• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ختمِ قرآن کے موقع پر دعا کے اہتمام سے متعلق کیا حکم ہے؟

--- فائل فوٹو
--- فائل فوٹو

سوال: تراویح میں ختمِ قرآن کے موقع پر دعا کا اہتمام کرنا کیسا ہے؟

جواب: تراویح میں ختمِ قرآن پر دعا کا خصوصی اہتمام کرنا ناصرف یہ کہ درست ہے بلکہ مستحب ہے۔

امام نودی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ: ختمِ قرآن کی مجلس میں شرکت مستحب ہے، ان تمام لوگوں کے لیے جو پڑھنا جانتے ہوں یا اچھی طرح نہ پڑھ سکتے ہوں، چنانچہ صحیحین کی روایت میں ہے، جناب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حیض والی عورتوں کو عید کے دن گھروں سے نکلنے کا حکم دیا تاکہ وہ مسلمانوں کی دعا میں شریک ہو سکیں۔ (کتاب الاذکار۔ص: 177)

حافظ عبداللّٰہ دارمی رحمتہ اللّٰہ علیہ نے ایک مرفوع حدیث نقل فرمائی ہے، حضرت ابو قلابہ رضی اللّٰہ عنہ کا بیان ہے کہ جو شخص قرآن مجید کی تلاوت کے آغاز میں مجلس میں شریک ہوا تو گویا وہ اللّٰہ کے راستے میں کسی غزوہ کی فتح میں شریک ہوا اور جو شخص ختمِ قرآن کی مجلس میں شریک ہوا تو گویا وہ مالِ غنیمت کی تقسیم کے وقت حاضر ہوا۔ (سنن دارمی: حدیث 3471) 

حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما ختم قرآن کی مجلس میں شرکت کا خصوصی اہتمام کرتے تھے اور حضور ﷺ کے خادمِ خاص حضرت انس رضی اللّٰہ عنہٗ ختمِ قرآن کے وقت اپنے اہلِ و عیال کو جمع کرتے، پھر اجتماعی دعا فرماتے۔ (سنن دارمی حدیث: 3482,3474,3472)

اگر آپ رحمتوں اور برکتوں والے اس ماہ مبارک سے متعلق مزید دینی و دنیاوی شرعی مسائل کا حل جاننا چاہتے ہیں تو دیے گئے لنک (https://ramadan.geo.tv/category/islamic-question-answers) پر کلک کیجئے۔

خاص رپورٹ سے مزید