برمنگھم (آصف محمود براہٹلوی) امام اعظم امام ابو حنیفہ نے فقہی مسائل کا ایسا آسان زبان میں حل بتایا جس پر پوری امت متحد و متفق ہے اور قرآن و سنت کے عین مطابق ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کی اعلی علمی بصیرت کا اندازہ ان کے شاگردوں کی تعداد اور ان کی علمی بصیرت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار چھٹی عظیم الشان امام اعظم ابو حنیفہ رحمتۃاللہ علیہ کانفرنس مکی مسجد ہینڈز ورتھ میں علمائے کرام نے کیا۔کانفرنس زیر صدارت حاجی عبدالرشید منعقد ہوئی جس کا آغاز حافظ محمد اسماعیل نے تلاوت قران کریم سے کیا۔قاری ذوالفقار احمد نے حمد باری تعالی پیش کی ۔برطانیہ کی مشہور علمی شخصیت مولانا محمد قاسم نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مختصر سوانح حیات پر گفتگو میں امام صاحب کی حضرات صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین کرام سے ملاقات اور امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے برگزیدہ اساتذہ کا تذکرہ کیا اور کہا کہ امام صاحب وہ خوش قسمت شخصیت تھی جن کو آپنی آنکھوں سے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی بار بار زیارت نصیب ہوئی اور امام صاحب کو خیر القرون کا زمانہ نصیب ہوا۔ مولانا محمد سرفراز مدنی نےامام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی دینی خدمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہامام صاحب پر اعتراض کرنے والوں کو ہمیشہ منہ کی ہی کھانی پڑی، اللہ نے امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی عزت میں مزید اضافہ فرمایا، مغرب کی نماز کے بعد کانفرنس کا دوسرا سیشن شروع ہوا ،مولانا احمد عمران امام خطیب مکی مسجد نےانگلش میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مقام اور مرتبے کو ان کے ہم عصرعلماء کی زبان میں بیان کیا۔ مہمان خصوصی مولانا شیخ ظہیر محمود نےامام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی عظیم الشان دینی خدمات اور فقہی کارناموں کا تذکرہ کیااور کہا امت قیامت تک ان کی خدمات سے مستفید ہوتی رہے گی۔ جمیعت علمائے اسلام برطانیہ کے مرکزی رہنماحضرت مولانا طارق مسعود نے امامابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے افکار ان کی خدمات کوبہترین انداز میں خراج تحسین پیش کیا ۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی مفسر قران مولانا انیس احمد بلگرامی آزاد نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی دنیا میں آمد کی پیشنگوئی قرآن اور حدیث سے مدلل انداز میں بیان کی اور امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی قران کریم اور احادیث مبارکہ سے فقہی مسائل کے استنباط کا تذکرہ کیا اور امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ پروگرام کے اختتام پر قاری اظہاراحمد امام و خطیب مکی مسجد نے مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا آج کا نوجوان قرآن کریم اور حدیث مبارک کو سمجھنے کے لیے تذبذب کا شکار ہے وہ ادھر ادھر بھٹکنے کے بجائے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی علمی تحقیق پر اعتماد کرے اسی کے مطابق زندگی گزارے۔امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق قران و حدیث کے عین مطابق ہے ۔کانفرنس کا اختتام حضرت مولانا فاروق خطیب جامع مسجد برمنگھم کی دعا سے ہوا۔ کانفرنس میں برمنگھم سے بڑی تعداد میں علماء کرام مولانا شاہد،مولانا آفتاب احمد، مولانا شاکر ، مولانا عثمان ایوب، مولانا علی ایوب ، مولانا عمران الحق نقشبندی ،مولانا ضیاءاللہ ہاشمی، مولانا شبیر، قاری زبیر زرین ہزاروی ، عابد ،حافظ امجد خان نے شرکت کی۔ پاکستان کے مشہور قاری سید انوار الحسن شاہ بخاری نے قران کریم کیاپنی خوبصورت آواز میں تلاوت کی تو مجمع ان کی آواز کے سحر میں مبتلا ہو گیا۔مشہور شاعر پروفیسر مطیع الرحمن نے بھی امام ابو حنیفہ کی شخصیت پر گفتگو کی۔