• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی اسرائیلی حملوں میں کون کون سے اہم ایرانی رہنماؤں کو شہید کیا گیا؟

آیت اللّٰہ علی خامنہ ای — فائل فوٹو
آیت اللّٰہ علی خامنہ ای — فائل فوٹو

امریکا و اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں میں متعدد سینئر سیاسی و عسکری شخصیات شہید ہو چکی ہیں، جس سے ایران کی اعلیٰ قیادت کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ خطے میں جاری جنگ نے توانائی کی عالمی منڈیوں اور عالمی بحری تجارت کو بھی متاثر کیا ہے۔

ذیل میں ان نمایاں شخصیات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو ان حملوں میں شہید ہوئیں:

سپریم لیڈر

آیت اللّٰہ علی خامنہ ای، جو 1989 سے بطور ایرانی سپریم لیڈر مضبوط اقتدار رکھتے تھے اور امریکا و اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف کے لیے جانے جاتے تھے، 28 فروری کو ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں 86 برس کی عمر میں شہید ہو گئے۔

ان کی تین دہائیوں سے زائد طویل حکمرانی کے دوران سیکیورٹی اداروں کے ذریعے اقتدار کو مستحکم کیا گیا اور ایران کے علاقائی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا، تاہم جوہری پروگرام پر تنازعات کے باعث مغربی ممالک کے ساتھ کشیدگی برقرار رہی۔

سینئر حکام

ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور ایک بااثر سیاسی رہنما علی لاریجانی کو 17 مارچ کو پردیس کے علاقے میں امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے بیٹے اور ایک نائب کے ہمراہ 67 برس کی عمر میں شہید کر دیا گیا۔

علی لاریجانی — فائل فوٹو
علی لاریجانی — فائل فوٹو

سابق کمانڈر، پاسدارانِ انقلاب اور جوہری مذاکرات کار کے طور پر وہ سپریم لیڈر کے قریبی مشیر تھے اور ایران کی سیکیورٹی و خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔

اسماعیل خطیب، ایران کے وزیرِ انٹیلی جنس، 18 مارچ کو ایک اسرائیلی حملے میں شہید کیے گئے۔ وہ ایک سخت گیر عالمِ دین اور سیاست دان تھے، جو آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے دفتر میں خدمات انجام دیتے رہے اور اگست 2021 میں سویلین انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ بنے۔

علی شمخانی، خامنہ ای کے قریبی مشیر اور ایران کی سیکیورٹی و جوہری پالیسی سازی میں اہم شخصیت، 28 فروری کو تہران میں امریکی اسرائیلی حملوں میں شہید ہو گئے۔

وہ اس سے قبل جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران اپنے گھر پر ہونے والے ایک حملے میں محفوظ رہے تھے۔

اعلیٰ عسکری کمانڈر

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کی سب سے طاقتور فوجی قوت پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور28 فروری کو تہران میں ہونے والے حملوں میں شہید کر دیے گئے۔

انہوں نے اپنے پیشرو حسین سلامی کی شہادت کے بعد جون میں 12 روزہ جنگ کے دوران اس عہدے کا منصب سنبھالا تھا۔

محمد پاکپور — فائل فوٹو
محمد پاکپور — فائل فوٹو

ایران کے وزیرِ دفاع اور پیشہ ور فضائیہ افسر عزیز ناصرزادہ 28 فروری کو تہران میں اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے والی اسی لہر میں شہید ہوئے۔ انہوں نے عسکری منصوبہ بندی اور دفاعی پالیسی میں اہم کردار ادا کیا۔

ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی، 28 فروری کو تہران میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران ہونے والے حملوں میں شہید کیے گئے۔ وہ ایران کی افواج کے مختلف شعبوں میں رابطہ کاری اور روایتی فوجی قوت کی نگرانی کے ذمہ دار تھے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بسیج نیم فوجی فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی، 17 مارچ کو امریکی اسرائیلی حملوں میں شہید کیے گئے۔ وہ داخلی سیکیورٹی اور ریاستی اختیار کے نفاذ میں مرکزی کردار ادا کرنے والی فورس کی قیادت کر رہے تھے۔

پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے انٹیلی جنس سربراہ بہنام رضائی، 26 مارچ کو بندر عباس میں ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق وہ علاقائی ممالک سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کے ذمہ دار تھے۔

خاص رپورٹ سے مزید