نائب وزیراعظم اور نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی کے چیئرمین اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں مزید 24قومی ادارے نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔اجلاس میں پانچ سالہ پروگرام کے تحت 40مزید ادارے پرائیویٹ سیکٹر کو سونپنے کا جائزہ لیا گیاجبکہ خسارے میں چلنے والے محکموں کی نجکاری اولین ترجیح قرار پائی۔یاد رہے کہ مختلف وزارتیں اس سے پہلے ہی 60سے زائد اداروں کو قومی لحاظ سے انتہائی اہم قرار دے چکی ہیں۔ اسحاق ڈار نے ان کی حیثیت کے دوبارہ تعین کی متعلقہ حکام کو ہدایت کی۔اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں کی رو سے اولین ترجیحات میں پی آئی اے،فرسٹ ویمن بینک،ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن،پیکو اور جنکو ون،ٹو، تھری اور فور جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں لیسکو، پیسکو،سیپکو، آئیسکو، میپکو،جیپکواورحیسکو شامل ہیں۔اسٹیٹ لائف انشورنس،سندھ انجینئرنگ اور پاکستان ری انشورنس کارپوریشن پہلے ہی نجکاری فہرست کا حصہ ہیں۔اجلاس میں او جی ڈی سی کے 32کروڑ سے زائد حصص وزارت توانائی کو منتقل کرنے پر بھی غور کیا گیا۔واضح رہے کہ حکومت کے نجکاری پروگرام میں وہ سرکاری ادارے شامل ہیں جن میں بدعنوانی پائی جاتی ہے یا وہ پرائیویٹ سیکٹر سے مقابلہ و مسابقت کی طاقت نہیں رکھتے بلکہ حکومت پر بوجھ بن گئے ہیںاور سرکاری خزانے سے فنڈ لے کراپنے ملازمین کو تنخواہیں ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔جس رفتار سے ملک کی آبادی بڑھ رہی ہے،بہت سے شعبوں میں نئی سرمایہ کاری یا اداروں کو وسعت دینا لازمی ہوگیا ہے لیکن بڑھتے ہوئے منفی رجحانات اور عدم توجہ نے اس سوچ و فکر اور عملی اقدامات کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔دنیا میں مقابلے و مسابقت کا کلچر بڑھ رہا ہے جس کی پاکستان میں ترویج لازمی ہوگئی ہے اور قومی اداروں کے خسارے میں چلانے کا اب کوئی تصور نہیں۔