• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہماری اپنی زندگی تو فانی ہے، لیکن ہم نے اِس میں لافانی اور طلسماتی کردار دیکھے ہیں۔ ایسے کردار جو دیکھنے میں عام سے نظر آتے تھے، مگر اُن کی شخصیتیں بے مثال اور بے کنار تھیں۔ دور کیوں جایئے، ہم نے اپنے درمیان ایدھی صاحب کو چلتے پھرتے اور ایک لازوال شخصیت بنتے دیکھا جو ہمارے پورے عہد کو شاداب کر گئی۔ یہ 1958ء کے اوائل کا واقعہ ہے جب میں نے اُن کا نام پہلی بار اخبار میں پڑھا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان سیاسی عدم استحکام سے دوچار کیا جا رہا تھا۔ اِن دنوں اسکندر مرزا صدرِ پاکستان تھے اور وہ پے درپے حکومتیں تبدیل کرنے کی مشق جاری رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے 1956ء کے دستور کے تحت حلف اُٹھایا اور وہ اِسی کے خلاف بیان داغتے رہے۔ اِس وقت پارلیمان کے ارکان کی تعداد اسّی کے لگ بھگ تھی جو مختلف سیاسی جماعتوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ان دنوں پاکستان کا دارالحکومت کراچی تھا جو سازشوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔
1958ء کے ابتدائی مہینوں میں کراچی کارپوریشن کے انتخابات بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منعقد ہوئے جس میں جماعت اسلامی نے 24نشستیں حاصل کیں۔ یہ اِس کی عوامی قوت کا پہلا زبردست مظاہرہ تھا جو بہت سے لوگوں کے لیے ایک اچنبھے کی بات تھی۔ کامیاب ہونے والوں میں عبدالستار ایدھی کا نام بھی تھا۔ عرصے سے جماعت اسلامی کے شعبۂ خدمتِ خلق سے وابستہ چلے آ رہے تھے جو حکیم اقبال حسین (مرحوم) کی سربراہی میں چل رہا تھا۔ جماعت اسلامی نے لوگوں کی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے گشتی دواخانوں کا ایک نظام وضع کر رکھا تھا جو کراچی کے محلوں اور گلیوں میں جاتے اور روزانہ ہزاروں مریض اُن سے مستفید ہوتے اور شفا پاتے۔ ذہنی صحت اور فکری نشوونما کے لیے اِسی جماعت نے محلے محلے دارالمطالعے قائم کیے تھے جن میں بزرگ بھی آتے اور نوجوان بھی۔ اخبارات اور کتابوں کا مطالعہ کرتے، ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتے اور مقامی اور ملکی مسائل پر تبادلۂ خیال بھی کرتے۔ عبدالستار ایدھی جنہوں نے جماعت اسلامی کے شعبۂ خدمت خلق میں انسانی خدمت کا راز پا لیا تھا، وہ آگے چل کر غریبوں، ناداروں، بے سہارا بچوں اور بے گھر لڑکیوں، زخموں سے نڈھال شہریوں اور گلی سڑی لاشوں کے لیے مسیحا ثابت ہوئے۔ اُنہوں نے ایدھی مراکز، یتیم خانے، خواتین کے لیے پناہ گاہیں قائم کیں اور ایشیا کا سب سے بڑا ایمبولینس سروس کا بیڑا بنایا جو پانچ ہزار ایمبولینسز پر مبنی ہے اور دن رات کام کرتا ہے۔ ایدھی صاحب نے اپنی دیانت، امانت اور بے لاگ خدمت کی بدولت عوام کا ایک ایسا اعتماد حاصل کر لیا تھا جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ اُن کی ایک اپیل پر مردوزن عطیات کی بارش کر دیتے۔ دراصل انہوں نے اپنے نفس پر مکمل قابو پا لیا تھا اور خدمتِ خلق کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا تھا۔ اِس عظیم الشان مشن نے اُن کو وہ عظمت عطا کی جو مملکت کے سربراہوں کو بھی میسر نہیں آئی۔ وہ انسانیت، امن اور اتحاد کے علمبردار تھے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1994ء میں کراچی لہو لہو تھا اور آئے دن سینکڑوں لاشیں گر رہی تھیں۔ تب ہمارے عہد کی طلسماتی شخصیت حکیم محمد سعید (شہید) آگئے آئے اور اُنہوں نے پورے ملک سے ممتاز ادیبوں، شاعروں، قلم کاروں اور سماجی شخصیتوں کو کراچی آنے کی دعوت دی اور ایک آرام دہ ٹرک میں اِن تمام اشخاص کو بٹھایا جس نے پورے کراچی شہر کا دورہ کیا۔ یہ ادیب اور فن کار اپنی مختصر اور نہایت مؤثر تقریروں میں امن کی اہمیت اُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ امن کے دشمنوں کے خلاف سینہ سپر ہونے کا اعلان کرتے رہے۔ میں بھی اِس ’کاروانِ امن‘ میں شامل تھا اور محمد صلاح الدین شہید اور عبدالستار ایدھی (مرحوم) بھی۔ ایدھی صاحب نے سادہ زبان میں بڑی کام کی باتیں کیں اور اِس عزم کا اعلان کیا کہ ہم امن دشمنوں کا ہر محاذ پر مقابلہ کریں گے اور انسانیت کا شرف پامال نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے دوچار جماعتیں ہی پڑھی تھیں، مگر قدرت نے انہیں بڑی حکمت عطا کی تھی۔ اِس حکمت کا جوہر سادگی، بے نفسی، ایثار کیشی اور موت سے بے خوفی تھا۔ وہ اپنے پیچھے دو کمروں کا اپارٹمنٹ، کپڑوں اور ہوائی چپل کا ایک جوڑا چھوڑ کر گئے اور اپنی آنکھیں دو نابیناؤں کی نذر کر گئے۔ یہ طلسماتی کردار پاکستان کو عالمی برادری میں بہت ممتاز کرتا ہے اور اِسی لیے ریاست نے اِسے بڑے تزک و احتشام سے دفن کیا ہے اور سیاسی اور عسکری قیادتوں نے اُن کی عظمت کے آگے اپنے سر خم کر دیئے ہیں۔ پوری قوم نے اِس بے مثال شخصیت کے اُٹھ جانے پر شدید حزن و ملال کا اظہار کیا ہے، مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ جناب وزیراعظم نوازشریف، جو غسلِ صحت کے بعد تازہ دم اور اسمارٹ نظر آ رہے ہیں، کیا وہ عبدالستار ایدھی کے مشن کو ریاستی اداروں کے ذریعے آگے بڑھا سکیں گے۔ اصل میں یہ ذمے داریاں ریاست کی ہیں اور اُن کی ادائیگی میں سوسائٹی کے مخیر حضرات کا تعاون حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن اِس کے لیے اِس جذبے کی پرورش ازبس ضروری ہے جس کا مظاہرہ ایدھی صاحب تمام عمر کرتے رہے۔ ہماری اشرافیہ جو حرص و ہوس کے شرمناک مناظر پیش کر رہی ہے، اِس کے اندر بنیادی تبدیلی لانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ اِسے نوشتۂ دیوار پڑھ لینا اور ہمارے حکمرانوں میں خود احتسابی کا شعور پختہ ہو جانا چاہیے۔
انہی دنوں مقبوضہ کشمیر میں تحریکِ آزادی میں ایک مقناطیسی کردار کی شہادت نے ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ برہان الدین وانی کی چھ سالہ جدوجہد ایک ایمان افروز داستان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کشمیری نوجوانوں میں آزادی کی جوت جگائے رکھی اور اُن میں بھارتی درندوں سے نمٹنے کا حوصلہ تیز تر کیا۔ وانی صاحب کے اندر بھارتی مظالم کا انتقام لینے اور وادیٔ کشمیر کو بھارت کے ظلم و بربریت سے آزاد کرانے کا جذبہ اُس وقت پیدا ہوا جب انہوں نے 2010ء میں بھارتی کمانڈوز کے ہاتھوں اپنے بڑے بھائی خالد پر ناقابلِ تصور تشدد ہوتے دیکھا۔ اُن کی عظیم الشان جدوجہد سے لاکھوں بطلِ حریت پیدا ہوئے جو وانی کے جنازے میں شریک ہوئے اور آزادی کا علم نہایت مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت نے کرفیو نافذ کر دیا ہے، مگر کشمیری جاں نثار مظاہرے کر رہے، پاکستان کے پرچم لہرا رہے اور مودی کے اقتدار کے لیے زبردست چیلنج بن چکے ہیں۔ اُن پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں اور اب تک چالیس سے زائد آزادی کے متوالے شہید ہو چکے ہیں۔ دو ہزار سے زائد شدید زخمی ہیں اور سینکڑوں گولیاں لگنے سے نابینا ہو چکے ہیں۔ حریت کانفرنس کی پوری قیادت جیلوں میں ہے۔ ہسپتالوں میں زخمیوں پر بھی تشدد کیا جا رہا ہے اور اُن پر بغاوت کے مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ خواتین بھی بڑی تعداد میں حوالۂ زنداں ہیں اور وادیٔ کشمیر مقتل گاہ کا منظر پیش کر رہی ہے۔
اس غیرمعمولی صورت حال سے پاکستان کی ذمے داریوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ وزیراعظم نے آج لاہور میں جواں ہمت اور مظلوم کشمیریوں کے ساتھ عملی یک جہتی کی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے کابینہ کا اجلاس طلب کیا ہے اور مشیر خارجہ جناب سرتاج عزیز پالیسی بیان دے چکے ہیں کہ اِس خطے میں قیامِ امن کا دارومدار کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے پر ہے۔ دو روز قبل آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی ہے اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرائے اور خطے میں امن کے لیے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی تسلیم کرے۔ اِس موقع پر مختلف ملکوں میں پارلیمانی وفود جانے چاہئیں جو بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تفصیلات بیان کریں اور کشمیر کا تنازع حل کرنے کی اہمیت مضبوط دلائل کے ساتھ اُجاگر کریں۔ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بھی اِس تاثر کو گہرا کر سکتا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی جائز اور حق پر مبنی جدوجہد کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان کی کشمیر کمیٹی کو بھی فعال ہونا چاہیے اور میڈیا بھی ایک جاندار کردار ادا کرنے کا اعزاز حاصل کر سکتا ہے۔ کشمیر کی وادی آتش فشاں بن چکی ہے اور قدرت کا فیصلہ جلد صادر ہونے والا ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے حکمران عبدالستار ایدھی اور برہان الدین وانی جیسے طلسماتی کرداروں کے اوصاف اور جذبے اپنائیں اور منصب قیادت کے تقاضے پورے کرنے پر کمربستہ ہو جائیں۔
تازہ ترین