لندن (جنگ نیوز) برطانیہ میں اچھے مستقبل اور نوکری کے خواب دیکھنے والے ہزاروں طالب علم ایک عالمی گروہ کو ویزا دستاویزات کے ایک فراڈ میں لاکھوں پونڈ دے چکے ہیں۔ بی بی سی کی ایک تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ میں نوکری کے حصول کے خواہش مند بین الاقوامی طالب علم کس طرح ریکروٹمنٹ ایجنٹ بن کر کام کرنے والوں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں اور ایسے سپانسر شپ سرٹیفکیٹ کیلئے 17ہزار پونڈ تک کی رقم دے چکے ہیں جو انھیں مفت مل جانا چاہیے تھا۔ تاہم جب رقم دینے اور یہ دستاویزات حاصل کرنے کے بعد اب طلبہ نے ’سکلڈ ورکر‘ یعنی ہنرمند کیٹگری کے تحت ویزا کی درخواست دی تو ان کے کاغذات کو نامکمل قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا۔ بی بی سی نے ایسی دستاویزات دیکھی ہیں جن کے مطابق تیمور رضا نامی ایک شخص 141 ویزا دستاویزات مجموعی طور پر ایک ملین پونڈ سے زیادہ کے عوض بیچ چکا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ یہ کاغذات کسی کام کے نہیں تھے۔ تاہم تیمور رضا نامی شخص کا دعوی ہے کہ انھوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور وہ طلبہ کی جانب سے جمع کرائے جانی والی کچھ رقم ان کو لوٹا چکے ہیں۔ تیمور رضا نے برطانیہ میں ویسٹ مڈلینڈز میں دفاتر لے رکھے ہیں جہاں عملہ کام کرتا ہے اور انھوں نے درجنوں طلبہ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ کیئر ہومز میں نوکری کیلئے انھیں سپانسرشپ دلائیں گے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ تیمور رضا نے قانونی دستاویزات بیچنا شروع کی تھیں اور چند طلبہ نے ویزا حاصل کرنے کے بعد واقعی نوکری حاصل بھی کی لیکن بہت سے طلبہ اپنی ساری جمع پونجی بے وقعت کاغذات پر خرچ کر چکے ہیں۔ بی بی سی نے 17افراد سے بات چیت کی جو نوکری کا ویزہ حاصل کرنے کی کوشش میں بہت سے پیسے گنوا چکے ہیں۔ تین طلبہ نے مختلف ایجنٹوں کو 38ہزار پونڈ کی رقم دی۔ انڈیا سے تعلق رکھنے والی ان طلبہ کا کہنا ہے کہ انھیں سہانے خواب دکھائے گئے تھے کہ برطانیہ میں ان کی قسمت بدل جائے گی۔ لیکن اب وہ سب کچھ لٹا چکی ہیں اور اپنے خاندان والوں کو سچ بتانے سے بھی ڈر رہی ہیں۔ ایک خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’میں یہاں (برطانیہ میں) پھنس چکی ہوں۔ اگر میں واپس جاؤں تو خاندان کی ساری جمع پونجی ضائع ہو جائے گی‘۔ یاد رہے کہ برطانیہ کا کیئر شعبہ جس میں کیئر ہومز اور ایجنسیاں شامل ہیں میں2022میں ایک لاکھ65ہزار آسامیاں خالی پڑی تھیں۔ اسی وجہ سے حکومت نے بین الاقوامی افراد کو درخواست دینے کی اجازت دی اور انڈیا، نائجیریا اور فلپائن جیسے ممالک سے بہت سے لوگوں نے دلچسپی ظاہر کی لیکن نوکری کے حصول کے لیے سپانسر کی شرط لازمی تھی (یعنی کوئی رجسٹرڈ کیئر ہوم یا ایجنسی) اور ایک شرط یہ بھی تھی کہ سپانسر یا ویزا کے لیے درخواست دینے والوں کو خود کچھ خرچ نہ کرنا پڑے لیکن اس راستے کے آغاز کے ساتھ ہی فراڈ بھی شروع ہو گیا۔ جن طلبہ سے ہم نے بات چیت کی وہ قانونی طور پر برطانیہ میں رہنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جنھیں ان کے ملک واپس بھجوایا جا سکتا ہے۔ انڈیا سے تعلق رکھنے والی نادیہ، جن کا فرضی نام استعمال کیا جا رہا ہے، 2021میں سٹڈی ویزا پر کمپیوٹر سائنس پڑھنے برطانیہ پہنچی تھیں۔ ایک سال بعد انھوں نے 22ہزار سالانہ فیس کی ادائیگی کرنے کے بجائے نوکری کی تلاش شروع کر دی۔ ان کو ایک ایجنٹ کا نمبر ان کی ایک دوست نے دیا اور کہا کہ وہ انھیں ایسے کاغذات فراہم کر سکتا ہے جن کی مدد سے ان کو 10ہزار پونڈ میں کیئر ہوم میں نوکری مل سکتی ہے۔ نادیہ کہتی ہیں کہ ایجنٹ نے ان سے کہا کہ ’میں آپ سے زیادہ پیسے نہیں لوں گا کیوں کہ آپ کی شکل میری بہنوں سے ملتی ہے۔‘ وولورہیمپٹن میں رہائش پذیر نادیہ کے مطابق انھوں نے آٹھ ہزار پونڈ کی رقم دی اور پھر چھ ماہ بعد ان کو کاغذات ملے جن میں لکھا ہوا تھا کہ وہ والسال کے ایک کیئر ہوم میں کام کر سکتی ہیں۔ نادیہ بتاتی ہیں کہ ’میں نے سیدھا اس کیئر ہوم فون کیا اور اپنے ویزا کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ہم نے سپانسر کا سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیا کیوں کہ ہمارے پاس عملہ مکمل ہے۔‘ جب نادیہ نے ایجنٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو اس نے نادیہ کے نمبر کو بلاک کر دیا۔ ایسے میں نادیہ کو مشورہ دیا گیا کہ وہ پولیس کے پاس جائیں لیکن انھوں نے خود بی بی سی کو بتایا کہ وہ خوفزدہ تھیں۔ برمنگھم میں رہائش پذیر نیلا، جن کا فرضی نام استعمال کیا گیا ہے، کہتی ہیں کہ ان کے اہلخانہ کا ماننا تھا کہ برطانیہ میں کام سیکھ کر وہ انڈیا واپس جا کر زیادہ پیسے کما سکیں گی۔ انھوں نے بتایا کہ ’میرے سسر فوج میں تھے اور انھوں نے اپنی ساری جمع پونجی مجھے سونپ دی۔‘ نیلا بھی اپنا سٹوڈنٹ ویزا کیئر ورکر کے ویزا میں بدلوانا چاہتی تھیں۔ انھوں نے ایک مقامی ٹرینگ ایجنسی میں ایجنٹوں سے ملاقات کی جو بظاہر بلکل مصدقہ کام کر رہے تھے۔ نیلا کا کہنا ہے کہ انھوں نے ویزا کی کاپیاں، خطوط اور ای میلز دکھائیں۔ نیلا کو یقین تھا کہ ان کی زندگی بدلنے والی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’پہلی ملاقات میں جیسے وہ ہم سے ملے، انھوں نے ہمارا اعتماد جیت لیا۔‘ نیلا نے 15ہزار پونڈ کی رقم دی جس کے بدلے ملنے والے کاغذات بے وقعت تھے اور ہوم آفس نے انھیں مسترد کر دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی زندگی تباہ ہو چکی ہے لیکن ان سے ’فراڈ کرنے والے کھلے عام گھوم رہے ہیں اور انھیں کوئی خوف نہیں۔‘ بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ تیمور رضا نامی پاکستانی شہری، جو برمنگھم میں کام کرتے ہیں، ایک ایسے ہی نیٹ ورک کے سربراہ ہیں۔ تیمور رضا نے ویسٹ مڈلینڈز میں ریکروٹمنٹ ایجنسیوں سے رابطہ کیا اور کیا کہ وہ کیئر ہومز میں نوکری دلوا سکتا ہے اور ان کے کلائنٹس کے لیے ویزا درخواست کا انتظام کروا دے گا۔ بی بی سی نے ایک سپانسر شپ دستاویزات کی ایک ایسی فائل دیکھی جو تیمور نے ایک ایجنسی کو 141لوگوں کیلئے فراہم کیں۔ ان میں سے ہر فرد نے 10ہزار سے 20 ہزار پونڈ تک کی رقم دی جو مجموعی طور پر ایک عشاریہ دو ملین پونڈ بنتی ہے۔ بی بی سی نے تصدیق کی کہ تیمور رضا نے یہ دستاویزات پی ڈی ایف فائل کی شکل میں واٹس ایپ کی مدد سے بھیجیں۔ ان میں سے 86کو ایسے کاغذات دیئے گئے جنھیں مسترد کر دیا گیا جبکہ 55کو ویزا تو ملا لیکن نوکری نہیں ملی۔ بی بی سی نے تیمور رضا سے رابطہ کیا جو دسمبر 2023سے پاکستان میں ہیں۔ انھوں نے ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے دعوے ’جھوٹے‘ اور ’یکطرفہ‘ ہیں اور انھوں نے اپنے وکیل سے رابطہ کر لیا ہے۔ تیمور رضا نے انٹرویو کی درخواست پر جواب نہیں دیا۔ ایک طالب علم اجے تھنڈ نے بتایا کہ وہ تیمور کیلئے کام کرتے تھے۔ اس سے پہلے وہ کیئر ہوم ویزا کیلئے انھیں 16ہزار پاؤنڈ دینے کا دعوی بھی کرتے ہیں وہ ان چھ لوگوں میں سے ایک تھے جنھیں ہفتے میں کاغذات جمع کرنے اور درخواست گزاروں کے فارم بھرنے کے عوض 500سے 700پونڈ تنخواہ ملتی تھی۔ اجے کا کہنا ہے کہ تیمور ان سمیت دیگر اراکین کو دبئی سیر کروانے بھی لے کر گیا تھا۔ تاہم اپریل 2023میں اس وقت ان کو شک ہوا جب انھوں نے دیکھا کہ زیادہ تر درخواستیں ہوم آفس سے مسترد ہو رہی ہیں۔ ان کے چند دوست بھی مجموعی طور پر اس وقت تک 40ہزار پونڈ دے چکے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے رضا کو بتایا اور اس نے کہا کہ تمھارا ذہن دباو برداشت نہیں کر سکتا، یہ کام تم مجھے کرنے دو۔‘ اجے کا کہنا ہے کہ ان کے باس بہت سے ایجنسیوں کے ساتھ کام کر رہے تھے اور ایک عشاریہ دو ملین ڈالر کی رقم اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ تاہم زیادہ تر متاثرین نے پولیس سے رابطہ نہیں کیا۔ ورک رائٹس سینٹر میں امیگریشن سربراہ لوک پائپر کا کہنا ہے کہ ’بہت سے لوگ ہوم آفس کے خوف سے پولیس سے رابطہ نہیں کرتے ہیں۔‘ ان متاثرہ افراد نے ویسٹ مڈ لینڈز میں واقع گردوارہ بابا سانگ جی سے مدد مانگی جس کے اراکین ایسے ایجنٹوں کے خلاف کام کر رہے ہیں جو وعدے پورے نہیں کرتے اور ان کے مطابق وہ چند ایسے ایجنٹوں سے کچھ افراد کے پیسے واپس بھی حاصل کر چکے ہیں۔ نومبر 2023میں تیمور رضا کو بھی ایک ملاقات کیلئے بلایا گیا جہاں گوردوارے کے منتظمین کے مطابق تیمور نے پیسے واپس کرنے اور اپنی سرگرمیاں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ مونٹی سنگھ کہتے ہیں کہ ان سے سینکڑوں لوگوں نے رابطہ کیا ہے۔ انھوں نے 2022میں ایسے کیسوں پر کام شروع کیا اور سوشل میڈیا پر انھیں دھوکہ دینے والوں کی نشان دہی سے آغاز کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے لوگوں کو علم ہو گا کہ وہ ان افراد پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ سوشل میڈیا پر ان کی مہم دیکھنے کے بعد مزید متاثرہ افراد سامنے آئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ فراڈ کرنے والے دوسرے لوگوں کی مدد سے ایسا کرتے ہیں جن کو کمیشن ملنے کی امید ہوتی ہے۔‘ ان کے مطابق ایسے لوگوں میں بس ڈرائیور اور حجام تک شامل تھے جن کو پیسہ بنانے کا موقع نظر آیا۔ مونٹی کا کہنا ہے کہ تیمور رضا نے دو لاکھ 58ہزار پونڈ لوٹائے ہیں لیکن اب وہ یہ معاملہ نیشل کرائم ایجنسی کو سونپ چکے ہیں۔ ان کے مطابق چند اور ایجنٹ بھی اپنے خاندان کو بچانے کے لیے پیسہ لوٹا چکے ہیں۔ ’ہم نے شواہد دیکھے اور پھر ان لوگوں کے خاندان والوں سے بات کی اور اسی شرم کی وجہ سے یہ لوگ اپنے خاندان کا نام بچانے کے لیے رقم لوٹا دیتے ہیں۔‘ برطانیہ میں نوکری حاصل کرنے کے لیے ویزا درخواستوں میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور جون 2022 سے جون 2023 تک 26ہزار درخوستیں موصول ہوئی ہیں جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریبا چار ہزار زیادہ ہیں۔ گزشتہ سال جولائی میں ہوم آفس نے قوانین میں تبدیلی کی تھی تاکہ بین الاقوامی طالب علم تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ورک ویزا حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ تاہم سکھ سینٹر کا کہنا ہے کہ پولیس اور حکام کی سخت کارروائی ہی ایسے غیر قانونی فراڈ کو روک سکتی ہے۔ جس کور کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان جیسے مذہبی سربراہان سے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ہوم آفس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’فراڈ پر مبنی ویزا درخواستوں کی نشان دہی کرنے کے لیے مربوط نظام موجود ہے اور فراڈ کا نشانہ بننے والوں کو علم ہونا چاہیے کہ ان کا سپانسر شپ سرٹیفیکیٹ اگر درست نہیں تو ان کی درخواست مسترد ہو جائے گی۔‘ ورک رائٹس سینٹر کے لوک پائپر کا کہنا ہے کہ ’حکومت کو چاہیے کہ متاثرہ افراد کی مدد کرے اور ایسا ماحول پیدا کرے جس میں یہ لوگ کسی خوف کے بغیر رپورٹ کر سکیں۔‘ فراڈ یا دھوکے کی وجہ سے ایجنٹوں کو پیسے دے کر لٹنے والوں کی درست تعداد کے بارے میں کسی قسم کے اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ لوک پائپر کا کہنا ہے کہ ’یہ واضح ہے کہ یہ کام پڑے پیمانے پر ہو رہا ہے کیوں کہ ملک بھر سے ایسی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔‘ سکھ سنٹر کو امید ہے کہ وہ انڈیا میں لوگوں کو آگہی دے کر ان خطرات سے آگاہ کر سکتے ہیں کہ ملک چھوڑ کر تعلیم یا نوکری کی تلاش میں انھیں کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ مونٹی کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کو یہ تلخ حقیقت بھی بتانا ہو گی کہ چند لوگوں کی کامیابی کی کہانی کا مطکب یہ نہیں ہوتا کہ ایسا ہر کسی کے ساتھ ہو گا۔