تفہیم المسائل
سوال: ہمارے بھائی کی وجہ سے ہمیں کارخانے میں نقصان ہوا، والدہ کے کہنے پر باقی بھائیوں نے اس نقصان کو پورا کیا اور کسی نے واپسی کا تقاضا نہیں کیا، آگے پیچھے سب بھائیوں کا انتقال ہوگیا ، 2019ء میں بڑے بھائی ساجد کا انتقال ہوا، تو اُن کے سسر نے ہم سے رقم کا تقاضا کرنا شروع کیا ، ان کا دعویٰ یہ ہے کہ بھائی سے ان کا کوئی لین دین تھا، جس کا ہمیں قطعاً علم نہیں ہے، اس کا کوئی تحریری ثبوت یا گواہ بھی نہیں ہے۔
اب ہمارے والد محمد عاقل کا ترکہ تقسیم کیا جارہا ہے، تو ساجد بھائی کے سسر ہم سے رقم کا مطالبہ کررہے ہیں، جب ساجد بھائی حیات تھے، اُس وقت ہم نے کارخانہ فروخت کیا تھا، جس میں سے ساجد بھائی کو حصہ بھی ملا تھا، اُس وقت سسر صاحب نے تقاضا نہیں کیا، اس کی شرعی حیثیت کیاہے ؟،(محمد ذاکر، کراچی)
جواب: مالی معاملات کے لین دین کا ثبوت دو مرد عادل گواہوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی یا دستاویزات کے ذریعے ہوتا ہے، محض دعویٰ کوئی معنٰی نہیں رکھتا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ترجمہ:’’اے ایمان والو جب تم ایک مقررہ مدت تک کسی دین کا لین دین کروتو اسے لکھ لو ،(سورۂ بقرہ:282)‘‘۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ترجمہ:’’ اورتم اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ بنالو، پھر اگر دو مرد نہ ہوں توایک مرد اور دو عورتیں (ان کو گواہ بنالو) جنہیں تم گواہوں سے پسند کرتے ہو کہ ان دومیں سے کوئی ایک (عورت) اگربھول جائے تواس ایک کو دوسری یاددلادے ،(سورۃالبقرہ:282)‘‘۔
محض دعوے سے مرحوم پر قرضے کا ثبوت نہیں ہوگا بلکہ ثبوت و شواہد بھی پیش کرنا ضروری ہوگا، علامہ نظام الدین رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ ایک شخص نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ میرے حساب سے میرا اس شخص کے ذمے اتنا مال بنتا ہے، یعنی سبب یہ قرار دیا کہ ’’میرے حساب سے اتنا مال بنتا ہے‘‘، یہ سبب صحیح نہیں ہے، کیونکہ (ذاتی) حساب کچھ مال واجب ہونے کا سبب نہیں بنتا،(فتاویٰ عالمگیری ،جلد4، ص:3)‘‘ ۔ یعنی کسی پر ایک فریق کے یک طرفہ دعوے سے حق مال ثابت نہیں ہوتا ،جب تک دونوں کے اقرار یا گواہوں یا قطعی دستاویزی ثبوت سے یہ حق ثابت نہ ہو۔( واللہ اعلم بالصواب )