کوئٹہ ( پ ر)زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے 21 فروری کو اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کی جانب سے کلچر ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کے تعاون سے ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار کی صدارت گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے کی۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر برکت شاہ چیئرمین شعبہ پشتو جامعہ بلوچستان تھے۔ ان کے ہمراہ ڈاکٹر طارق سخی، چیئرمین ملا فاضل اکیڈمی اور سابق ڈی جی پی آر نور خان محمد حسنی تھے۔اس موقع پر کلچر ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جناب داؤد ترین نے کہا کہ کلچر ڈیپارٹمنٹ مادری زبانوں کی ترویج و ترقی میں اہم اقدامات کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ فنکاروں، اداکاروں، شاعروں اور ادیبوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کتابوں کے ایوارڈ اور غریب و معذور فنکاروں کو اعزازیہ بھی دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالقیوم بیدار نے کہا کہ مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے اس سیمینار کا مقصد پاکستانی زبانوں کی ترقی کے لیے اقدامات کرنا ہے۔ اس سلسلے میں اکادمی ادبیات پاکستان ملک کی تمام زبانوں میں شائع ہونے والی کتابوں کو سالانہ ایوارڈ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ سہ ماہی ادبیات میں نامور ادباء و شعراء کی نگار شات شائع ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ صوبائی دفاتر میں بھی صوبائی زبانوں کے حوالے سے کام ہو رہا ہے۔ زبانوں کی ترویج و ترقی کے لیے اکادمی ادبیات پاکستان کی کاوشیں قابلِ تعریف ہیں۔اس موقع پر گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے کہا کہ ہماری زبانیں ہماری پہچان ہیں۔ ہم اپنی زبانوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہماری شناخت کا ذریعہ ہیں۔ زبانوں کی ترویج و ترقی کے لیے اقدامات کرنے چایئیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ، نور خان محمد حسنی، سرور سودائی، شیخ فرید، پروفیسر حسین بخش ساجد اور ڈاکٹر طارق سخی نے بھی خطاب کیا۔پروگرام کے آخر میں چیئرمین براہوئی اکیڈمی صلاح الدین مینگل کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا گیا اور اُن کے لیے مغفرت کی دُعا کی گئی۔