شاہد نعیم..... سعودی عرب
سعودی عرب میں عام طور پر قومی دن کے موقع پر ہر طرف سبز رنگ کے سعودی پرچم لہرائے جاتے ہیں۔ 22 فروری کا دن بھی سعودی عرب کا فاؤنڈیشن ڈے ہے ۔ جب سعودی شہری سڑکوں پر قومی پرچم لے کر نکلے۔ اس سلسلے میں دارالحکومت ریاض اور دوسرے. شہروں کی گلیوں، بازاروں کو ہزاروں سبز پرچموں سے سجایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں بلدیہ، سرکاری اور نجی اداروں نے اپنی عمارتوں کو سبز روشنیوں، پرچموں سے سجادیاہے،جبکہ رہائشی ہزاروں کی تعداد میں اس روز فاونڈیشن ڈے منانے کے لیے پرجوش انداز میں باہر نکل گئے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق پرچموں سے چوراہے، راستے، پل اور عمارات سجادی گئیں،22 فروری کو ملک بھر میں عام تعطیل رہی، موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزاروےافراد نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا رخ بھی کیا۔سعودی پرچم پہلی سعودی ریاست اور جدید بادشاہت دونوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔اس مقصد کے لیے مختلف جگہوں کی ضرورت کے مطابق مختلف سائزوں کے پرجم تیار کرائے گئے ۔ تاکہ دور نزدیک اور بلندیوں پر لگائے گئے پرچم خوب واضح نظر آسکیں۔یہ دن قومی جذبے کو اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر مختلف مقامات پر ریاض میں ہونے والی سرگرمیوں کو دکھایا گیا۔ اس موقع پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کے حوالے سے اہداف اور مملکت کے مستقبل کو بھی گفتگوؤں کا موضوع بنایا گیا، نیز مملکتی تاریخ کو 1727 کی امام السعود کی جدوجہد کے حوالے و تاریخ سے واضح کیا گیا ۔ جو پہلی سعودی ریاست کے آغاز کا حوالہ ہے۔ یوم تاسیسں ہر سال 22 فروری کو منایا جاتا ہے۔ اسلامی دنیا کے اس بڑے ملک کی تاریخ کے تقریباً 300 سالہ سفر میں حالیہ برسوں میں ترقیاتی کاموں میں اضافہ ہوا ہے، اسی مناسبت سے سعودی میڈیا اور سوشل میڈیا پر مملکت کی ترقی کے سفر کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ سعودی یوم تاسیس کے ویب سائٹ کے مطابق مملکت کی ترقی کا طویل سفر تقریباً 300 سال قبل شروع ہوا تھا اور آج سعودی عرب کے نام سے جس ملک کو دنیا جانتی ہے، اس کے ماضی، حال اور مستقبل کے شاندار تاریخ سے سے دنیا کو آگاہ کیاجارہاہے۔امام محمد بن سعود کی جانب سے مملکت کا قیام 22 فروری 1727 کو عمل میں آیا تھا، جس کی مناسبت سے یوم تاسیس منایا جاتا ہے اور 23ستمبر کو شاہ عبدالعزیز کی جانب سے اتحاد کی مناسبت سے اسے ’قومی دن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کئی دنوں، ھفتوں جاری یوم تاسیس کے جشن کے موقع پر مملکت کی ثفافت اور یہاں کے ماضی اور حال میں ہونے والی ترقی کے سفر کے ساتھ ساتھ مستقبل کے وزن 2030، اولمپک 2034کے منصوبوں کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ مورخین نے بڑی محنت سے ان عربی تاریخی یادداشتوں، مخطوطات اور دستاویزات کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے، جس میں ان چیزوں کو سامنے اجاگر کیا گیا ہے جن سے زیادہ تر باقی دنیا ناواقف تھی۔ خیال یہ ہے کہ اس سے سعودی عرب کی شاندار تاریخ کے ان صفحات پر روشنی ڈالی جائے گی جو اب تک صرف عربی زبان میں دستیاب تھے۔گزشتہ برس اقوام متحدہ نے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو نے اپنے گلوبل نیٹ ورک آف لرننگ سٹیز میں تین نئے سعودی شہروں کو شامل کرنے کی منظوری دی۔کنگ عبداللہ اکنامک سٹی اور الاحساء گورنریٹ شامل ہیں اور یہ پیش رفت عالمی سطح پر نہ صرف مسابقتی شہریوں کی آبیاری کے لیے مملکت کی مستحکم ترقی کے اہداف اور سعودی وژن 2030 کے عزائم کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔اس سے قبل یونیسکو کی طرف سے سعودی علاقے درعیہ کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔ یہ مقام دلکش مٹی کی اینٹوں کے محلات کے لیے جانا جاتا ہے، جو سلطنت کی 300 سال سے زیادہ پرانی تاریخ کا مظہر ہے۔ تقریباً 30 سال تک تفریحی مقامات جن میں سنیما گھروں سے لے کر کنسرٹ ہالز کے سعودی عرب میں ممانعت تھی ، جس کی وجہ سے شہریوں اور زائرین کے لیے ثقافتی، کھیلوں یا فنکارانہ سرگرمیوں سے لطف اندوز ہونے کا کوئی موقع نہیں تھا، بیرون ملک سفر کیاکرتے تھے لیکن 2016 میں وژن 2030 کے تحت وسیع پیمانے پر سماجی اور معاشی اصلاحات کا آغاز ہوا اور سعودی عرب میں جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے قیام عمل میں آیا، جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے قیام کے بعد سعودی عرب میں تفریح کے لیے لوگوں کا جوش و خروش ہے اور سیاحتی پروگرام کا حصہ بھی ہے اب، جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کا قیام کا مقصد سعودی معیشت کو تیل پر انحصار سے کم کرنے کیلئے کیا گیا تھا تاکہ سعودی عرب تخلیقی، تفریحی، سیاحتی اور ہائی ٹیک صنعتوں میں صف اول کی جگہ پا سکے۔حالیہ برسوں میں ریاض، جدہ، مشرقی صوبہ طائف، العلا، الدرعیہ اور دیگر مقامات پر کئی ثقافتی وسماجی، سمینارز،کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا جہاں سعودی عرب کی متنوع مقامی ثقافت و تہذیب،اسکالرز، اور روایات کو پیش کیا جاتا رہا جب کہ سعودی نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے جسمیں سعودی عرب خاص طور پر 2019 میں اپنے سعودی ای ویزا کے اجرا کے بعد سے فروغ دینے کے لیے بہت کام کر رہا ہے۔توقع ہے کہ 2030 تک سعودی عرب 100 ملین سے زائد سیاحوں کی میزبانی کرے گا۔ ساحلی پٹی پر بنے شاندار ریزورٹس کے ساتھ ساتھ یہاں کے شاندار قدیم کھنڈرات، وسیع صحرا اور سرسبز پہاڑوں میں مہم جوئی کی سرگرمیاں انہیں کھینچ لائیں گی۔یوم تاسیس منانا ایک روایت ہے، جس کے تحت آنے والی نسلوں کو تاریخ سے روشناس کرانا اور روشن مستقبل سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔یوم تاسیس تاریخ کو اپنی گرفت میں لے کر اسے زندہ کرتا ہے کیونکہ بچے اور بڑے اس دن روایتی ملبوسات پہننے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔لوک داستانوں کے مطابق رقص سعودی قومی تقریبات کا ایک لازمی حصہ ہے اور ان کے ساتھ روایتی گانے بھی معاشرتی پہلوؤں سے ماخوذ ہیں، جو فخر اور جوش کا باعث اور عوام کے درمیان تعلقات کو فروغ دےگا، تلواروں کے ساتھ روایتی رقص ’اردہ‘ اس حوالے سے سرفہرست ہے۔ ماضی میں
جنگیں جیت کر آنے والے مردوں کا فخریہ استقبال اس رقص سے کیا جاتا تھا۔یوم تاسیس کے ساتھ ساتھ دیگر تقریبات میں بھی اردہ رقص پیش کیا جاتا ہے تاکہ سعودیوں کے اتحاد اور یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔اس دن مملکت بھر میں روایتی کھانے اور میٹھے پکوان پکانا اور پیش کرنا عام بات ہے۔ خاص ڈش زعفران اور الائچی کے ساتھ بھنی ہوئی کافی بینز سے عربی قہوہ بھی تیار کی جاتی ہے اور عام طور پر کھجور کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ ریڈیو، ٹی-وی رنگا رنگ پروگرام بھی پیش کررہے ہیں۔