس لیے بھی پسند ہے کیونکہ اس عمل میں بندے کو صرف اللہ کی خوشنودی اور رضا کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنا ہوتا ہے عجیب منظر تھا جب باپ نے اپنے نو عمر فرزند سے پوچھا اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کر رہاہوں ، بتا تیری کیا مرضی ہے،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے یہ رائے اس لیے نہیں پوچھی کہ اگر بیٹے کی رائے ہو گی تو ایسا کروں گا ورنہ میں اپنے بیٹے کو ذبح نہیں کروں گا ،نہیں ایسا ہر گز نہیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رائے اس لیے پوچھی تھی کہ میری نبوت کا وارث اس آزمائش میں پورا اترتا ہے یا نہیں اور یہ بھی معلوم ہوجائے کہ اللہ کے حکم کے بارے میں بیٹے کا تصور کیا ہے، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فرمانبرداری دیکھئے وہ بیٹا کوئی عام بیٹا نہیں تھا وہ خلیل اللہ کا فرزند ارجمند تھا اگر باپ خلیل اللہ کے مرتبہ پر فائز تو بیٹے کے سر پر بھی ذبیح اللہ کا تاج سجنے والا تھا کیونکہ آپ علیہ السلام ہی کی صلب اطہر سے آقائے دو جہاں تاجدارانبیاحضرت محمد مصطفی ٰﷺ اپنے نورمبین سے اس جہان کو دائمی روشنی سے منور کرنے والے تھے ،اس لیے وارث نبوت نے بھی اطاعت کی حد کر دی، آپ علیہ السلام نے اپنے باپ کے آگے سر کو جھکا دیا اور یہ بھی نہیں پوچھا کہ ابا جان مجھ سے کیا جرم سر زد ہوا ہے ،میری خطا کیا ہے جو آپ مجھے موت کے حوالے کرنے جا رہے ہیں بلکہ قربان جاؤں اس بیٹے پر جس نے نہایت عاجزی وانکساری سے اپنے باپ کے آگے گردن
جھکاتے ہوئے جوکلمات اپنی زبان سے ارشاد فرمائے وہ قیامت تک نسل انسانی کے لیے مشعل راہ بن گئے فرماں بردار بیٹے نے خدا کے آگے سر تسلیم خم کردیا اور کہنے لگا کہ اگر خدا کی یہی مرضی ہے تو انشا اللہ آپ مجھے صابر اور فرماں بردار پائیں گے ۔مفسرین کا کہنا ہے کہ جب حضرت ابراہیمؑ نے بیٹے کے گلے پر چھری چلا دی اور اپنی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش میں بھی سرخرو ہوگئے لیکن چھری چلانے سے کچھ بھی نہ کٹا تو اس وقت خالق کائنات کی طرف سے آواز آئی اے ابراہیمؑ یقینا تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا یعنی ہم جو جو آزمائش کرنا چاہتے تھے وہ مکمل ہو چکی، حضرت ابراہیمؑ اللہ تعالی کی ہر آزمائش میں ثابت قدم اور کامیاب نکلے۔ اب لڑکے کو چھوڑ اور تیرے پاس جو یہ مینڈھا کھڑا ہے اس کو اپنے محبوب بیٹے کے بدلے میں ذبح کر، ہم نیکو کاروں کو اسی طرح اپنی رحمتوں اور نوازشوں سے نوازتے ہیں لہذا حضرت ابراہیم نے حکم خداوندی کی تعمیل کی اور اس مینڈھے کو ذبح کیا، رب ذوالجلال کو حضرت اسماعیل کی فرماں برداری اور حضرت ابراہیم کی یہ عظیم قربانی ادا اور عبادت اتنی پسند آئی کہ بطور یادگار کے ہمیشہ کیلئے ملت ابراہیمؑ کا شعار قرار پائی اور ذی الحجہ کی دس تاریخ کو تمام دنیائے اسلام میں یہ قربانی اور شعار اسی طرح منایا جاتا ہے، اس مہینہ کے شروع کے دس دن اور راتیں خصوصی فضیلت کی حامل ہیں ،ان کی عظمت و فضیلت کے لیے یہی بات کافی ہے کہ خود اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ”و لیال عشر“فرماکر انہیں دس راتوں کی قسم کھائی ہے ۔ دوسری جگہ ان کو ” ایام معلومات “ فرماکر ان میں خصوصیت کے ساتھ اللہ تعالی کو یاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ رسول کریم ﷺکا ارشاد ہے کہ :”کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں نیک عمل اللہ تعالی کے نزدیک ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو“۔لہذا ان دس دنوں اور راتوں کو غنیمت سمجھتے ہوئے ان میں ذکر و اذکار ، دعاوں اور عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا ضروری ہے ،اونٹ، گائے، بھینس، بکری اور بھیڑ(نر ومادہ ) ان جانوروں کی قربانی کرنا جائز ہے،حضر ت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا ، یا رسول اللہﷺ یہ قربانی کیا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا ، یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ اس میں ہمارا کیا فائدہ ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا (تمہارا فائدہ یہ ہے کہ تمہیں قربانی کے جانور کے ) ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی۔ انہوں نے پھر عرض کیا ، یا رسول اللہﷺ اون کا کیا حکم ہے، آپﷺ نے فرمایا ، اون کے ہر بال کے عوض میں بھی ایک نیکی ملے گی (مشکوة شریف) ہمارا دین اسلام ہے اور اسلام کا مطلب ہے کہ اللہ کے ہر حکم کے آگے سر تسلیم ِ خم کیا جائے ، انسان کا ہر عمل اور اس کی پسند و نا پسند صرف اللہ کی مرضی کے تابع ہو ۔اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضا و خوشنودی کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی کیلئے تیار رہنا چاہئے ہمیں خود سے یہ سوچنا اور سمجھنا ہے کہ عید قربان پرجانور کی قربانی محض ایک رسم یا رواج نہیں بلکہ ایک اہم سبق ہے ۔ جانور کی قربانی اللہ کی فرمانبر داری کے سبق کا پریکٹیکل ہوتا ہے جس کے بعد اللہ رب العزت کی فرما برداری مزید احساس ہوتا ہے کہ حکم الٰہی پر صرف ایک جانور کی قربانی ہی نہیں بلکہ ہمیں ساری زندگی میں اللہ کی رضا کی خاطر اپنے مال واسباب ، تن من ، اولادغرض یہ کے ہر اُس خواہش اور حسرت کی قربانی دینی ہے جس سے ہمارا رب راضی ہو جائے۔
یورپ سے سے مزید