• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہر میں گذشتہ دنوں تین مختلف واقعات میں واتین کو قتل کر دیا گیا۔ ایک واقعہ اتوار 12 نومبر کو ساحل تھانے کی حدود ڈیفنس فیز 8 عمار ٹاور کے فلیٹ سے ایک خاتون کی گولی لگی لاش کو جناح اسپتال لایا گیا، جہاں اس کی شناخت 22 سالہ قراۃالعین عرف عینی زوجہ ابرار بگٹی کے نام سے کی گئی۔ پولیس کے مطابق جاں بحق خاتون کے سر میں ایک گولی لگی۔ اس کے شوہر ابرار بگٹی کا کہنا ہے کہ، اس نے خود کو گولی مار کر خودکشی کی ہے، تاہم خاتون کے والد زبیرالدین نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بیٹی کو اس کے شوہر ابرار نے قتل کیا ہے۔ 

پولیس نے بتایا کہ ابرار نے دو ماہ قبل قرۃالعین سے دوسری شادی کی تھی۔ دو ماہ کے دوران 21 روز خاتون نفسیاتی اسپتال میں زیر علاج رہی، متوفیہ نے تین روز قبل بھی زہریلی چیز کھا کر خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد اسے کورنگی روڈ پر واقع نجی اسپتال لے جایا گیا تھا۔ پولیس نے مزید بتایا کہ خاتون کے موبائل فون سے ایک ریکارڈنگ بھی ملی ہے جو اتوار کی ہی ہے، جس میں اس کا کہنا تھا کہ وہ زندگی سے تنگ ہے۔ متوفیہ کے شوہر کے مطابق جب اس کی بیوی نے خود کو گولی ماری تو اس وقت وہ واش روم میں تھا۔ 

قرۃ العین
قرۃ العین

دوسری جانب خاتون کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی نے کورٹ کے ذریعے شادی کی تھی، اس کا شوہر اسے ہم سے فون پر بات کرنے نہیں دیتا تھا، اسی نے ان کی بیٹی کو قتل کیا ہے۔ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 230/23 زیر دفعہ 302 مقتولہ کے والد زبیرالدین کی مدعیت میں درج کر کے مقتولہ کے شوہر ابرار کو گرفتار کر لیا۔ مقتولہ کے والد نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرایا ہے کہ، ابرار حسین بگٹی اکثر فون کرکے ان کی بیٹی قراۃ العین سے نکاح کرنے کے لیے دبائو ڈالتا تھا اور دھمکیاں دیتا تھا۔ 12 کتوبر کو ابرار بگٹی نے جعلی نکاح نامہ عدالت میں پیش کیا اور عدالتی حکم پر 30 اکتوبر کو بیٹی قراۃ العین کو اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ بیٹی نے بتایا کہ ابرار بگٹی مجھ سے جھگڑا کرتا ہے اور مجھ پر تشدد کرتا ہے، جس سے میں پریشان ہوں۔ 

مدعی کے مطابق 9 نومبر کو ابرار بگٹی کے نمبر سے بیٹی کی کال آئی تو ابرار بگٹی اور بیٹی کے درمیان جھگڑے کی آوازیں آرہی تھیں۔ متوفیہ کے والد کے مطابق 12 نومبر کو ڈفینس فیز 8 عمار ٹاور کے سیکیورٹی اسٹاف نے فون کرکے مجھے اطلاع دی کہ آپ کی بیٹی کو گولی لگی ہے۔ میں بیٹے اور سالے کے ہمراہ جناح اسپتال آیا تو معلوم ہوا کہ بیٹی فوت ہو چکی ہے۔ سر پر گولی لگنے کے علاوہ جسم کے مختلف حصوں پر زخم کے تین نشانات بھی تھے۔ انہوں نے ابرار کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔ 

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ریمانڈ پر ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے جس کے بعد ہی موت کی اصل وجہ کا تعین ہو سکے گا۔

مقتولہ وزیر مائی عرف حسینہ
مقتولہ وزیر مائی عرف حسینہ 

جمعہ 17 نومبر کی شب ڈیفنس تھانے کی ہی حدود فیز سیون فاطمہ مسجد کے قریب واقع خالی پلاٹ میں پانی کے ڈرم سے پلاسٹک کے شاپر میں بند ایک خاتون کی لاش ملی۔ واقعہ کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور خاتون کی لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا۔ پولیس کے مطابق خاتون کی لاش پھولی ہونے کے سبب شناخت میں دشواری کا سامنا ہوا۔ خاتون کے فنگر پرنٹ نادرا کو بھیجے گئے، بعد ازاں مقتولہ کی شناخت 34 سالہ وزیرمائی عرف حسینہ زوجہ منیر حسین کے نام سے ہوئی، اس کا آبائی تعلق بہاولپور سے تھا۔ پولیس نے واقعہ میں ملوث ایک ملزم عادل کو گرفتار کرلیا۔ 

پولیس کے مطابق مقتولہ شادی شدہ تھی ۔ وہ کراچی کے علاقے قیوم آباد میں صہیب اور حضرت اللہ نامی افراد کے ساتھ رہتی تھی۔ حضرت اللہ فیز 8 میں چینی کی کمپنی میں ڈرائیور ہے۔ مقتولہ بنگلوں میں کام کرتی تھی، اسی دوران اس کی دوستی حضرت اللہ اور ر صہیب سےہوئی۔ پہلے یہ بدر کمرشل میں رہتی تھی اور ایک ماہ قبل قیوم آباد میں واقع ایک مکان میں منتقل ہوئی تھی۔ گرفتار ملزم عادل نے ابتدائی بیان میں بتایا ہے کہ میں اور حضرت اللہ جب گھر پہنچے تو حسینہ کا قتل ہوچکا تھا اور حسینہ کی لاش ڈرم میں پڑی ہوئی تھی۔ 

گرفتار ملزم عادل
گرفتار ملزم عادل 

ملزم عادل نے بتایا کہ ہم نے ڈرم بند کرکے لاش کو خالی پلاٹ پر پھینک آئے، اس کا قتل صہیب نے کیا ہے، جب وہ گھر آیا تو اُس نے دیکھا کہ حسینہ کسی اور سے موبائل پربات کر رہی ہے، جس پراُسے غصے میں آ کر وزیز مائی عرف حسینہ کا قتل کر دیا۔ پولیس نے مقتولہ کے شوہر منیر حسین ولد اللہ دتہ سے رابطہ کر کے کراچی بلایا اور اس کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ الزام نمبر 684/23 زیر دفعہ 302/34 درج کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم صہیب حیات اور حضرت اللہ کی گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، دونوں کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔

پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزم عادل نے مقتولہ کی لاش کو ٹھکانے لگانے میں سہولت کاری کی تھی،ملزم کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ لے لیا گیا ہے اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق مقتولہ کی لاش ڈرم میں بند ہونے کی وجہ سے پوسٹ مارٹم میں مشکلات کا سامنا تھا، لاش کی شناخت کے لئے ڈی این اے کے نمونے حاصل کرکے پولیس کے حوالے کردئے گئے ہیں، جبکہ لاش کے خون کے نمونے بھی حاصل کرلئے گئے ہیں اور اعضاء کے نمونے کیمیائی تجزیئے کے لئے بھیج دئیے گئے ہیں۔ پوسٹ مارٹم کے مطابق لاش 4 سے 5 دن پرانی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کا شوہر اسکی لاش لے کر تدفین کے لیے بہاولپور لے گیا ہے۔

پیر 20 نومبر کو منگھوپیر کے علاقے میں غیرت کے نام پر خاتون اور مرد کو قتل کر دیا گیا۔منگھوپیر تھانے کی حدود یار محمد گوٹھ میں واقع مکان کے اندر فائرنگ کے واقعہ میں خاتون اور مرد جان بحق ہو گئے۔ واقعہ کی اطلاع پر پولیس اور ریسکیو ادارے کے ورکرز موقع پر پہنچے اور دونوں کی لاشوں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا ،جہاں مقتولین کی شناخت 35 سالہ شہزادی زوجہ شیر گل اور 22 سالہ نواب خان ولد حاکم خان کے ناموں سے ہوئی۔ ایس ایچ او تھانہ منگھو پیر ماجد علوی کے مطابق مقتولہ چار بچوں کی ماں اور بیوہ تھی اور مقتول جو اسکا پڑوسی ہے کا اس کے گھر آنا جانا تھا۔

گرفتار ملزم علی خان
گرفتار ملزم علی خان 

انہوں نے بتایا کہ مقتولہ شہزادی کے شوہر کا ڈیڑھ دو سال قبل انتقال ہوا تھا جبکہ مقتول نواب خان غیر شادی شدہ تھا اور ٹینکر ڈرائیور تھا۔ 

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ شب بھی مقتول نواب خان مقتولہ شہزادی سے ملنے آیا تھا جب علی خان نامی ملزم جو مقتول کا ماموں ہے گھر میں داخل ہوا اور پہلے دونوں کو آہنی پائپ سے بیہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر ملزم نے نائن ایم ایم پستول سے دونوں کوگولی مار کر قتل کر دیا۔ 

ملزم علی خان نے کہا کہ اس نےغیرت کے نام پر دونوں کو قتل کیا۔مقتولین کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ پولیس نے ملزم علی خان کو موقع سے اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا ،ملزم علاقے میں ایزی لوڈ کی دکان ہے،پولیس نے مقتول نواب خان کے والد کی مدعیت میں واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید