• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کئی سال سے بسنت پر پابندی کا سن رہے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں ہو رہا صرف دعوے اور وعدے آخر کب تک،آئے روز پاکستان کے مختلف شہروں میں پتنگ کی ڈور لگنے سے کئی گھرانے اجڑ چکے ہیں، ایک دو دن تو پتنگ اڑانے پر پابندی لگتی ہے گرفتاریاں ہوتی ہیں لیکن پھر وہی،تازہ واقعہ میں فیصل اباد کا نوجوان سر راہ پتنگ کی ڈور گردن پر پھرنے سے جان کی بازی ہار گیا ۔نوجوان اپنی بائیک پر جا رہا تھا کہ ڈور گلے پر پھرنے سے اس کا گلا بری طرح کٹ گیا جس کی بروقت طبی امداد نہ ملنے اور ہاسپٹل نہ پہنچنے پر ہلاکت ہو گئی پاکستان میں یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ لوگ گاڑیوں میں گزر رہے ہیں اور کوئی بھی اس کو ہسپتال یا نزدیکی کسی کلینک میں نہیں لے جا رہا، خون بہت زیادہ مقدار میں بہہ جانے کی وجہ سے نوجوان کی ہلاکت ہو گئی جس گھر کا یہ نوجوان ہو گا ان کے گھر کے حالات کوئی بیان کر ہی نہیں سکتا،یورپ کے مختلف شہروں میں بھی پتنگ بازی ہوتی ہے لیکن کھلے میدان اور سمندر کے کنارے اور ہوا کا رخ اگر شہر کی طرف ہو تو پتنگ بازی نہیں کی جاتی ،جب تک ہوا کا رخ سمندر کی طرف نہ ہو تاکہ پتنگ اور اس کی ڈور سے کوئی جانی اور مالی نقصان نہ ہو پاکستان میں بھی اگر بسنت یا پتنگ بازی کا لوگ شوق رکھتے ہیں تو ان کو سادہ ڈور استعمال کرنی چاہئے اور کھلے میدان سمندر کے کنارے یا دریاؤں کے کنارے پر شوق پورا کرنا چاہئے تاکہ کوئی جانی نقصان نہ ہو اور حکومت وقت کو بھی چاہئے کہ ایسے اقدام کرے کہ بسنت پر کوئی ایسا نہ خوشگوار واقعہ پیش نہ آئے ۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں فوری طور پر کیمیکل ملی ڈور کا خاتمہ کریں اور اس پر قانون سازی کریں اور جو اس پر عمل نہ کرے اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ سے کوئی ایسا نہ خوشگوار واقعہ پیش نہ آئے ، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ فیصل آباد کے شہید نوجوان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور اس گھرانے کے تمام افراد کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
( محمد جاوید اقبال کھوکھر … ایمسٹرڈیم)
یورپ سے سے مزید