برطانیہ میں صحت عامہ کے نظام کو بہتر بنانے کےلیے حکومت نے ملک کے جنرل پریکٹیشنرز کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت مریض زیادہ آسانی سے آن لائن اپائنٹمنٹ بُک کر سکیں گے اور اپنے معمول کے ڈاکٹر سے ملاقات کا مطالبہ کر سکیں گے۔
اس معاہدے کے تحت جی پی پریکٹس کےلیے سالانہ 889 ملین پاؤنڈز کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد مریضوں کےلیے اپائنٹمنٹ حاصل کرنے کے دباؤ اور ڈاکٹروں پر سے غیر ضروری دفتری کام کا بوجھ کم کرنا ہے۔
یہ معاہدہ 2025-26 کے مالی سال میں جی پی سروسز کےلیے 7.2 فیصد اضافی فنڈنگ فراہم کرے گا، جو عملے کی تنخواہوں، عمارتوں کی دیکھ بھال اور مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد جیسے اخراجات کو پورا کرنے کےلیے استعمال ہوگا۔ وزیر صحت و سماجی بہبود، ویس اسٹریٹنگ نے اس اقدام کو تباہ حال این ایچ ایس کو درست کرنے کی جانب پہلا قدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا گزشتہ دہائی میں جی پیز کےلیے فنڈنگ میں کمی کی گئی جبکہ ان پر مختلف اہداف کا دباؤ بڑھایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مریضوں کو اپائنٹمنٹ لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔ اس حکومت نے جی پیز کےلیے اضافی 889 ملین پاؤنڈز فراہم کیے ہیں اور ان پر سے غیر ضروری کاغذی کارروائی کا بوجھ ہٹایا ہے۔ اس کے بدلے مریض زیادہ آسانی سے آن لائن اپوئنٹمنٹ بُک کر سکیں گے اور ہر بار اپنے مخصوص ڈاکٹر سے مل سکیں گے۔
اس معاہدے کے تحت جی پی کلینکس کو مزید عملہ رکھنے میں نرمی دی گئی ہے اور بچوں کی ویکسینیشن مہم کےلیے اضافی معاوضہ دیا جائے گا۔ حکومت کو امید ہے کہ غیر ضروری باکس ٹکنگ ٹارگٹس کو ختم کرنے سے ڈاکٹروں کے لیے زیادہ وقت دستیاب ہوگا اور مریضوں کو صبح 8 بجے اپوئنٹمنٹ کےلیے پریشان نہیں ہونا پڑے گا۔
برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن (بی ایم اے) کی جی پی کمیٹی کی چیئر، ڈاکٹر کیٹی برامال سٹینر نے اس معاہدے کو مثبت پیش رفت قرار دیا لیکن طویل المدتی پالیسی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا ہمیں آنے والے بجٹ میں جی پی پریکٹس کےلیے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی ضرورت ہے۔
یہ تبدیلیاں آہستہ آہستہ اثر دکھائیں گی اور توقع ہے کہ مریض آئندہ 6 سے 12 ماہ میں فرق محسوس کریں گے، جیسے کہ ایک ہی ڈاکٹر سے بار بار معائنہ کرانے کی سہولت اور جی پی کلینکس میں عملے کی بھرتی میں اضافہ۔ تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ صرف پہلا قدم ہے اور انگلینڈ میں جنرل پریکٹس کو مکمل طور پر بحال کرنے کےلیے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔