• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیل ایران کے ساتھ تنازعہ کو نہ بڑھائے، دل کے ساتھ دماغ سے بھی سوچے، ڈیوڈ کیمرون

لندن (پی اے) وزیر خارجہ لارڈ ڈیوڈ کیمرون نے اسرائیل کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تنازعہ کو نہ بڑھائے اور ایران کے حملے کا جواب دینے کے حوالے سے دل کے ساتھ دماغ سے بھی سوچے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہئے کہ ایران کا حملہ مکمل طورپر ناکام تھا۔انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ برطانوی شاہی فضائیہ نے ایران کے اسرائیل پر فائر کردہ تھوڑے سے ڈرون مار گرائے۔ ایران نے یہ حملہ ان کے بقول اسی مہینے شام میں ایران کے سفارتی کمپائونڈ پر اسرائیل کے حملے کے جواب میں کیا تھا، جس کی وجہ سے اسرائیل میں خوف پیدا ہوگیا۔اس مسئلے پر دارالعوام کے اجلاس میں وزیراعظم رشی سوناک کے خطاب سے قبل انھوں نے کہا کہ اسرائیل حماس جنگ وسیع علاقائی تنازعے میں تبدیل ہو رہی ہے۔ لارڈ کیمرون نے امریکہ کے صدر جوبائیڈن کی اس بات کی تائید کی کہ اسرائیل ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا کامیابی سے مقابلے کو اپنی کامیابی تصور کرے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل اس کو ایران کی ناکامی تصور کرے۔ انھوں نے اسے ایران کی دہری شکست قرار دیا اور کہا کہ ایران کا حملہ مکمل ناکام تھا اور پوری دنیا کو بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ اس خطے میں ایران کا کتنا مذموم اثر ورسوخ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایران کے فائر کردہ اسلحہ کو مار نہ گرایا جاتا تو ہزاروں افراد ہلاک ہوتے، جن میں شہری بھی شامل ہوتے۔ انھوں نے ایران کی کارروائی کو ناعاقبت اندیشی اور خطرناک قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی سے گریز کے باوجود شاہی فضائیہ اسرائیل کا دوبارہ بھی دفاع کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ ایران نے کہا ہے کہ وہ دوبارہ حملہ نہیں کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ان کے حملے کی ناکامی کے بعد اس اعلان پر مجھے حیرت نہیں ہوئی لیکن ہم حالات پر نظر رکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم جنگ کو وسعت دینے سے گریز کی کوشش کررہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ عراق اور شام میں نام نہاد داعش کے خلاف امریکہ کے ساتھ مشترکہ آپریشن میں برطانیہ پیچھے رہ کر کام کررہا ہے لیکن اگر اس علاقے سے ڈرون گزرے گا تو ہم اسے مارگرائیں گے اور ہمارے طیاروں نے ایسا کیا ہے۔ انھوں نے حماس کے زیر قبضہ یرغمالیوں کو رہا کرانے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہمیں امید ہے کہ کوئی جوابی کارروائی نہیں کی جائے گی اور اس کے بجائے توجہ حماس پر مرکوز کردی جائے گی کیونکہ یرغمالی اب بھی ان کے قبضے میں ہیں اور انھوں نے یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیلی جیلوں سے قیدیوں کی رہائی کی شرط عائد کردی ہے۔ انھوں نے حماس کے ساتھ غزہ کی جاری جنگ کو اس صورت حال کا سبب یا ذمہ دار قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ جنگ جاری رہنے کی ذمہ داری اسرائیل پر نہیں حماس پر عائد ہوتی ہے، اس لئے اب توجہ ان پر دی جانی چاہئے۔ اتوار کو G7 کے رہنمائوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو متنبہ کیا کہ یہ جنگ ناقابل کنٹرول علاقائی تنازعے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اس صورت حال کی روک تھام کی جانی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ علاقے کو مزید عدم استحکام سے روکنے کیلئے ہم سب ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب تمام نگاہیں اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کے اس خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ردعمل پر ہیں۔ انھوں نے تحمل سے کام لینے اور تنازعے کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیبر پارٹی کے شیڈو وزیر دفاع جون ہیلے نے سوناک پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کی راہ پر زور دیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں فوجی کارروائی کے اسباب اور اس کی قانونی حیثیت بتائی جائیں لیکن اس سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ ہمیں بتایا جائے کہ برطانیہ کی حکومت کشیدگی میں کمی کرنے، استحکام بحال کرنے، امن کی راہ اختیار کرنے اور غزہ میں جنگ بندی کیلئے سفارتی سطح پر کیا کررہی ہے؟۔

یورپ سے سے مزید