• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ: پوسٹ آفس کے دوسرے آئی ٹی اسکینڈل کے متاثرین کی تعداد میں بڑا اضافہ

‎برطانیہ میں پوسٹ آفس کے دوسرے آئی ٹی اسکینڈل کے متاثرین کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ 21 کیسز اب کرمنل کیسز ریویو کمیشن (سی سی آر سی) کو بھیجے جا چکے ہیں، جو ’’کیپچر‘‘ نامی سافٹ ویئر سے جڑی ممکنہ عدالتی ناانصافیوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔

‎گزشتہ سال کرسمس سے پہلے یہ آٹھ کیسز تھے۔ کیپچر 1990 کی دہائی میں پوسٹ آفس برانچوں میں استعمال ہوتا تھا، خراب ہورائزن سسٹم 1999 میں متعارف کرایا گیا، جس کی وجہ سے سیکڑوں سب پوسٹ ماسٹرز کو غلط طور پر چوری کے الزام میں سزا دی گئی۔

‎ایک تحقیقاتی رپورٹ میں یہ امکان ظاہر کیا گیا کہ کیپچر سسٹم بھی اکاؤنٹس میں غلطیوں کا باعث بنا، جس کی وجہ سے 1990 سے 1999 کے درمیان متعدد افراد پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے۔

‎اگر سی سی آر سی کو کوئی اہم نیا ثبوت یا قانونی نکتہ ملتا ہے تو وہ کیسز کو اپیل کورٹ میں بھیج سکتا ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ کیپچر کیسز پر حتمی فیصلہ آنے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں، تاہم امید کی جا رہی ہے کہ پہلا کیس رواں سال کے آخر تک کورٹ آف اپیل میں بھیجا جا سکتا ہے۔

‎متاثرین کے وکیل نیل ہیجیل کا کہنا ہے کہ سی ڈی آر سی اور دیگر تنظیمیں حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں تاکہ متاثرین کو جلد انصاف فراہم کیا جائے۔ ان کے مطابق بہت سے متاثرین عمر رسیدہ ہیں اور زندگی کے اس موڑ پر انصاف کے حق دار ہیں۔

‎متاثرین میں پیٹ اوون نامی خاتون کا کیس سب سے نمایاں ہے۔ 1998 میں ان پر اپنے پوسٹ آفس برانچ سے چوری کا الزام لگا اور انہیں دو سال کی معطلی کی سزا دی گئی۔ اس فیصلے کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل گئی اور وہ 2003 میں دل کے عارضے کے باعث انتقال کر گئیں۔

‎پیٹ کی بیٹی جولیئٹ شارڈلو نے بتایا کہ ہم نے اس بارے میں کبھی بات نہیں کی، نہ خاندان میں اور نہ ہی کسی اور سے۔ آج تک ہمارے رشتہ داروں کو بھی معلوم نہیں۔ ‎پیٹ کے شوہر ڈیوڈ اوون کا کہنا ہے کہ سزا کے بعد ان کی اہلیہ 62 سال کی عمر میں 90 سال کی بوڑھی عورت لگنے لگی تھیں۔

‎پیٹ کے خاندان نے ان کے کیس سے متعلق تمام دستاویزات محفوظ رکھی تھیں۔ اب ان میں سے ایک اہم دستاویز سامنے آئی ہے جو کیس کا رخ بدل سکتی ہے۔ ‎یہ ایک آئی ٹی ماہر کی رپورٹ ہے جس میں کہا گیا کہ پیٹ اوون کے زیر استعمال کمپیوٹر کا مدر بورڈ خراب تھا، جس کی وجہ سے اکاؤنٹنگ میں غلطیاں ہو سکتی تھیں۔

‎یہ آئی ٹی ماہر پیٹ کے دفاع میں عدالت میں گواہی دینے والا تھا، لیکن عین وقت پر غائب ہو گیا۔ خاندان کو کبھی معلوم نہ ہو سکا کہ وہ عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوا۔ ڈیوڈ اوون کو شبہ ہے کہ ماہر نے پوسٹ آفس سے مزید کام حاصل کرنے کےلیے گواہی دینے سے گریز کیا۔

‎دسمبر 2023 میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ ’’کیپچر‘‘ متاثرین کےلیے ایک ازالہ اسکیم متعارف کرائے گی، جیسا کہ ہورائزن کیس میں کیا گیا تھا۔ فی الحال تقریباً 100 افراد اس اسکیم کے تحت معاوضہ حاصل کرنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔

‎متاثرین اور ان کے اہل خانہ انصاف کے منتظر ہیں، اور وکلا کا کہنا ہے کہ یہ قانونی جنگ ابھی جاری رہے گی تاکہ بے گناہ افراد کو انصاف مل سکے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید