فرانس نے 24 اور 25 فروری کو دمشق میں ہونے والی قومی مکالمہ کانفرنس کے انعقاد کو مثبت قرار دیا ہے۔ سرکاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ یہ تمام شامیوں کے لیے مکالمے کا کلچر قائم کرنے کی طرف پہلا قدم ہے۔
فرانسیسی حکومت نے کہا شام میں ایک نمائندہ قانون ساز کونسل بنانے، عبوری مدت کےلیے آئینی اعلامیہ اپنانے اور مستقبل کے آئین کا مسودہ تیار کرنے کےلیے آئینی کمیٹی بنانے کے منصوبوں کے اعلان کا خیرمقد م کرتے ہیں۔
فرانس نے کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیہ جس میں بنیادی آزادیوں اور انسانی حقوق کا احترام، تمام شعبوں میں خواتین کی حقیقی شرکت، ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے اور عبوری ادارہ انصاف کا قیام، شام کے پرامن معاشرہ کی ترقی اور تمام سیاسی ہم آہنگی کا فروغ ہوگا۔
فرانسیسی حکومت قومی مکالمے کو طویل مدت تک جاری رکھنے اور شامی معاشرے کے تمام طبقات کے نمائندوں کو بلا استثنیٰ شامل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور ایک ایسے عمل کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا جو آزادی اور وقار کے لیے شامی عوام کی امنگوں کو پوری پورا کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ایک آزاد، متحد، خود مختار اور مستحکم شام کی تعمیر ممکن ہو جائے گی جو اس کے علاقائی ماحول اور عالمی برادری میں مکمل طور پر ضم ہو۔
مزید کہا گیا کہ فرانس شام کی معیشت کی تعمیر نو میں مکمل طور پر شامل ہو گا۔ فرانس نے شام کے بارے میں 13 فروری کی پیرس کانفرنس کے اختتام پر منظور کیے گئے مشترکہ اعلامیہ میں بیان کردہ اصولوں کے لیے بھی اپنے عزم کا اعادہ کیا۔