گزشتہ 65 برسوں کے دوران، پاکستان کے اب تک 8 سابق وزرائے اعظم اور 2 سابق صدور مختلف مقدمات میں یا تو گرفتار ہو چکے ہیں، سزا پا چکے ہیں۔
حال ہی میں پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کو توشہ خانہ سے متعلق ایک مقدمے میں عدالت کی جانب سے تین سال کی سزا سنائے جانے کے بعد گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا۔
ان سے قبل ملک کے سابق وزرائے اعظم جن میں حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، نواز شریف، سید یوسف رضا گیلانی، شاہد خاقان عباسی، شہباز شریف اور راجہ پرویز اشرف شامل ہیں جو کہ یا تو گرفتار ہوئے، مجرم ٹھہرائے گئے یا اِنہیں وارنٹ گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا۔
ہر بار ان سیاستدانوں کی سیاسی جماعتوں اور حامیوں نے ان کی گرفتاریوں کو اس وقت کی حکومت کی جانب سے ظلم و ستم کا حصہ قرار دیا۔
آئیں ایک بار تاریخ میں جھانک کر دیکھتے ہیں:
پاکستان کے پہلے سابق وزیر اعظم جو گرفتار ہوئے وہ سہروردی تھے جنہیں اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان کی جانب سے الیکشن باڈیز ڈِس کوالیفیکیشن آرڈرز (EBDO) کے نفاذ کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔
ان احکامات کے تحت مشرقی پاکستان کے کئی رہنما گرفتار کیے گئے اور سہروردی بھی ان میں سے ایک تھے۔
گرفتاری کا سامنا کرنے والے دوسرے نمبر پر پیپلز پارٹی کے بانی اور پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے۔
5 جولائی کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کا تختہ الٹ دیا اور ملک میں مارشل لاء لگا دیا تھا۔
بھٹو پر نواب محمد احمد خان سے متعلق مقدمہ چلایا گیا اور بالآخر 4 اپریل 1979ء کو اُنہیں پھانسی دے دی گئی۔
90 کی دہائی کے بعد پاکستان کے دو اعلیٰ سیاسی رہنماؤں کے درمیان شدید تلخی دیکھنے میں آئی جن میں پی پی پی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف شامل ہیں۔
دونوں نے بطور وزیر اعظم خدمات انجام دیں جبکہ اسحاق خان صدر تھے جنہوں نے 2b-58 کا استعمال کرتے ہوئے دونوں حکومتوں کو برطرف کر دیا۔
بینظیر بھٹو کو 1992ء کے لانگ مارچ کے دوران مختصر گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا جب وہ نواز شریف کی قیادت میں حکومت کے خلاف اسلام آباد کی طرف اپوزیشن کی قیادت کر رہی تھیں۔
بینظیر بھٹو کے لیے اصل امتحان 1993ء اور 1996ء کے درمیان وزیر اعظم کے طور پر ان کے دوسرے دور کے بعد آیا جب ان کی حکومت کو ستمبر 1996ء میں اس وقت کے صدر لغاری نے 58-2(b) کے ذریعے برطرف کر دیا تو اگلی حکومت جو اقتدار میں آئی اس کی قیادت نواز شریف نے کی جو دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
نواز شریف کی حکومت میں کڑے احتساب کا عمل شروع ہوا اور سب سے پہلے بینظیر کے شوہر، آصف علی زرداری اور ایک سینیٹر رہنما گرفتار ہوئے۔
بعد ازاں بینظیر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے جنہیں اکثر اپنے بچوں کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوتے دیکھا گیا.
اکتوبر 1999ء میں نواز شریف کو خود اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے گرفتار کر لیا جو پہلے ملک کے چیف ایگزیکٹو بنے اور بعد میں صدر بن گئے۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف کو تقریباً سات ماہ قید کاٹنا پڑی۔
پرویز مشرف دور میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی یوسف رضا گیلانی کو بھی گرفتار کیا گیا اور انہوں نے تقریباً پانچ سال قید کاٹی۔
گیلانی 2008ء میں ملک کے وزیر اعظم بنے اور 2013 میں اِنہیں پانچ سال کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا اور چند منٹوں کے لیے جرمانہ بھی دیا گیا جس کا مطلب سزا ہے۔
چنانچہ سابق وزیراعظم ہونے کے ناطے وہ بھی سزا یافتہ وزرِائے اعظم کی فہرست میں شامل ہوگئے۔
2013ء میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو بھی کرپشن کیس میں گرفتاری کے وارنٹ کا سامنا کرنا پڑا تاہم ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
بعد ازاں 2017ء میں ملکی تاریخ میں تیسری بار وزیر اعظم بننے والے نواز شریف کو عدالت نے سزا سنائی اور وہ اپنے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
نواز شریف کو 2019ء تک گرفتاری کا سامنا رہا جس کے بعد ضمانت کے ذریعے اِنہیں لندن جانے کی اجازت دی گئی۔
2017ء میں وزیر اعظم بننے والے شاہد خاقان عباسی کو نیب نے پی ٹی آئی دور میں گرفتار کیا تھا اور وہ ایک سال سے زائد عرصے تک حراست میں رہے۔
2008ء سے 2013ء کے درمیان صدر آصف زرداری کو بھی نیب نے پی ٹی آئی کے دور میں گرفتار کیا تھا۔
صدر آصف علی زرداری کے سُسر، ذولفقار علی بھٹو نے بھی 1971ء سے 1973ء کے درمیان صدر کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔
اس طرح بھٹو پہلے سابق صدر تھے جو گرفتار ہوئے اور زرداری دوسرے سابق صدر تھے جنہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا۔