• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

بابراعظم کو کپتان بنانے کے فیصلے پر شاہین آفریدی ناراض؟

شاید اس بات کا بابر اعظم کو بھی یقین نہیں تھا کہ ان کو پانچ ٹی ٹوئینٹی انٹر نیشنل میچوں کے بعد چار ماہ کے اندر وائٹ بال کی کپتانی واپس ملے گی، چار ٹیسٹ کرکٹرز پر مشتمل سلیکشن کمیٹی نے ایک بار پھر بابر اعظم کے سر پر کپتانی کا تاج سجا دیا۔ شاہین شاہ آفریدی ابھی لاہور قلندرز کی پی ایس ایل میں بدترین کارکردگی سے سنبھلے نہیں تھے کہ ان کو کپتانی سے ہٹاکر ان کو 440والٹ کا جھٹکا پہنچایا گیا۔

وہ کرکٹرز جو ٹی وی پر بیٹھ کر بابر اعظم کی کپتانی کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے ان کی رائے یک دم تبدیل ہوگئی۔ وہاب ریاض، عبدالرزاق، محمد یوسف اور اسد شفیق کی رائے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے بابر اعظم کو کپتانی سونپ دی کیوں کہ چیئرمین محسن نقوی نے کپتان تبدیل کرنے کا اپنا اختیار سلیکٹرز کو سونپ دیا تھا۔ یہ صرف پاکستان میں ہی ہوسکتا ہے کیوں کہ ماضی میں کئی بار کرکٹرز بورڈ کے ہاتھوں استعمال ہوئے اور کئی بار بورڈ کو کھلاڑی بلیک میل کرتے رہے۔

ہوسکتا ہے کہ بابر اعظم کپتان بن کر ٹیم کو بہتر بنادیں لیکن اس کی کون ضمانت دے گا اس بار ان کے پاس کون سا چراغ ہے جو ورلڈ کپ میںنہیں تھا۔بابر اعظم کو جس طرح کپتان بنایا گیا اس سے شاہین آفریدی بھی ناخوش ہیں۔ انہوں نے پی سی بی کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کی بھی تردید کردی۔ 

محسن نقوی نے شاہین سے علیحدہ ملاقات نہیں کی لیکن چیئرمین محسن نقوی نے کاکول میں پاکستانی ٹیم کے فٹنس کیمپ میں کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور کہا کہ اس وقت جو فیصلے ہورہے ہیں وہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لئے ہورہے ہیں۔ ٹیم میں کسی قسم کی گروپ بندی نہیں ہونی چاہیے، سب کو ایک ٹیم ہوکر کھیلنا ہوگا۔

انہوں نےکھلاڑیوں کے ساتھ ملاقات کی۔ جس میں انہوں نے کھلاڑیوں کو بتایا کہ وہ محنت کریں تاکہ پاکستانی ٹیم مستقبل کے اسائمنٹ میں قوم کی توقعات پر پورا اترے۔ میں اپنے کرکٹرز کو سپورٹ کرنے پر پاک فوج کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ان کا تعاون نہ صرف ہمارے کھلاڑیوں کی فٹنس لیول میں اضافہ کرے گا بلکہ مستقبل میں انہیں مزید نظم و ضبط کا پابند بھی بنائے گا۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ بابر اعظم کو پاکستان کے وائٹ بال کپتان مقرر کرنا ایک اسٹریٹجک قدم ہے جس کا مقصد کھلاڑیوں کی اعلیٰ کارکردگی کو یقینی بنانا تھا، پاکستان کرکٹ بورڈ نے وائٹ بال کی قیادت کو تبدیل کیا ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ میں شاندار بیٹنگ کے ریکارڈ کے لیے مشہور بابراعظم شاہین شاہ آفریدی سے کپتانی سنبھالیں گے۔

شاہین آفریدی نے بلاشبہ خود کو ایک اسٹار فاسٹ بولر ثابت کیا ہے اور انہوں نے کئی برسوں سے پاکستان کے پیس اٹیک کی قیادت کی ہے ، پاکستان بورڈ ان کی بہترین کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے روٹیشن اور آرام کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ یہ فیصلہ کھلاڑیوں کے طویل کریئر اور خاص کر فاسٹ بولرز کو انجریز سے بچانے کے ضمن میں بورڈ کے عزم سے مطابقت رکھتا ہے۔

ورک لوڈ منیجمنٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ پی سی بی کے اہم بولرز اپنے کھیل میں نمایاں رہیں۔ بورڈ نہیں چاہتا کہ قومی ٹیم بولنگ کے وسائل کے حوالے سے انجریز کے بحران سے دوچار ہو جیسا کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2022 سے پہلے دیکھا گیا تھا جہاں شاہین کی دیکھ بھال کرنی پڑی تھی اور آئی سی سی ون ڈے کرکٹ ورلڈ کپ 2023 میں جب ٹیم کونسیم شاہ کی خدمات حاصل نہیں تھیں15نومبرکو ورلڈ کپ کی ناقص کارکردگی کے بعد بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹادیا گیا تھا۔

شان مسعود کو ٹیسٹ اور شاہین شاہ آفریدی کو ٹی ٹوئینٹی کا کپتان بنایا گیا تھا۔شان مسعود کی کپتانی میں پاکستان کو آسٹریلیا کے ہاتھوں تینوں ٹیسٹ میں شکست ہوئی تھی۔ومبر میں پاکستان کی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل مرحلے تک رسائی میں ناکامی کے بعد سے بابر کی کپتانی کے چار سالہ دور کے خاتمے کی خبریں گرم تھیں اور بابر اعظم کی جانب سے یہ اعلان لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ذکا اشرف سے ملاقات کے بعد سامنے آیا تھا بابر اعظم نے بطور کپتان 20 ٹیسٹ، 43 ون ڈے اور 71 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی اور اب انہوں نے تینوں فارمیٹس میں ٹیم کی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔

اس وقت کپتانی چھوڑنے کے بعد بابر اعظم نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ مجھے وہ لمحہ ٹھیک سے یاد ہے جب مجھے 2019 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کپتانی کرنے کی آفر کے لیے کال موصول ہوئی تھی۔ گذشتہ چار سالوں کے دوران میں نے گراؤنڈ میں اور اس سے باہر متعدد مرتبہ اتار چڑھاؤ دیکھا ہے لیکن میں نے مستعدی اور پورے دل کے ساتھ دنیا میں پاکستان کی عزت اور عظمت برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے، وائٹ بال فارمیٹ میں پاکستان کو سرِفہرست لانے میں کھلاڑیوں، کوچز اور مینیجمنٹ کی مشترکہ کوششیں شامل تھیں لیکن میں اس دوران پاکستان کے پرجوش کرکٹ فینز کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں جنھوں نے اس سفر کے دوران اپنی غیرمتزلزل حمایت جاری رکھی۔ 

میں بطور کپتان پاکستان ٹیم تینوں فارمیٹس سے مستعفی ہو رہا ہوں۔ یہ ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن میرے خیال میں یہی اس فیصلے کا صحیح وقت ہے۔ میں تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کرتا رہوں گا۔ میں نئے کپتان اور ٹیم کی اپنے تجربے اور لگن سے مکمل حمایت کرنے کے لیے تیار ہوں۔بابر اعظم کی ورلڈ کپ 2023 میں بطور کپتان اور بیٹر کی حیثیت کارکردگی ان کے معیار کے اعتبار سے خاصی مایوس کن رہی۔ 

انھوں نے نو میچوں میں 320 رنز بنائے اور اننگز کے اہم موقعوں پر آؤٹ ہوتے رہے۔ نیوزی لینڈ میں پانچ ٹی ٹوئینٹی انٹر نیشنل کی کارکردگی پر شاہین شاہ آفریدی کو کپتانی سے فارغ کردیا گیا ۔بابر جن کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم کوئی ٹائیٹل نہیں جیت سکی ہے ان کا بڑ اامتحان جون میں امریکا اور ویسٹ انڈیز میں ہونے والا ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ ہے۔

شاہین آفریدی کو کپتانی ملنے کے بعد محض ایک ٹی20 سیریز میں قیادت کا موقع فراہم کیا گیا، جس میں پاکستان کو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پاکستان کو اگلی ٹیسٹ سیریز چھ ماہ بعد کھیلنی ہے اس لئے ٹیسٹ کپتان کے بارے میں ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔ پی سی بی نے اعلان کیا کہ بابر اعظم وائٹ بال کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کریں گے۔ 

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی کی متفقہ تجویز کے بعد چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بابر اعظم کو قومی کرکٹ ٹیم کا وائٹ بال (ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی) کپتان مقرر کر دیاہے۔ بابراعظم کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے ٹی20 ورلڈکپ 2021، ٹی20 ورلڈکپ 2022 اور آئی سی سی ون ڈے ورلڈکپ 2023 کھیلا تاہم کوئی ایونٹ نہیں جیت سکا۔ ایشیا کپ بابراعظم نے 2022، 2023 کھیلا اور وہاں بھی ٹائٹل حاصل کرنے سے محروم رہے واضح رہے کہ بابر اعظم نے ورلڈکپ سمیت 71 ٹی ٹوئنٹی میچز میں قومی ٹیم کی قیادت کی ہے، وہ 52 ٹیسٹ، 117 ون ڈے، 109 ٹی ٹوئنٹی میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید